Daily Mumtaz:
2026-07-23@23:32:01 GMT

بھارت میں کنگ کوبرا ٹرینوں کے ذریعے پھیل رہے ہیں: تحقیق

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

بھارت میں کنگ کوبرا ٹرینوں کے ذریعے پھیل رہے ہیں: تحقیق

نئی دہلی (ویب ڈیسک) ایک نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ کنگ کوبرا انڈیا کے مصروف ترین ریلوے نیٹ ورکس پر لفٹ لے کر ملک کے مختلف حصوں میں پھیل رہے ہیں۔
مغربی گھاٹ کے کنگ کوبرا جو انڈیا میں خطرے کے قریب یا معدومیت کے خدشے سے دوچار نسل سمجھی جاتی ہے، اس کو ٹرینوں کے ذریعے انڈیا کی مغربی سیاحتی ریاست گوا کے کئی علاقوں تک پھیلتے ہوئے ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عام طور پر یہ کنگ کوبرا کی یہ نسل گوا کے اندرونی علاقوں، جنگلات، دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب پائی جاتی ہے اور ریاست کے مشہور ساحلی اور سیاحتی علاقوں سے دور رہتی ہے۔

کئی دہائیوں پر مشتمل ریکارڈ کا جائزہ لینے والی نئی تحقیق سے انکشاف ہوا کہ ریلوے سے منسلک بعض ایسے مقامات پر بھی کنگ کوبرا پائے گئے جو غیر متوقع تھے۔ یہ سانپ دنیا کے سب سے لمبے زہریلے سانپ سمجھے جاتے ہیں، یہ علاقے ان کے قدرتی مسکن کے مقابلے میں اس نسل کے لیے زیادہ موزوں نہیں ہیں۔

تحقیق کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کا ریلوے نظام، جو مسافروں کی تعداد کے اعتبار سے دنیا کا مصروف ترین نظام ہے، کنگ کوبرا کی نقل مکانی میں کردار ادا کر رہا ہے اور انہیں ایسے مقامات تک پہنچا رہا ہے جو ان کے لیے مناسب مسکن نہیں۔

2002 سے 2024 تک کے سانپوں کے ریسکیو ڈیٹا اور مقامی طور پر تصدیق شدہ رپورٹس کے تجزیے میں محققین کو گوا میں اس نسل کے 47 مسکن ملے، جن میں سے 18 ریاست کے شمالی حصے اور 29 جنوبی حصے میں تھے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ ان میں سے پانچ کنگ کوبرا کے ریکارڈ مصروف ریلوے راہداریوں کے قریب سے ملے۔

سائنسی جرنل بائیو ٹراپیکا میں شائع ہونے والی تحقیق میں انہوں نے لکھا ہے کہ ’یہ قابل ذکر ہے کہ مصروف ریلوے راہداریوں کے ساتھ واقع پانچ کنگ کوبرا کے ریکارڈ ہمارے ماڈل کے مطابق پیش گوئی کی گئی کم ترین امکان والی جگہوں پر موجود تھے۔‘

محققین نے لکھا کہ حالیہ برسوں میں کم قیمت سمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کی عالمی سطح پر بڑھتی دستیابی کے باعث انڈیا میں ٹرینوں پر اور ان کے آس پاس سانپوں کی موجودگی کی رپورٹس میں اضافہ ہوا ہے۔

سائنس دانوں کے مطابق ان میں سے تین واقعات صرف 30 دن کے عرصے میں ریکارڈ کیے گئے جبکہ سوشل میڈیا پر اس سے بھی زیادہ واقعات سامنے آئے، انڈیا میں ٹرینوں پر سانپوں کی نقل و حرکت کی حالیہ رپورٹس اور ایک ریلوے یارڈ میں اس نسل کے کنگ کوبرا کی موجودگی، جو رینگنے والے جانوروں کے لیے بالکل ناموزوں مسکن ہیں، کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم یہ مفروضہ پیش کرتے ہیں کہ سانپ، بشمول کنگ کوبرا، ممکنہ طور پر ٹرینوں کے ذریعے حادثاتی نقل و حمل کے باعث غیر ارادی طور پر اپنے مسکن کو وسیع کر رہے ہیں۔

محققین کو شبہ ہے کہ انڈیا کی مال بردار ٹرینوں میں چوہوں اور دیگر سانپوں کی شکل میں دستیاب خوراک، نیز پناہ گاہ اور اتفاقی مواقع اس نقل مکانی کو بڑھا رہے ہیں، تحقیق ایک مختلف اور زیادہ غیر فعال طریقہ کار کی نشاندہی کرتی ہے یعنی ریلوے لائنیں نہ صرف فعال نقل و حرکت کے لیے راہداری کا کام کر سکتی ہیں بلکہ تیز رفتار راستے بھی بن سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ریلوے لائنیں انجانے میں ایسے علاقوں کو آپس میں ملا رہی ہیں جو عام طور پر جانوروں کے رہنے کے لیے مناسب نہیں ہوتے، یہ انسان اور جنگلی جانوروں کے تعلق کا ایک نیا اور کم سمجھا گیا پہلو ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کنگ کوبرا رہے ہیں کے لیے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • مون سون کا طاقتورسپیل ، جھل تھل ایک ہوگیا،2 وکلاء کے چیمبر گرگئے
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ