بنگلہ دیش انتخابات: 11 لاکھ سے زائد پوسٹل بیلٹس موصول
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے سلسلے میں ریٹرننگ افسران کو اب تک 11 لاکھ 43 ہزار 845 پوسٹل بیلٹس موصول ہو چکے ہیں جو ووٹرز نے ’پوسٹل ووٹ بی ڈی‘ ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کے بعد ارسال کیے۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش انتخابات: یورپی یونین کے چیف آبزرور کی ووٹرز کی مثبت شرکت کی تعریف
موصول ہونے والے بیلٹس میں سے 4 لاکھ 95 ہزار 551 بیرون ملک مقیم ووٹرز کے ہیں جبکہ 6 لاکھ 48 ہزار 294 بیلٹس اندرونِ ملک ووٹرز کی جانب سے ان لینڈ کنڈیشنل پوسٹل ووٹنگ نظام کے تحت ڈالے گئے۔
بیرون ملک ووٹرز کی تفصیلاتاو سی وی-ایس ڈی آئی منصوبے کے تحت اوورسیز ووٹر رجسٹریشن کے ٹیم لیڈر سلیم احمد خان کے مطابق جمعرات دوپہر 2 بجے تک بیرونِ ملک ووٹرز کو 7 لاکھ 66 ہزار 862 بیلٹس ارسال کیے جا چکے تھے۔
مزید پڑھیے: بنگلہ دیش انتخابات: طارق رحمان کی جامع طرزِ حکمرانی کی اپیل
ان میں سے 5 لاکھ 54 ہزار 258 ووٹرز کو بیلٹس موصول ہوئے، 5 لاکھ 43 ہزار 751 نے ووٹ کاسٹ کیا، جبکہ 5 لاکھ 37 ہزار 554 بیلٹس بیرونِ ملک ڈاک حکام کے حوالے کیے گئے۔ اب تک 4 لاکھ 98 ہزار 266 اوورسیز بیلٹس بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔
اندرون ملک ووٹرز کی شرکتاندرون ملک ووٹرز کے لیے مجموعی طور پر 7 لاکھ 60 ہزار 898 بیلٹس ارسال کیے گئے۔ جمعرات دوپہر 2 بجے تک 6 لاکھ 81 ہزار 819 ووٹرز کو بیلٹس موصول ہوئے، 6 لاکھ 74 ہزار 376 نے اپنا ووٹ کاسٹ کیا، جبکہ 6 لاکھ 69 ہزار 950 بیلٹس ڈاک خانوں یا لیٹر بکسز میں جمع کرائے گئے۔
اب تک ریٹرننگ افسران کو 6 لاکھ 48 ہزار 294 اندرونِ ملک پوسٹل بیلٹس موصول ہو چکے ہیں۔
مجموعی رجسٹریشنحکام کے مطابق مجموعی طور پر 15 لاکھ 33 ہزار 684 ووٹرز، جو ملک کے اندر اور بیرون ملک مقیم ہیں، نے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم میں پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے لیے ایپ کے ذریعے رجسٹریشن کرائی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش بنگلہ دیش انتخابات بنگلہ دیش پوسٹل بیلٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش بنگلہ دیش انتخابات بنگلہ دیش انتخابات ملک ووٹرز ووٹرز کی کے ہیں
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔