WE News:
2026-07-24@02:24:47 GMT

قومی اسمبلی سے استعفے کے بعد اختر مینگل کا مستقبل کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

قومی اسمبلی سے استعفے کے بعد اختر مینگل کا مستقبل کیا ہے؟

بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سربراہ سردار اختر مینگل کا قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ قریباً 17 ماہ بعد منظور کر لیا گیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے ان کا استعفیٰ منظور کیا، جس کے بعد این اے 256 خضدار ون کی نشست خالی ہو گئی ہے۔

سردار اختر مینگل نے 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دیا تھا۔ وہ فروری 2024 کے عام انتخابات میں این اے 256 خضدار ون سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ طویل عرصے تک استعفیٰ منظور نہ ہونے کے باعث وہ عملاً ایوان کی کارروائی سے دور رہے۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کا استعفیٰ منظور

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بی این پی (مینگل) کے سینئر رہنما اور سابق سینیٹر ثنا اللہ بلوچ نے کہا کہ سردار اختر مینگل نے استعفیٰ بلوچستان کی مجموعی صورتحال اور 2024 کے انتخابات پر تحفظات کی بنیاد پر دیا تھا۔

ان کے مطابق پارٹی قیادت کا مؤقف ہے کہ صوبے کے حالات بہتر ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوئے ہیں اور سیاسی مسائل کا حل مکالمے کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومت ضمنی انتخاب کا اعلان کرتی ہے تو اس حوالے سے حتمی فیصلہ پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور اتحادی جماعتوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔

ثنا اللہ بلوچ کا کہنا تھا کہ بی این پی (مینگل) خود کو ایک جمہوری جماعت سمجھتی ہے اور پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتی ہے، تاہم ان کے بقول اگر سیاسی پالیسیوں میں تبدیلی نہ آئے تو احتجاج یا استعفیٰ دینا بھی ایک جمہوری طریقہ ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2024 کے انتخابات کے نتائج پر عوام کے تحفظات موجود ہیں اور بلوچستان کے مسائل طاقت کے استعمال سے حل نہیں ہو سکتے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا موقف ہے کہ سردار اختر مینگل کا استعفیٰ اگرچہ سیاسی احتجاج کے طور پر پیش کیا گیا، تاہم اس اقدام پر مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید بھی سامنے آ رہی ہے۔ ناقدین کے مطابق پارلیمانی نظام میں رہتے ہوئے مسائل کو ایوان کے اندر اجاگر کرنا زیادہ مؤثر حکمت عملی ہو سکتی تھی، جبکہ استعفیٰ دے کر عملی سیاست سے کنارہ کشی حلقے کے عوام کی نمائندگی کو کمزور کرتی ہے۔

این اے 256 خضدار ون کے ووٹرز نے فروری 2024 میں انہیں اپنے مسائل کے حل کے لیے منتخب کیا تھا۔ ایسے میں اسمبلی کی کارروائی میں عدم شرکت اور طویل عرصے تک استعفیٰ زیر التوا رہنے سے حلقے کے عوام مؤثر آواز سے محروم رہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو انتخابی عمل پر تحفظات تھے تو اس کے لیے قانونی اور آئینی فورمز موجود تھے، جبکہ استعفیٰ کو بطور احتجاج استعمال کرنا ایک علامتی قدم تو ہو سکتا ہے مگر اس کے عملی نتائج محدود رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کوئٹہ میں بی این پی کے جلسے کے بعد دھماکا، اختر مینگل بال بال بچے

مزید یہ کہ بی این پی (مینگل) طویل عرصے سے پارلیمانی سیاست کا حصہ رہی ہے اور ماضی میں وفاقی حکومتوں کے ساتھ اتحاد بھی کرتی رہی ہے۔

ایسے میں ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا استعفیٰ واقعی اصولی مؤقف تھا یا سیاسی دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی؟ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ بلوچستان جیسے حساس صوبے میں منتخب نمائندوں کی ایوان سے علیحدگی سیاسی خلا کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

اب جبکہ استعفیٰ منظور ہو چکا ہے اور نشست خالی ہو گئی ہے، توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا بی این پی (مینگل) ضمنی انتخاب میں حصہ لے گی یا نہیں۔ یہ فیصلہ نہ صرف پارٹی کی آئندہ سیاسی حکمت عملی کا تعین کرے گا بلکہ بلوچستان کی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل سردار اختر مینگل سینیٹر ثنا اللہ بلوچ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اختر مینگل بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل سردار اختر مینگل سینیٹر ثنا اللہ بلوچ سردار اختر مینگل اختر مینگل کا قومی اسمبلی بی این پی کے بعد

پڑھیں:

آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)آزاد کشمیر قانون اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے بڑی سیاسی پیشرفت سامنے آئی ہے، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔

صدر استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس اور مسلم کانفرنس کے صدر سردارعتیق کی ملاقات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔  آزاد کشمیر کے مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کےبعد بھی مشترکہ حکمت عملی کےتحت آگےبڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔ طے پایا کہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی امیدواروں کی حمایت کا حتمی اعلان جلدکرے گی۔

لومئیربرادرز اپنی ایجاد پر بہت مسرور تھے، وہ جہاں بھی اپنا سینما لے کر جاتے لوگ ششدر رہ جاتے ، وہ یہ کھیل تماشہ لے کر ہندوستان بھی آئے تھے

دونوں قائدین نے  مسلح افواج اوراداروں کی مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کی کوششوں کی تعریف کی۔ ملاقات میں آئی پی پی کی جانب سے سردار امتیاز،سردارافتخار رشید اور سردارمنظور ایڈووکیٹ موجود تھے۔ سردارمحمود خان، سردار شجاع منگول، شبدیزصابر سمیت دیگر آئی پی پی رہنما بھی شریک ہوئے۔ جبکہ مسلم کانفرنس کے سردارعثمان عتیق،ڈاکٹرعرفان اشرف،سردارعفان عتیق،راجاعبدالجبار اور دیگر نے شرکت کی۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن