Jasarat News:
2026-06-02@22:14:04 GMT

صحت اور گھریلو معاملات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں،ایمل ولی

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک ) عدالت عظمیٰ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت کے بارے میں پیش کی گئی رپورٹ پر اے این پی کے مرکزی صدر ایمل ولی خان کا ردعمل آیا ہے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں ان کا کہنا ہے کہ آج سپریم کورٹ میں پیش کی گئی رپورٹ بحیثیت سیاسی کارکن باعث تشویش ہے، یہ صورتحال نہ حکومت اور نہ ہی ریاست کے لیے نیک شگون ہے، عوامی نیشنل پارٹی ہمیشہ اصولی سیاست پر یقین رکھتی ہے، پاکستان میں اے این پی سے زیادہ کسی اور جماعت کو سیاسی طور پر توڑنے اور دبانے کی کوشش نہیں کی گئی، اس کے باوجود ہم نے ہمیشہ جمہوری اقدار کا ساتھ دیا ہے۔ایمل ولی خان کہتے ہیں کہ نواز شریف اور ان کے خاندان کے ساتھ جب اس طرح کا عمل کیا جا رہا تھا تو اے این پی نے اس کی بھی کھل کر مخالفت کی تھی، آج اگر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی صحت کے معاملات کو نظر انداز کیا جا رہا ہے تو ہم اس کے بھی خلاف ہیں، اے این پی کا واضح مؤقف ہے کہ صحت اور گھریلو معاملات سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں، کسی بھی سیاسی مخالف کے خاندان یا اس کی صحت کو نشانہ بنانا کسی صورت قابل قبول نہیں۔اے این پی کے سربراہ کا کہنا ہے کہ آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بناتے ہوئے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو وہ تمام سہولیات فراہم کی جائیں جو بنیادی انسانی حقوق کے تحت آتی ہیں، سیاست کو انتقام یا ذاتی دشمنی کے بجائے جمہوری اصولوں، آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر آگے بڑھایا جائے کیوں کہ بصورتِ دیگر معاشرے میں تلخیاں بڑھیں گی اور جمہوری نظام مزید کمزور ہوگا۔

مانیٹرنگ ڈیسک سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اے این پی

پڑھیں:

بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رکن قومی اسمبلی نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایک خاموش جنگ لڑی جا رہی ہے جو بارود سے زیادہ نوجوانوں کے ذہنوں کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

صوبائی وزرا علی مدد جتک اور عاصم کرد گیلو کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ دشمن پاکستان اور بلوچستان کو توڑنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں بشیر زیب نے جب ایک کالعدم تنظیم کی کمان سنبھالی تو حالات مزید خراب ہوئے، جبکہ جنید بشیر زیب کا رائٹ ہینڈ ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج کی جنگ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر لڑی جا رہی ہے اور کالعدم تنظیموں کے کارندے زنگی ایپ کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیمیں سنگل ایپ کے ذریعے آپریشنل منصوبہ بندی جبکہ ڈیلٹا چیٹ کے ذریعے خفیہ بھرتیاں کرتی ہیں۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے کہاکہ آج دشمن صرف گولی کا استعمال نہیں کر رہا بلکہ سوشل میڈیا پر ٹرینڈز چلا کر بھی اپنا ایجنڈا آگے بڑھا رہا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ نوجوان پہاڑوں کا رخ کریں۔

انہوں نے دعویٰ کیاکہ کالعدم تنظیموں نے اپنی سرگرمیوں میں خواتین کا استعمال بھی شروع کر دیا ہے۔ شہناز بلوچ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے جلسوں میں شرکت کرتی تھیں اور ان کا باہوٹ کے ذریعے کالعدم تنظیم سے رابطہ ہوا۔

نوابزادہ جمال رئیسانی نے مزید کہاکہ بلوچ یکجہتی کمیٹی بلوچستان کی قیادت ڈاکٹر صبیحہ کر رہی ہیں اور ان کا بھائی ایک کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کراچی سیل کی قیادت فوزیہ شاہوانی کررہی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلوچستان سیاست خاموش جنگ نوابزادہ جمال رئیسانی وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق