تاریخی انتخابی مرحلہ مکمل، بنگلہ دیش میں بی این پی دو تہائی اکثریت کے قریب
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
رپورٹنگ: مقتدر راشد (بنگلہ دیش) اور فیصل کمال پاشا
بنگلہ دیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی نتائج کے مطابق بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے واضح اکثریت حاصل کرلی ہے، ابتدائی رجحانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی بڑی اپوزیشن جماعت کے طور پر ابھر رہی ہے۔
ملک بھر سے نتائج موصول ہونے کا سلسلہ جاری ہے جو پارلیمنٹ میں ایک فیصلہ کن منظرنامے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
یہ انتخابات بنگلہ دیش کی جمہوری تاریخ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ جولائی انقلاب 2024 کے بعد یہ پہلا عام انتخاب اور قومی ریفرنڈم تھا۔ لاکھوں ووٹرز نے پُرامن اور تہوار جیسے ماحول میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔
صبح 7:30 بجے شروع ہونے والی ووٹنگ مسلسل 9 گھنٹے جاری رہی۔ ملک بھر کے 42 ہزار 659 پولنگ اسٹیشنز پر ووٹرز نے 2 علیحدہ بیلٹ پیپرز کے ذریعے ووٹ ڈالے، ایک پارلیمانی انتخاب کے لیے اور دوسرا ریفرنڈم کے لیے۔
ملک کے 300 میں سے 299 حلقوں میں پولنگ ہوئی، جبکہ شیرپور-3 میں ایک امیدوار کے انتقال کے باعث ووٹنگ ملتوی کردی گئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق دوپہر 2 بجے تک 36 ہزار 31 مراکز پر ٹرن آؤٹ 47.
غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی، جو تقریباً 2 دہائیوں سے اقتدار سے باہر تھی، 2 تہائی اکثریت حاصل کرنے کے لیے پر امید ہے۔ پارٹی کے مرکزی الیکشن اسٹیئرنگ کمیٹی کے ترجمان مہدی امین نے کہا کہ موصولہ ووٹوں اور نشست وار تفصیلات کی بنیاد پر وہ اس کامیابی کے بارے میں بہت پُرامید ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انتخابات بنگلہ دیش بی این پی جماعت اسلامی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انتخابات بنگلہ دیش بی این پی جماعت اسلامی
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔