قومی اسمبلی سے استعفے کے بعد اختر مینگل کا مستقبل کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ قریباً 17 ماہ بعد منظور کر لیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ان کا استعفیٰ منظور کیا، جس کے بعد این اے 256 خضدار ون کی نشست خالی ہو گئی ہے۔
سردار اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔ وہ فروری 2024 کے عام انتخابات میں این اے 256 خضدار ون سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ طویل عرصے تک استعفیٰ منظور نہ ہونے کے باعث وہ عملاً ایوان کی کارروائی سے دور رہے۔
مزید پڑھیں: قومی اسمبلی: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کا استعفیٰ منظور
وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی (مینگل) کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ سردار اختر مینگل نے استعفیٰ بلوچستان کی مجموعی صورتحال اور 2024 کے انتخابات پر تحفظات کی بنیاد پر دیا تھا۔
ان کے مطابق پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ صوبے کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوئے ہیں اور سیاسی مسائل کا حل مکالمے کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت ضمنی انتخاب کا اعلان کرتی ہے تو اس حوالے سے حتمی فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
ثنا اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ بی این پی (مینگل) خود کو ایک جمہوری جماعت سمجھتی ہے اور پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتی ہے، تاہم ان کے بقول اگر سیاسی پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئے تو احتجاج یا استعفیٰ دینا بھی ایک جمہوری طریقہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2024 کے انتخابات کے نتائج پر عوام کے تحفظات موجود ہیں اور بلوچستان کے مسائل طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہو سکتے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ سردار اختر مینگل کا استعفیٰ اگرچہ سیاسی احتجاج کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم اس اقدام پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق پارلیمانی نظام میں رہتے ہوئے مسائل کو ایوان کے اندر اجاگر کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہو سکتی تھی، جبکہ استعفیٰ دے کر عملی سیاست سے کنارہ کشی حلقے کے عوام کی نمائندگی کو کمزور کرتی ہے۔
این اے 256 خضدار ون کے ووٹرز نے فروری 2024 میں انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے منتخب کیا تھا۔ ایسے میں اسمبلی کی کارروائی میں عدم شرکت اور طویل عرصے تک استعفیٰ زیر التوا رہنے سے حلقے کے عوام مؤثر آواز سے محروم رہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو انتخابی عمل پر تحفظات تھے تو اس کے لیے قانونی اور آئینی فورمز موجود تھے، جبکہ استعفیٰ کو بطور احتجاج استعمال کرنا ایک علامتی قدم تو ہو سکتا ہے مگر اس کے عملی نتائج محدود رہتے ہیں۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے بعد دھماکا، اختر مینگل بال بال بچے
مزید یہ کہ بی این پی (مینگل) طویل عرصے سے پارلیمانی سیاست کا حصہ رہی ہے اور ماضی میں وفاقی حکومتوں کے ساتھ اتحاد بھی کرتی رہی ہے۔
ایسے میں ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا استعفیٰ واقعی اصولی مؤقف تھا یا سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی؟ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں منتخب نمائندوں کی ایوان سے علیحدگی سیاسی خلا کو مزید بڑھا سکتی ہے۔
اب جبکہ استعفیٰ منظور ہو چکا ہے اور نشست خالی ہو گئی ہے، توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا بی این پی (مینگل) ضمنی انتخاب میں حصہ لے گی یا نہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا تعین کرے گا بلکہ بلوچستان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل سردار اختر مینگل سینیٹر ثنا اللہ بلوچ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل سردار اختر مینگل سینیٹر ثنا اللہ بلوچ سردار اختر مینگل اختر مینگل کا قومی اسمبلی بی این پی کے بعد
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس