سیاسی عدم استحکام ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے، احسن اقبال
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان وہ مقام حاصل نہیں کر سکا جس کا خواب دیکھا گیا تھا، جبکہ بنگلادیش اور بھارت ترقی کے میدان میں آگے نکل گئے ہیں۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ سیاسی عدم استحکام کے ساتھ ترقی ممکن نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ اداروں کے رویوں میں یکسانیت ہونی چاہیے اور عدالتی فیصلوں پر سوالات اسی وقت اٹھتے ہیں جب مختلف معاملات میں مختلف طرزِ عمل اختیار کیا جائے۔
احسن اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ کو آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے اور قانون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے۔ انہوں نے اپنے ذاتی تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں جھوٹے مقدمات کا سامنا کرنا پڑا اور اڈیالا جیل میں قید بھی رکھا گیا۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ملک کو آگے بڑھانے کے لیے سیاسی استحکام، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور پالیسیوں کا تسلسل ناگزیر ہے، بصورت دیگر ترقی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔