بنگلادیش انتخابات: جماعت اسلامی 77، بی این پی 74نشستوں پرکامیاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ڈھاکا/ نئی د ہلی (نمائندہ خصوصی+مانیٹرنگ ڈیسک)بنگلادیش میں 299 نشستوں پرہونے والے13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق جماعت اسلامی نے 77 اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی ) نے 74نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔یہ انتخابات طلبہ کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کے 18 ماہ بعد ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں دو دہائیوں پر محیط شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔جماعت اسلامی بنگلادیش کے امیرڈاکٹر شفیق الرحمن سمیت کئی رہنما بھی انتخاب جیتنے میں کامیاب رہے ہیں۔اسلامی چھاترو شبر کے سابق مرکزی صدر شفیق السلام مسعود بھی جیت گئے ہیں۔ 17 سال بعد لندن سے واپس بنگلادیش لوٹنے والے طارق رحمن نے دونوں سیٹوں (ڈھاکا-17 اور بوگرا-6) پر فتح حاصل کرلی ہے۔ جماعت اسلامی بنگلادیش کے الیکشن سیل کے ترجمان نے بتایا ہے کہ رنگپور ڈویژن میں 16 نشستیں جماعت اسلامی اور 7نشستوں بی این پی نے جیتی ہیں۔ راج شاہی ڈویژن میں 10 نشستیں جماعت اسلامی اور 19 نشستیں بی این پی کو ملی ہیں۔ کھلنا ڈویژن میں 23 نشستیں جماعت اسلامی جب کہ 5 بی این پی کے حصے میں آئی ہیں۔ برسال ڈویژن میں 3 نشستوں پر جماعت اسلامی جب کہ 6 نشستوں پر بی این پی کامیاب قرار پائی ہے۔ ڈھاکا ڈویژن میں 11 نشستیں جماعت اسلامی اور 17 بی این پی کے حصے میں آئی ہیں۔میمن سنگھ ڈویژن میں 5نشستوں پر جماعت اسلامی جب کہ 2 پر بی این پی کو کامیاب ٹھہرایا گیا ہے۔اس طرح سلحٹ ڈویژن میں 1 نشست پر جماعت اسلامی جب کہ 3 نشستوں پر بی این پی کے امیدوار نے فتح حاصل کی ہے۔چٹاگانگ ڈویژن میں 8 نشستیں جب کہ 15 نشستیں بی این پی کو ملی ہیں۔عام انتخابات میں 5آزاد امیدوار بھی کامیاب ہوئے ہیں ۔نتائع میں غیر معمولی تاخیر پر جماعت اسلامی کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمن نے پرہجوم پریس کانفرنس کرتے ہوئے الزام عاید کیا کہ اگرچہ جماعت اسلامی کے امیدوار کئی نشستوں پر سبقت حاصل کیے ہوئے ہیں تاہم ریٹرننگ افسران نتائج کا اعلان کیے بغیر انہیں روک کر بیٹھے ہیں۔مغلبازار میں جماعت کے مرکزی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ بعض حلقوں میں نتائج کے اعلان پر چوہے بلی کا کھیل کھیلا جا رہا ہے، جو ایک بیمار سیاسی رویے کی عکاسی کرتا ہے۔ ووٹنگ ٹرن آؤٹ زیادہ ہونے پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے امیر جماعت نے کہا کہ انتخابات میں کوئی جیتتا ہے، کوئی ہارتا ہے، یہی جمہوریت کا حسن ہے، اب ماضی کی روایات کو بدلنا ہوگا، جماعت اسلامی مثبت طرزِ سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری طور پر نتائج کے اعلان کے بعد جماعت کی جانب سے باضابطہ ردِعمل دیا جائے گا۔ ڈاکٹر شفیق الرحمن نے امید ظاہر کی کہ الیکشن کمیشن 13 تاریخ تک حتمی نتائج کا اعلان کر دے گا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ نتائج کچھ بھی ہوں، جماعتِ اسلامی آئندہ بھی مثبت اور فلاحی سیاست جاری رکھنے کا عزم رکھتی ہے۔اس موقع پر این سی پی کے کنوینر ناہید اسلام، بنگلا دیش خلافت مجلس کے امیر مامون الحق، بنگلا دیش لیبر پارٹی کے چیئرمین مصطفی زْر رحمان ایران سمیت جماعت اسلامی کے دیگر رہنما بھی موجود تھے۔بی این پی کے سربراہ طارق رحمن نے بھی انتخابات میں دھاندلی کا الزام عاید کیا ہے۔طارق رحمن نے ڈھاکا میں بی این پی کے دفتر کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ ہم پْرامید ہیں کہ اتنی نشستیں جیت لیں گے کہ ملک کو بہتر طریقے سے چلا سکیں،اگر منتخب ہوئے تو اتحادیوں کے ساتھ ملک چلانا چاہتے ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کسی تنازع کے بغیر ہوئے تو ان کی جماعت نتائج کو قبول کرے گی۔ادھر بنگلا دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور جولائی نیشنل چارٹر کے نفاذ سے متعلق ریفرنڈم کے پْرامن اور منظم انعقاد پر قوم کو مبارکباد دیتے ہوئے عوام، اداروں اور متعلقہ حکام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ووٹنگ کے اختتام کے بعد اپنے بیان میں پروفیسر محمد یونس نے عوام کی پْرجوش شرکت کو سراہتے ہوئے کہا کہ شہریوں نے اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے ملک کے مستقبل کی تشکیل میں فعال کردار ادا کیا۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں، امیدواروں اور انتخابی عمل سے وابستہ اداروں کے ذمے دارانہ طرزِ عمل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بھی تعریف کی۔چیف ایڈوائزر نے الیکشن کمیشن، قانون نافذ کرنے والے اداروں، مسلح افواج، سول انتظامیہ، مبصر مشنز، میڈیا نمائندگان اور انتخابی عملے کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت اور لگن نے اس بڑے جمہوری عمل کو کامیاب بنایا۔انہوں نے سیاسی جماعتوں اور امیدواروں پر زور دیا کہ حتمی نتائج کے اعلان کے بعد بھی جمہوری روایات، برداشت اور باہمی احترام کو برقرار رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اختلافِ رائے فطری امر ہے، تاہم قومی مفاد میں اتحاد کو ترجیح دینا ضروری ہے۔پروفیسر یونس نے کہا کہ بنگلہ دیش نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے۔ انہوں نے عہد کیا کہ حکومت ایک زیادہ جوابدہ، جامع اور منصفانہ ریاست کے قیام کے لیے کام جاری رکھے گی۔ انہوں نے اس انتخابی عمل کو قومی جشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ کے پْرامن اور پْروقار ترین انتخابات میں سے ایک تھا۔ ان کے مطابق اگر یہی مثبت رجحان برقرار رہا تو بنگلہ دیش کی جمہوریت نئی بلندیوں کو چھوئے گی۔ بنگلا دیش کے چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصر الدین نے کہا ہے کہ ہماراملک جمہوریت کی ٹرین پر سوارہوگیا، جلد منزل پر پہنچے گا،آج کی ووٹنگ ماضی کے منظم اور اسٹیجڈ انتخابات اور بیلٹ باکس چھیننے کی روایت سے واضح انحراف ہے، ملک بھر میں ووٹرز کی بھرپور شرکت دیکھنے میں آئی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق ملک کے 64 اضلاع میں قائم 42 ہزار 761 پولنگ اسٹیشنز پر 300 میں سے 299 پارلیمانی حلقوں کے لیے ووٹنگ ہوئی۔ خواتین کی نمائندگی کے لیے 50 مخصوص نشستیں مختص ہیں، جو تناسبی نمائندگی کی بنیاد پر تقسیم کی جاتی ہیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے نومبر 2025 میں جاری کی گئی حتمی ووٹر لسٹ کے مطابق ملک میں رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد 12 کروڑ 77 لاکھ 11 ہزار 793 ہے، جن میں 6 کروڑ 48 لاکھ 25 ہزار 361 مرد اور 6 کروڑ 28 لاکھ 85 ہزار 200 خواتین ووٹر شامل ہیں۔یہ پہلا موقع ہے کہ ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کی سہولت فراہم کی گئی ہے، جس سے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیرونِ ملک مقیم محنت کش مستفید ہوں گے۔یاد رہے کہ بنگلادیش میں 300 براہِ راست منتخب نشستوں میں سے 151 سیٹوں پر کامیابی حاصل کرنے والی جماعت حکومت بنائے گی۔ ایک نشست پر الیکشن ملتوی ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ بنگلادیش کی پارلیمنٹ صرف ایک ایوان پر مشتمل ہے جسے جاتیا سنگسد کہا جاتا ہے اور اس کے مجموعی طور پر 350 ارکان ہوتے ہیں۔ ان میں سے 300 ارکان براہِ راست انتخاب کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں جبکہ باقی 50 نشستیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔علاوہ ازیں بنگلادیش میں عام انتخابات کے ساتھ کرائے جانے والے قومی ریفرنڈم میں 67 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالے ہیں۔بنگلادیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات میں پولنگ کو عمل مکمل ہونے کے بعد ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔یہ انتخابات طلبا کی قیادت میں چلنے والی اس تحریک کے 18 ماہ بعد ہو رہے ہیں جس کے نتیجے میں 2 دہائیوں پر محیط شیخ حسینہ کے اقتدار کا خاتمہ ہوا تھا۔بنگلادیش میں قومی انتخابات کے ساتھ قومی ریفرنڈم بھی کرایا گیا ہے۔اب تک کے غیر سرکاری غیرحتمی نتائج کے مطابق 67 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں ووٹ ڈالا ہے جبکہ 33 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے خلاف ووٹ ڈالا ہے۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق ریفرنڈم کے جواب میں عوام کو ہاں یا نہیں کا انتخاب کرنا تھا، ریفرنڈم سے ملک کے مستقبل کے سیاسی و آئینی ڈھانچے کا تعین کیا جائے گا۔ریفرنڈم میں جولائی نیشنل چارٹر میں وسیع آئینی اصلاحات کی تجویز مانگی گئی ہے۔مزید برآں بنگلا دیش کی معزول سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے ملک میں ہونے والے عام انتخابات کو ڈھونگ اور مذاق قرار دیتے ہوئے پولنگ کی منسوخی اور چیف ایڈوائزر محمد یونس کی برطرفی کا مطالبہ کر دیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بنگلا دیش میں عام انتخابات کے لیے پولنگ ختم ہونے کے بعد شیخ حسینہ نے اپنے بیان میں کہا کہ غیر قانونی اور غیر آئینی ذرائع سے اقتدار سنبھالنے والے محمد یونس کی جانب سے کرائے گئے نام نہاد عام انتخابات دراصل ایک سوچی سمجھی سازش اور مذاق ہے، عوامی لیگ اور ووٹرز کے بغیر ایک دھوکا دہی پر مبنی انتخابی عمل ترتیب دیا گیا۔سابق بنگلا دیشی وزیر اعظم نے کہا کہ 11 فروری کی شام سے ہی پولنگ اسینٹرز پر قبضے، فائرنگ، ووٹ خریدنے کیلیے پیسے کے بے دریغ استعمال، بیلٹ پیپرز پر مہریں لگانے اور رزلٹ شیٹس پر ایجنٹوں کے دستخط لینے کے ذریعے اس مذاق کا آغاز ہوگیا تھا۔شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ حالیہ دنوں میں عوامی لیگ کے ووٹرز، حامیوں، خیر خواہوں اور اقلیتی برادریوں کو نشانہ بناتے ہوئے مسلسل حملے، گرفتاریاں، دھمکیاں اور خوف کا ماحول پیدا کیا گیا تاکہ انہیں زبردستی پولنگ اسٹیشنز تک لایا جا سکے۔اپنے بیان میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان عام انتخابات کو منسوخ کیا جائے، محمد یونس استعفا دیں، جھوٹے مقدمات واپس لے کر تمام سیاسی قیدیوں بشمول اساتذہ، صحافیوں، دانشوروں اور پیشہ ور افراد کو رہا کیا جائے، عوامی لیگ کی سرگرمیوں پر عائد معطلی ختم کی جائے اور ایک غیر جانبدار نگران حکومت کے تحت آزادانہ، منصفانہ اور جامع انتخابات کے انعقاد کے ذریعے عوام کے ووٹ کا حق بحال کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: نشستیں جماعت اسلامی جماعت اسلامی جب کہ پر جماعت اسلامی بنگلادیش میں الیکشن کمیشن عام انتخابات انتخابات میں انتخابات کے بی این پی کے نشستوں پر ڈویژن میں محمد یونس بنگلا دیش دیتے ہوئے کرتے ہوئے نے کہا کہ کے ذریعے ہوئے کہا کے مطابق کیا جائے نتائج کے انہوں نے اسلامی ا ہوئے کہ دیش کی کے لیے دیش کے کیا کہ کے بعد
پڑھیں:
کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) کراچی میں یکم جون سے شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر فیس لیس چالان کے آغاز ہوگیا اور پہلے روز 11 گیٹیگریز کی سواریوں کے فیس لیس چالان ہوئے۔
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق لین کی خلاف ورزی پر پہلے دن مجموعی طور پر 96 چالان ہوئے۔
بڑی بس 2، کوسٹر 2، ڈبل کیبن 1 اور گاڑی کے 9 چالان کیے گئے جبکہ منی بس 6، منی ٹرک 3 اور سوزوکی پک اپ کے 21 چالان ہوئے۔
اسی طرح موٹر سائیکل پر 43، ٹرک 3، وین 4 اور واٹر ٹینکر پر 2 چالان ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق تمام چالان اپنی لین سے ہٹ کر دوسری لین میں چلانے پر ہوئے، فرسٹ لین میں آہستہ چلانے پر بھی فیس لیس چالان کیا گیا۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
مزید :