رمضان المبارک کی آمد، مہنگائی برقرار؛ شہری ریلیف کے منتظر
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
خان شہزاد:ملک بھر میں رمضان المبارک کی آمد کے پیش نظر بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھنا شروع ہو گیا ہے، تاہم شہری بنیادی اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے منتظر ہیں۔
اوپن مارکیٹ میں آٹے کے سوا تقریباً تمام اشیاء کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق معیاری چاول 400 سے 620 روپے فی کلو فروخت ہو رہے ہیں، جبکہ درجہ اول کا گھی اور کوکنگ آئل 590 سے 610 روپے فی کلو دستیاب ہے۔ درجہ دوم کا گھی 520 روپے کلو اور آئل 540 روپے فی لیٹر میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی سعودی عرب کے وزیر دفاع سے اہم ملاقات
اوپن مارکیٹ میں چینی کی قیمت 170 روپے فی کلو تک جا پہنچی ہے، جبکہ دودھ، دہی اور گوشت بھی سرکاری نرخوں پر دستیاب نہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ رمضان سے قبل انتظامیہ کو قیمتوں میں استحکام یقینی بنانا چاہیے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ضلعی انتظامیہ گراں فروشی کے خلاف مؤثر کارروائی کرے اور سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے تاکہ رمضان المبارک کے دوران عوام کو ریلیف فراہم ہو سکے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیرصدارت اجلاس، سرکاری اداروں کی نجکاری پر پیشرفت کا جائزہ
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: روپے فی
پڑھیں:
آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف)کی شرائط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
وفاقی وزارت خزانہ حکام کے مطابق آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ستمبر 2026 سے ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کی پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت ختم کر دی جائے گی اور ان زونز کو اپنی 100 فیصد پیداوار برآمد کرنا ہوگی۔
حکام کا کہنا تھا کہ اس وقت ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کو اپنی 20 فیصد پیداوار مقامی مارکیٹ میں فروخت کرنے کی اجازت حاصل ہے تاہم آئی ایم ایف نے اس رعایت کو برقرار رکھنے کی حکومتی درخواست مسترد کر دی ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق حکومت نے مزید ایکسپورٹ پراسسنگ زونز کے قیام کی اجازت کی بھی درخواست کی تھی تاہم آئی ایم ایف نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔
حکام نے بتایا کہ حکومت آئندہ اقتصادی جائزے کے دوران دوبارہ درخواست کرے گی کہ مقامی مارکیٹ میں 20 فیصد پیداوار فروخت کرنے پر پابندی عائد نہ کی جائے۔
وزارت خزانہ کے مطابق مقامی مارکیٹ میں پیداوار فروخت کرنے کی چھوٹ ختم کرنے کی تجویز فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کو بھی بھجوائی جا رہی ہے۔