بنگلادیش میں تاریخی ریفرنڈم، عوام نے بڑی آئینی تبدیلیوں کی منظوری دے دی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ڈھاکا: بنگلادیش میں عام انتخابات کے ساتھ منعقد ہونے والے قومی ریفرنڈم میں اکثریت نے آئینی اصلاحات کے حق میں ووٹ دے دیا۔
غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق 67 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کی حمایت کی جبکہ 33 فیصد نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔
یہ ریفرنڈم 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات کے ساتھ کرایا گیا۔ یہ انتخابات جولائی 2024 کی عوامی تحریک کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کا طویل اقتدار ختم ہوا تھا۔
ریفرنڈم میں عوام سے صرف ایک سوال پوچھا گیا تھا، جس کا جواب ’ہاں‘ یا ’نہیں‘ میں دینا تھا۔ اس عمل کے ذریعے ملک میں مجوزہ آئینی اصلاحات پر عوامی رائے لی گئی۔
مزید پڑھیںبنگلادیش انتخابات: بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ 209 نشستیں جیتنے میں کامیاب، جماعت اسلامی اتحاد 68 سیٹوں تک محدود
شہباز شریف کی بنگلادیش میں انتخابی کامیابی پر نئی قیادت کو مبارکباد، تعاون کا عزم
بنگلادیش انتخابات؛ جماعت اسلامی کے رہنما سے 75 اور بی این پی رہنما سے 15 لاکھ ٹکا برآمد
اصلاحات کی تجاویز ’جولائی نیشنل چارٹر‘ کا حصہ ہیں، جو 2024 کی تحریک کے مطالبات کو قانونی شکل دینے کی کوشش قرار دی جا رہی ہے۔
اس مسودے کو ’نیشنل کنسنسس کمیشن‘ نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا تھا، تاہم عوامی لیگ اس عمل میں شامل نہیں تھی۔
مجوزہ اصلاحات میں پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانے، ایوانِ بالا (سینیٹ) کے قیام، آئینی ترامیم کے لیے سینیٹ کی منظوری لازمی قرار دینے، وزیر اعظم کی مدت کی حد مقرر کرنے اور صدر کے اختیارات میں اضافے جیسی اہم تجاویز شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد ملک میں اختیارات کے ارتکاز کو روکنا اور جمہوری نظام کو مضبوط بنانا بتایا جا رہا ہے۔
حتمی نتائج کا اعلان الیکشن کمیشن کی جانب سے بعد میں کیا جائے گا، تاہم ابتدائی نتائج کو بنگلادیش کی سیاسی تاریخ میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
فیلڈ مارشل عاصم منیر کا بلوچستان میں پائیدار امن کے عزم کا اعادہ
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی بھرپور حمایت سے بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں اپنے منطقی انجام تک جاری رہیں گی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا، جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے قومی اتحاد، استحکام اور ثابت قدمی کی اہمیت پر زور دیا۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر ہے اور یہ صوبہ قدرتی وسائل سے مالا مال ہے۔ ان کے مطابق بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت، باہمت اور ثابت قدم عوام ہی اس صوبے کا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے بلوچستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کا مقصد صوبے کی سماجی اور معاشی ترقی کو یقینی بنانا، عوام کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانا اور خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کرنا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کی یہی مشترکہ کاوشیں صوبے میں پائیدار امن کی بنیاد بنیں گی۔
انہوں نے اس موقع پر کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ٹارگٹڈ آپریشنز پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گے اور یہ کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک بلا تعطل جاری رہیں گی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کے اتحاد، عزم اور ثابت قدمی کی بدولت ہر قسم کے مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی اور ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے تحفظ کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتی رہیں گی۔