صحت اور گھریلو معاملات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں،ایمل ولی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک ) عدالت عظمیٰ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے بارے میں پیش کی گئی رپورٹ پر اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کا ردعمل آیا ہے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ آج سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ بحیثیت سیاسی کارکن باعث تشویش ہے، یہ صورتحال نہ حکومت اور نہ ہی ریاست کے لیے نیک شگون ہے، عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ اصولی سیاست پر یقین رکھتی ہے، پاکستان میں اے این پی سے زیادہ کسی اور جماعت کو سیاسی طور پر توڑنے اور دبانے کی کوشش نہیں کی گئی، اس کے باوجود ہم نے ہمیشہ جمہوری اقدار کا ساتھ دیا ہے۔ایمل ولی خان کہتے ہیں کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے ساتھ جب اس طرح کا عمل کیا جا رہا تھا تو اے این پی نے اس کی بھی کھل کر مخالفت کی تھی، آج اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو ہم اس کے بھی خلاف ہیں، اے این پی کا واضح مؤقف ہے کہ صحت اور گھریلو معاملات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں، کسی بھی سیاسی مخالف کے خاندان یا اس کی صحت کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔اے این پی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جو بنیادی انسانی حقوق کے تحت آتی ہیں، سیاست کو انتقام یا ذاتی دشمنی کے بجائے جمہوری اصولوں، آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھایا جائے کیوں کہ بصورتِ دیگر معاشرے میں تلخیاں بڑھیں گی اور جمہوری نظام مزید کمزور ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اے این پی
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔