بلوچستان اور پنجاب کی فوجی و سیاسی اسٹیبلشمنٹ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایک مسلم معاشرے کے لیے اس سے زیادہ خطرناک بات کیا ہوسکتی ہے کہ اس کا حکمران طبقہ قومی زندگی کے حوالے سے جھوٹ بولنے لگے اور آگ اُگلنے لگے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں پنجاب کی فوجی اور سیاسی اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کے حوالے سے یہی کررہی ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف خیر سے پنجابی ہیں اور انہوں نے اپنے ایک بیان میں فرمایا ہے کہ بلوچستان میں محرومیوں کا بیانیہ بے بنیاد ہے۔ رانا ثنا اللہ بھی خیر سے پنجابی ہیں اور انہوں نے سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے یہ جھوٹ گھڑا ہے کہ بلوچستان میں سرے سے حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں۔ سینیٹر انوار الحق اسٹیبلشمنٹ کے پیارے ہیں اور انہوں نے بھی فرمایا ہے کہ بلوچستان میں حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں۔ ان کے بقول ماہ رنگ بلوچ کوئی Activist نہیں دہشت گردوں کی ترجمان ہیں۔ انوار الحق نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ بلوچستان میں کوئی ’’ناراض‘‘ شخص ہی نہیں ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے اعلیٰ فوجی اہلکاروں کے بیانات کو دیکھا جائے تو وہ مرنے اور مارنے کے سوا کوئی بات کرتے نظر نہیں آتے۔ لیکن کیا واقعتاً بلوچستان میں حقوق کا کوئی مسئلہ نہیں اور وہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں؟
ایسا نہیں ہے۔ بلوچستان میں آگ لگی ہوئی ہے اور بلوچستان کم از کم 50 سال سے محرومی کا شکار ہے۔ اس محرومی کا اظہار جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر مولانا ہدایت الرحمن کی کراچی میں ہونے والی ایک حالیہ پریس کانفرنس ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مولانا ہدایت الرحمن نے کیا کہا تھا انہی کی زبانی سنیے۔ انہوں نے کہا۔
’’بلوچستان کے عوام کا دل محبت سے تو جیتا جا سکتا ہے لیکن جبر اور زور زبردستی کے ذریعے انہیں فتح نہیں کیا جا سکتا، بلوچستان کے لوگ اپنے بچوں کے لیے تعلیم، روزگار اور امن مانگتے ہیں، حکمران بلوچستان سے لیتے سب کچھ ہیں لیکن دیتے کچھ نہیں، بلوچستان میں آج بدترین ڈکٹیٹر شپ قائم ہے، اسلام آباد کے حکمران ظلم و جبر کے ذریعے بلوچستان پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، ہم انہیں ایسا ہر گز نہیں کرنے دیں گے، جمہوری جدو جہد ہمارا راستہ ہے، بلوچستان کے عوام کو جینے کا حق دیا جائے، گالی و گولی ہماری پر امن جدو جہد کو نہیں روک سکتی، بلوچستان کے مستقبل کو خطرات لاحق ہیں، جماعت اسلامی نے مینار پاکستان کے اجتماع عام میں بلوچستان کا مسئلہ اُٹھایا، سوائے جماعت اسلامی کے کسی اور جماعت کی قیادت بلوچستان نہیں گئی، حافظ نعیم الرحمن نے ایک سال میں بلوچستان کے 4 دورے کیے، بلوچستان کے مسائل پر جماعت اسلامی مشاورت سے آئین و قانون کے دائرہ کار میں رہ کر احتجاج کرے گی، اسلام آباد کے اصل اور جعلی حکمرانوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ خدارا بلوچستان کے عوام پر مظالم بند کریں، انہیں آئینی حقوق، تعلیم و صحت کی سہولتیں اور روزگار فراہم کیے جائیں، یہاں کے نوجوانوں پر رحم کریں، انہوں نے کہا کہ بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال ہے لیکن بلوچستان کا شمار ملک کے پسماندہ صوبے میں ہوتا ہے، بلوچستان میں ایک ہی تالاب میں انسان اور جانور پانی پیتے ہیں، ہماری مائیں اور بہنیں کراچی میں سول اور جناح اسپتال کی فٹ پاتھ پر بیٹھنے پر مجبور ہیں کیونکہ بلوچستان میں صحت کی بنیادی سہولتیں موجود نہیں ہیں، بلوچستان کے لوگوں کو پاکستان سے محبت کی سزا دی جارہی ہے، بانی پاکستان قائد اعظم اور ان کی بہن فاطمہ جناح کو بلوچستان نے عزت دی، بانی پاکستان کی وفات کے بعد بلوچستان میں آپریشن شروع کردیا گیا جو آج تک جارہی ہے۔ ہدایت الرحمن نے کہاکہ جن کے پیارے لاپتا کرکے مار دیے گئے وہ دہشت گرد نہیں ہیں، ماہ رنگ بھی دہشت گرد نہیں ہے، سی پیک سے حکومت نے ایک بھی موٹر وے نہیں بنائی، اگر مودی دہلی سے بیٹھ کر بلوچستان کے نوجوانوں کو پیسے دے رہا ہے تو اسلام آباد سے بیٹھ کر شہباز شریف پیسے کیوں نہیں دے سکتے، بلوچستان کو عزت چاہیے، وہاں کے عوام غلام نہیں سچے پاکستانی ہیں اس کی مثال یہ ہے جب ملک دو لخت ہوا تو کوئی بلوچستان کا شہری اس میں ملوث نہیں تھا اور جو ملوث تھے ان کو حکومتیں دی گئیں، بلوچستان کی بربادی کے ذمے دار وہاں کے سردار بھی ہیں اور سیاست دان بھی ہیں اور ساتھ میں وہ بھی ہیں جن کو ہم سالانہ 80 ارب روپے دیتے ہیں۔ مولانا ہدایت الرحمن نے بلوچستان کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں 46 فی صد نوجوان یعنی 18 لاکھ یو تھ کسی قسم کے روز گار یا تعلیمی سرگرمی کا حصہ نہیں ہیں۔ صوبے میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 65 فی صد بچے یعنی صوبے کے ہر 3 میں سے 2 بچے اسکول سے باہر ہیں جن کی تعداد 31 لاکھ سے زاید ہے اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ان میں 64 فی صد بچیاں ہیں۔ ظلم اور محرومی کی انتہا ہے کہ بلوچستان میں 5 سال کی عمر سے اوپر کل آبادی میں سے 62 فی صد افراد ایسے ہیں جنہوں نے کسی قسم کی کوئی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی ہے۔ صوبے کی 21 فی صد آبادی بے روز گار ہے۔ 41 فی صد مرد و خواتین بغیر کسی رسمی اجرت کے فیملی ہیلپرز کے طور پر کام کرتے ہیں، صوبے میں کل 15168 اسکولوں میں سے 22 فی صد یعنی 3336 اسکول غیر فعال ہیں جبکہ 1817 اسکول شیلٹر کے بغیر ہیں۔ 59 فی صد آبادی کے گھروں میں پانی کی سہولت موجود نہیں ہے یعنی وہ باہر سے پانی لاتے ہیں۔ صوبے کا 80 فی صد ایریا ’’بی‘‘ کہلاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہاں پولیس رولز لاگو نہیں ہوتے ہیں۔ 64 فی صد گھر کچے ہیں۔ 58 فی صد گھروں کی چھت لکڑی اور بانس کی ہیں اور معاشی طور پر مستحکم ہونے کی نشانی سمجھے جانے والی RCC اور RBC (لینٹر چھت) پورے صوبے میں محض 7 فی صد ہیں۔ سوئی گیس کی سہولت محض 18 فی صد آبادی کو میسر ہے، ایل پی جی گیس سلنڈر جس کو عام طور پر ایک معاشی استحکام سمجھا جاتا ہے، اس کو استعمال کرنے والے گھرانوں کی تعداد محض 3.
لکڑی کا استعمال کرتے ہیں۔ 15 فی صد گھرانوں میں کچن، 13 فی صد میں باتھ روم اور 23 فی صد گھرانوں میں ٹوائلٹ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری 2023ء کے مطابق بلوچستان کی آبادی ایک کروڑ 49 لاکھ جس میں نوجوان آبادی 39 لا کھ سے زائد ہے۔ 76 فی صد آبادی 30 سال سے کم عمر کی ہے، بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ ہے، جس کا کل رقبہ 347190 مربع کلو میٹر ہے جو ملک کے مجموعی زمینی رقبے کا تقریباً 44 فی صد بنتا ہے۔ بلوچستان پاکستان کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے اور بحیرہ عرب کی جانب 770 کلو میٹر لمبی ساحلی پٹی کا ہے اور سی پیک میں اہم ترین اہمیت کا حامل صوبہ ہے، پاکستان کا واحد صوبہ جس کا بارڈر دو ممالک کے ساتھ لگتا ہے۔ 9 اضلاع کی سرحد افغانستان اور 5 کا بارڈر ایران کے ساتھ ملتا ہے۔ 7 دریائوں اور 6 جھیلوں کا صوبہ ہے‘ صوبے میں ایک ہزار ارب ڈالر سے زائد کی معدنیات ہیں۔ کوئلے کے ذخائر 185 ارب ٹن سے زاید جبکہ 200 ملین ٹن سونے اور کاپر کے ذخائر ہیں۔ صرف ریکوڈک کے کاپر ذخائر 5.87 ارب ٹن اور گولڈ کے ذخائر 42 ملین اونس ہیں۔ سیندک کے کاپر ذخائر 412 ملین ٹن۔ دشت کین کاپر ذخائر 400 ملین ٹن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ بلوچستان میں قائم گوادر بندرگاہ جو بحیرہ عرب کے ساحل پر آبنائے ہر مز اور خلیج فارس کے دہانے کے قریب ایک انتہائی اسٹرٹیجک مقام پر بنی ہے۔ گوادر کی جغرافیائی اہمیت اسے خطے کی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بین الا قوامی شپنگ کے لیے نہایت اہم بنادیتی ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری (CPEC) میں مرکزی حیثیت رکھنے والی یہ گہرے پانی کی بندرگاہ پاکستان کو خطے کی تجارت میں ایک کلیدی کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
گوادر مستقبل میں بین الا قوامی تجارت، آئل و گیس ٹرانس شپمنٹ اور بحری سرگرمیوں کا ایک بڑا مرکز بنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو پاکستان کی معاشی اور اسٹرٹیجک اہمیت میں نمایاں اضافہ کرے گا۔‘‘ (روزنامہ جسارت، 13 جنوری 2026ء)
پاکستان میں محب وطن لوگوں کی کمی نہیں مگر جماعت اسلامی سے بڑا محب وطن کوئی نہیں۔ 1971ء میں جب پاکستان ٹوٹ رہا تھا جماعت اسلامی واحد جماعت تھی جو متحدہ پاکستان کے تصور کے ساتھ کھڑی تھی۔ جماعت اسلامی واحد جماعت تھی جس نے فوج سے بڑھ کر دفاع وطن کی جنگ لڑی۔ فوجی تو بھارت کے آگے ہتھیار ڈال کر محفوظ ہوگئے مگر البدر اور الشمس کے نوجوان مکتی باہنی کے بدترین تشدد کا نشانہ بنے۔ جماعت اسلامی کی پاکستان پرستی کی یہ سزا 1971ء تک محدود نہیں رہی۔ عوامی لیگ کی رہنما حسینہ واجد نے 13 سال تک جماعت اسلامی کے رہنمائوں اور کارکنوں کو جیلوں میں ٹھونسا، ان پر بدترین تشدد کیا، انہیں پھانسیاں دیں۔ یہاں تک کہ جماعت اسلامی پر پابندی لگادی۔ پاکستان میں 2005ء میں زلزلہ آیا تو جماعت اسلامی ایک ریاست بن کر کھڑی ہوگئی۔ اس نے ایک جماعت ہوتے ہوئے بھی 5 ارب روپے متاثرین کی مدد پر صرف کیے۔ جماعت اسلامی کی خدمات کی بھی قیمت لگائی جائے تو جماعت اسلامی نے زلزلہ متاثرین کی مدد پر 25 ارب روپے سے زیادہ صرف کیے۔ سندھ میں 2010ء میں بڑا سیلاب آیا تو جماعت اسلامی ایک بار پھر ریاست بن کر کھڑی ہوگئی اور اس نے سندھ کے لاکھوں لوگوں کی مدد کی۔ یہ جماعت اسلامی ہے جس نے افغانستان اور کشمیر کے جہاد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے رہنما اور کارکنان جرنیلوں اور دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے بھی بڑے ’’پاکستانی‘‘ ہیں اور وہ پاکستان کے بارے میں ایک لفظ کے برابر بھی جھوٹ نہیں بول سکتے۔ اس تناظر میں جب ہم مولانا ہدایت الرحمن کی پریس کانفرنس کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں بلوچستان سے زیادہ محروم صوبہ کوئی نہیں۔ اس صوبے کی محرومی کا اندازہ اس بات سے کیجیے کہ اس صوبے کی گیس 1956ء سے پورا پاکستان استعمال کررہا ہے مگر 2026ء میں بلوچستان کے صرف 18 فی صد لوگ سوئی گیس استعمال کررہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق بلوچستان کے 65 فی صد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ غرضیکہ زندگی کا کون سا دائرہ ہے جہاں بلوچی پنجاب کے فوجی اور سول حکمرانوں کے جبر اور استحصال کا شکار نہیں۔ اس کے باوجود بلوچستان کے عوام کی عظیم اکثریت آج بھی پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں، پنجابی پاکستان سے محبت کرتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے، پنجابی پاکستان کے سب سے مراعات یافتہ لوگ ہیں، انہیں پاکستان نے وہ دیا ہے جس کا تصور ان کی دس نسلیں بھی نہیں کرسکتی تھیں۔ پشتون پاکستان سے محبت کرتے ہیں تو بات سمجھ میں آتی ہے، اس لیے کہ پشتون عسکری اور سول بیوروکریسی کا دوسرا بڑا ستون ہیں۔ لیکن بلوچی تو 50 سال سے زندگی کے ہر شعبے میں محرومی کا شکار ہیں۔ دیکھا جائے تو مولانا ہدایت الرحمن کی پریس کانفرنس پنجابی اور پشتون اسٹیبلشمنٹ اور پنجاب کی بدمعاش سیاسی اشرافیہ کے خلاف ایک ایف آئی آر ہے۔
لوگ اپنی کم فہمی کی وجہ سے سمجھتے ہیں کہ بلوچستان میں پہلا فوجی آپریشن ہورہا ہے لیکن ایسا نہیں ہے، اس سے پہلے بلوچستان میں پانچ فوجی آپریشن ہوچکے ہیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو بلوچستان ’’آپریشن زدہ‘‘ صوبہ ہے۔ جہاں تک بلوچستان کی موجودہ صورت حال کا تعلق ہے تو یہ صورت حال بھارت کی پیدا کردہ نہیں یہ صورت حال خود پاکستانی جرنیلوں نے پیدا کی۔ اس کا ثبوت نواب اکبر بگٹی کا قتل ہے۔ نواب اکبر بگٹی ساری زندگی ’’وفاق پرست‘‘ رہے انہیں کبھی کسی بیرونی طاقت کے ایجنڈے پر کام کرتے نہیں دیکھا گیا۔ اس کے باوجود جنرل پرویز مشرف نے اعلان کرکے نواب اکبر بگٹی کو ڈرون حملے میں ہلاک کردیا۔ جنرل پرویز نے حملے سے پہلے ایک بیان میں کہا تھا کہ نواب اکبر بگٹی کو پتا بھی نہیں چلے گا کہ کس سمت سے آنے والی کس چیز نے انہیں نشانہ بنایا۔ یہی ہوا بھی۔ نواب اکبر بگٹی ڈرون حملے میں مارے گئے۔ اس کے بعد پورے بلوچستان میں آگ لگ گئی اور ایک ’’نارمل صوبہ‘‘ ایک ’’ایبنارمل‘‘ صوبہ بن گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بلوچستان میں بھارت ملوث نہیں۔ بھارت ملوث ہے مگر بلوچوں کو ناراض پنجاب کی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے کیا ہے۔ بھارت صرف اس ناراضی سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
اس وقت بلوچستان ناراضی اور دہشت گردی کی آگ میں جل رہا ہے لیکن پورا پنجاب اسی طرح سویا ہوا ہے جس طرح 1971ء میں سقوط ڈھاکا سے قبل سویا ہوا تھا۔ ملک کے معروف کالم نویس ایاز امیر پنجابی بھی ہیں اور سابق فوجی بھی مگر ان کے دل میں پاکستان کی محبت بھی موجود ہے، چنانچہ انہوں نے اپنے حالیہ کالم میں بلوچستان سے پنجاب کی لاتعلقی کا ذکر افسوس کے ساتھ کیا ہے۔ انہوں نے لکھا ہے۔
’’دھڑکتا دل اس ملک کا پنجاب ہے اور یہاں سے بلوچستان بہت دور ہے۔ وہاں حملے یا دھماکے ہوتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے‘ اور کیا کر سکتے ہیں؟ یہاں کی رونقیں جاری ہیں‘ شادی ہال کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں‘ لاہور میں کڑاہی گوشت کا چلنا کبھی رکتا نہیں۔ بلوچستان کے حالات خراب ہیں‘ وہاں بی ایل اے نامی کالعدم جنگجو تنظیم متحرک ہے اور کہا جاتا ہے کہ بلوچستان احساسِ محرومی کا شکار ہے اور وہاں کے نوجوان طرح طرح کی وجوہات کی بنا پر ہر چیز سے نالاں ہیں۔ ٹھیک ہے نالاں ہوں گے‘ بنگالیوں کو بھی شکایات تھیں اور پھر وہاں غدر مچا لیکن جب وہاں کشیدگی اپنے عروج کو پہنچ رہی تھی تو ہم پنجاب والوں کو کوئی خاص فکر نہ تھی۔ لہٰذا اگر بلوچستان میں مصیبت ہے سر پکڑ کر تو بیٹھ نہیں سکتے۔ زندگی چلتی رہے گی۔
1971ء میں ہم وردی میں تھے اور طیارہ شکن توپیں لاہور محاذ پر ادھر اْدھر لے کے جا رہے تھے۔ بنگال میں کیا ہو رہا تھا اْس کے بارے یہاں کے لوگ کوئی اتنے پریشان نہ تھے۔ پی ٹی وی ظاہر ہے سرکار کے کنٹرول میں تھا اور اخبارات پر بھی حکومتی گرفت مضبوط ہوا کرتی تھی۔ لہٰذا بیش تر لوگوں تک صحیح صورتحال کی خبر کم ہی پہنچتی۔ بی بی سی پر خبریں البتہ آتی تھیں لیکن ہمارے ساتھ کے جو افسر تھے اپنے کاموں میں مصروف رہتے۔ بی بی سی سننے کے لیے اْن کے پاس وقت کہاں ہوتا۔ میں رات گئے سرکاری وائرلیس سیٹ کو گھما پھرا کر بی بی سی سننے کی کوشش کرتا۔ 11‘ 12 دسمبر کی بات ہو گی کہ مشرقی پاکستان میں جیسور پر ہندوستانی فوجوں کا قبضہ ہو گیا۔ میں بڑا پریشان ہوا کیونکہ سرکاری ذرائع تو یہی کہہ رہے تھے کہ مشرقی محاذ پر ناقابلِ تسخیر دفاعی کارروائیاں جاری ہیں اور مغربی پاکستان کے محاذ پر ہندوستانی فوج پر تابڑ توڑ حملے ہو رہے ہیں۔ اگر یہی اصلی صورتحال تھی تو جیسور کیسے ہاتھ سے نکل گیا۔ اگلے روز رجمنٹل ہیڈ کوارٹر پر یونٹ کے ایجوٹنٹ سے جیسور کا ذکر کیا تو وہ تقریباً مجھے پکڑنے کو چلا کہ یہ کیا کہہ رہے ہو۔ یہ روداد سنانے کا مقصد یہ کہ مکمل شکست کے پیمانے پورے ہونے کو جا رہے تھے اور ہم اپنے خیالوں کی دنیا میں مست پڑے تھے۔ اب بھی جو حساب کتاب سرکاری ذرائع سے بتایا جاتا ہے اْس کو جوڑا جائے تو یہی لگتا ہے کہ بلوچستان میں دہشت گردوں‘ جنہیں فتنہ الہندوستان کہاجاتا ہے‘ کی تعداد بس ختم ہونے کے قریب پہنچ رہی ہے۔ یہ تو جو پچھلے دنوں متعدد مقامات پر حملے ہوئے تو ایک لحاظ سے پوری قوم ہل کے رہ گئی۔ کیونکہ حملے ایسے تھے کہ سرکاری باتیں ہوا میں اْڑ گئیں۔‘‘ (روزنامہ دنیا، 4 فروری 2026ء)
ایاز امیر کے کالم کے اس اقتباس کو دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ بلوچستان کی تاریخ دہرانے کے درپے ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: مولانا ہدایت الرحمن ہے کہ بلوچستان میں بلوچستان کے عوام نواب اکبر بگٹی بلوچستان میں ا دیکھا جائے تو پریس کانفرنس میں بلوچستان جماعت اسلامی انہوں نے کہا بلوچستان کی فی صد ا بادی پاکستان میں پاکستان کے کے نوجوان الرحمن نے محرومی کا کرتے ہیں پنجاب کی ہے لیکن نے والی کے ساتھ بھی ہیں میں ایک ہیں اور نہیں ہے صوبہ ہے کا شکار ہیں تو فوجی ا رہی ہے کے لیے نے ایک کہا کہ رہا ہے نہیں ا ہے اور اور ان
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے دو پراجیکٹ ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی کی ٹاپ لسٹ میں شامل، دنیا میں پاکستان کا تشخص نمایاں ہوا: مریم نواز
لاہور (نوائے وقت رپورٹ+ نیوز رپورٹر) وزیراعلیٰ مریم نواز نے’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو یو این گلوبل چیمپئن قرار دئیے جانے پر اظہار تشکر کیا ہے۔ تاریخ میں پہلی بار وزیراعلیٰ کے وژنری اقدامات کی بدولت پاکستان کے دو پراجیکٹس کواقوام متحدہ کی ورلڈ سمٹ انفارمیشن سوسائٹی نے ٹاپ لسٹ میں شامل کیا۔ مریم نواز کے ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کو دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل کیا گیا ہے۔ پنجاب کا ورچوئل ویمن پولیس سٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پراجیکٹس میں شارٹ لسٹ کیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کی ٹیم کو ڈبلیو ایس آئی ایس کی طرف سے گلوبل چیمپئن قرار دیئے جانے پر شاباش دی ہے۔ مریم نواز نے کہا کہ عوامی خدمات کے معتبر فورم اقوام متحدہ کے تحت (WSIS) پرائزز ڈیجیٹل گورننس پر پنجاب کے دو پروگرامز کا شامل کیا جانا اعزاز ہے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ نے 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے کیس کی مثال قائم کی۔ ’’میرا پیارا‘‘ پراجیکٹ کے تحت 54 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کے لئے مؤثر کارروائی قابل تحسین ہے۔ ’’میرا پنجاب‘‘ سے بچوں کے استحصال آن لائن ہراسگی اور دیگر معاملات میں معاونت کی گئی۔ ’’میرا پنجاب‘‘ کی عالمی سطح پر پذیرائی ٹیکنالوجی پر مبنی پبلک سروسز کی عالمی سطح پر اعتراف کا ثبوت ہے۔ گمشدہ افراد کے لئے میرا پیارا ایپ دنیا بھر میں پاکستان کا مثبت تشخص نمایاں ہوا۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے پراجیکٹس کی بدولت پاکستان ڈبلیو ایس آئی ایس کیٹیگری میں دو شارٹ لسٹ شدہ پراجیکٹس کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی (VCCS) کے ذریعے بچوں سے متعلق 1 لاکھ 45 ہزار سے زائد کیسز نمٹائے گئے۔ ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب کرایا گیا۔ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت حکومت نے 3 ہزار سپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا۔ ڈبلیو ایس آئی ایس کی رپورٹ کے مطابق پراجیکٹ کے تحت گمشدہ یا اغوا ہونے والے بچوں کے 54 ہزار سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔ 77 ہزار سے زائد بچے خاندانوں سے ملوائے گئے جن میں تین ہزار سپیشل بچے بھی شامل ہیں۔ مربوط ڈیجیٹل رسپانس کے ذریعے بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔ رپورٹ کے مطابق پنجاب بھر میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے کل 1,45,772 کیسز رپورٹ، ریکارڈ 1,36,157کیسز کو کامیابی سے حل کر لیا گیا۔ رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے مجموعی طور پر 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ جبکہ 7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741بچوں میں سے 53,811بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملایا گیا۔ ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989بچے ملے،جن میں سے 21,178 کو فوری طور پر خاندانوں کے حوالے کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت سسٹم میں 930بچے لاپتہ اور1,811بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں جن کے لیے روزانہ کی بنیاد پر فالو اپ جاری ہے۔ بچوں پر تشدد اور بدسلوکی کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، جن پر فوری کارروائی کرتے ہوئے 5,075ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ چائلڈ بدسلوکی کیسز میں اب تک 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں۔ بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل بد سلوکی کے 191کیسز سامنے آئے، جن پر 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزموں کو گرفتار کیا گیا۔