صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا ریڈیو سے وابستہ افراد کو خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد (نیوز ڈیسک) عالمی یومِ ریڈیو کے موقع پر صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے ریڈیو سے وابستہ تمام پیشہ ور افراد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریڈیو اعتماد، شمولیت اور سماجی ہم آہنگی کا مؤثر ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل دور میں جدید ذرائع ابلاغ کی تیز رفتار ترقی کے باوجود ریڈیو کی اہمیت آج بھی برقرار ہے اور یہ عوام تک مستند معلومات کی فراہمی میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
صدرِ مملکت نے اپنے پیغام میں کہا کہ ریڈیو پاکستان 26 زبانوں میں نشریات کے ذریعے قومی آواز کے طور پر خدمات انجام دے رہا ہے، جو ملک کے مختلف علاقوں اور ثقافتوں کو آپس میں جوڑنے کا ذریعہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریڈیو عوامی خدمت اور معتبر معلومات کی علامت ہے اور روزمرہ زندگی میں عوام کا قابلِ اعتماد ساتھی ہے۔
انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ ریڈیو اور مصنوعی ذہانت کا باہمی تعلق مستقبل کی نئی راہوں کی نوید ہے، نئی ٹیکنالوجیز کے ذمہ دارانہ استعمال سے ریڈیو کے ادارے مزید مضبوط اور مؤثر ہو سکتے ہیں۔
صدر زرداری نے کہا کہ نوجوان سامعین میں بھی ریڈیو کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے، جو اس میڈیم کی ہمہ گیر افادیت کا ثبوت ہے، ریڈیو نہ صرف ثقافتی اظہار کا مؤثر ذریعہ ہے بلکہ قومی مکالمے کو فروغ دینے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
صدرِ مملکت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت ریڈیو کے فروغ اور اس سے وابستہ افراد کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔
اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔