بنگلادیش انتخابات: وزیراعظم کی بی این پی رہنما طارق رحمان کو کامیابی پر مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بنگلا دیش کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی کی شاندار کامیابی پر طارق رحمان کو دلی مبارکباد پیش کی ہے۔
اپنے تہنیتی پیغام میں انہوں نے بنگلا دیش کے عوام کو بھی کامیاب اور پُرامن انتخابی عمل پر سراہتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ نئی قیادت کے ساتھ مل کر تاریخی اور برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں تاکہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔
بنگلا دیش میں ہونے والے حالیہ عام انتخابات کو سیاسی استحکام کی بحالی کے لیے نہایت اہم قرار دیا جا رہا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق 300 رکنی پارلیمنٹ میں بی این پی کی قیادت میں اتحاد نے 209 نشستیں حاصل کر کے دو تہائی اکثریت حاصل کی۔ یہ انتخابات 2024 کی حکومت مخالف تحریک کے بعد منعقد ہوئے، جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ واجد کی طویل حکمرانی کا خاتمہ ہوا تھا۔
بی این پی کے سربراہ اور وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار طارق رحمان نے اپنی نشست سے کامیابی سمیٹی اور پارٹی کارکنان سے اپیل کی کہ جشن کے بجائے ملک کی ترقی اور استحکام کے لیے دعائیں کی جائیں۔ دوسری جانب جماعتِ اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کا اعلان کیا۔ ان کی جماعت کو 68 نشستیں حاصل ہوئیں۔
یاد رہے کہ خودساختہ جلاوطن سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد، جو اس وقت بھارت میں مقیم ہیں نے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں منظم ڈرامہ قرار دیا۔ ان کی جماعت عوامی لیگ اس بار انتخابی عمل میں شریک نہ ہو سکی۔
مبصرین کے مطابق نئی حکومت کے قیام سے بنگلا دیش میں سیاسی سمت واضح ہو گئی ہے اور اب خطے کی نظریں نئی قیادت کی پالیسیوں اور علاقائی تعاون پر مرکوز ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بنگلا دیش
پڑھیں:
گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
اویس کیانی: گلگت بلتستان میں ہونے والے انتخابات کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کیلئے وفاقی حکومت نے جامع سیکیورٹی پلان کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت مختلف سیکیورٹی اداروں کے ہزاروں اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق انتخابی عمل کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کیلئے پاک فوج، سول آرمڈ فورسز، پنجاب پولیس، اسلام آباد پولیس، پنجاب رینجرز، فرنٹیئر کور (ایف سی) اور جی بی اسکاؤٹس کے اہلکار فرائض سرانجام دیں گے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
حکومتی منظوری کے بعد پاک فوج اور سول آرمڈ فورسز کی تعیناتی آئین کے آرٹیکل 220 اور انسداد دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت عمل میں لائی جائے گی۔
سیکیورٹی پلان کے تحت پاک فوج کے 985 جوان، پنجاب پولیس کے 6 ہزار اہلکار، اسلام آباد پولیس کے 1500 اہلکار، پنجاب رینجرز کے 2 ہزار جوان، ایف سی کے ایک ہزار اہلکار جبکہ جی بی اسکاؤٹس کے 1500 اہلکار انتخابی ڈیوٹی انجام دیں گے۔
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
ذرائع کا کہنا ہے کہ حساس پولنگ اسٹیشنز اور اہم مقامات پر خصوصی سیکیورٹی انتظامات کیے جائیں گے تاکہ ووٹرز محفوظ ماحول میں اپنا حق رائے دہی استعمال کر سکیں۔