کوئی ہیر پھیر یا پوشیدہ منصوبہ بندی نہیں، نجی ذرائع کے اعدادو شمار سرکاری نہیں، چیف الیکشن کمشنر بنگلہ دیش
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمیشنر (CEC) ای ایم ایم ناصرالدین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ناصرالدین نے واضح کیا کہ ٹی وی یا دیگر نجی ذرائع پر جاری کیے جانے والے اعداد و شمار سرکاری یا حتمی نتائج نہیں ہیں اور صرف وہ نتائج قانونی حیثیت رکھتے ہیں جو ریٹرننگ آفیسرز کی دستخط شدہ گزٹ میں شائع ہوں۔ انہوں نے عوام اور میڈیا کو یقین دلایا کہ کوئی پوشیدہ ایجنڈا یا ہیر پھیر نہیں ہے اور تمام مراحل شفاف طور پر مکمل کیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: بھرپور ٹرن آؤٹ، ’اسٹیجڈ الیکشن‘ کا دور ختم، چیف الیکشن کمشنر
ڈھاکہ میں ای سی آفس آگراگون میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے غیر سرکاری نتائج کے اعلان کی تقریب کے دوران ناصرالدین نے کہا کہ عوام دیکھیں، میڈیا دیکھے، ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی جان لے کہ یہاں کچھ چھپانے کو نہیں ہے۔ ہم نے مکمل شفاف انتخابات کرانے کی کوشش کی ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ابتدائی نتائج کے اعلان کی رفتار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ پہلے 2 گھنٹوں میں 8 فیصد نتائج اور اگلے 2 گھنٹوں میں 25 فیصد نتائج کیسے اعلان کیے گئے۔ یاد رکھیں، ہمارے پاس 42,500 پولنگ مراکز ہیں اور ہم صرف انہی مراکز سے موصول شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر نتائج اعلان کر رہے ہیں۔
سی ای سی نے کہا کہ جیسے جیسے مزید ڈیٹا موصول ہوگا، نتائج میں اتار چڑھاؤ آنا فطری ہے۔ یہ کوئی ہیر پھیر یا پوشیدہ منصوبہ بندی نہیں، صرف حساب کا معاملہ ہے۔ ہم صرف موصولہ اعداد و شمار جمع کر کے اعلان کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیشن کا مقصد قوم کے سامنے قابل اعتماد انتخابات پیش کرنا تھا اور انہیں یقین ہے کہ یہ کامیاب ہوا ہے، جس کی تصدیق صحافیوں سمیت سب نے کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ووٹ ڈالیں اور جمہوری نتائج کا احترام کریں، بنگلہ دیشی چیف الیکشن کمشنر کی عوام سے اپیل
ناصرالدین نے انتخابات کے حجم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک 180 ملین افراد کا ہے، جس میں 127 ملین ووٹرز ہیں۔ ریفرنڈم سمیت 200 ملین بیلٹ پرنٹ اور تقسیم کیے گئے، لہذا کچھ محدودیتیں فطری ہیں۔
انہوں نے میڈیا، سیاسی رہنماؤں، جماعتوں، ووٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریباً 1.
انہوں نے اعتراف کیا کہ کوئی بھی انتخابات مکمل طور پر بے عیب نہیں ہوتا۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ بے عیب تھا، دنیا کے کسی بھی ملک میں انتخابات مکمل بے عیب نہیں ہوتے۔ حتیٰ کہ امریکہ میں بھی مسائل پیش آتے ہیں۔ لیکن کسی بھی معیار سے دیکھا جائے تو یہ اچھا اور قابل قبول انتخابات تھا۔
آخر میں سی ای سی نے یاد دلایا کہ سرکاری نتائج صرف وہ ہوں گے جو ریٹرننگ آفیسرز کی دستخط شدہ گزٹ میں شائع ہوں۔ نجی ذرائع ٹی وی پر اعداد و شمار شئیر کر سکتے ہیں، لیکن وہ سرکاری نہیں ہیں۔ صرف وہ نتائج اعلان کیے جائیں گے جو ہمیں باضابطہ طور پر موصول ہوں۔ گزٹ حتمی اور سرکاری دستاویز ہوگی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش الیکشن بنگلہ دیش الیکشن کمشنر بنگلہ دیش انتخابات
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش الیکشن بنگلہ دیش الیکشن کمشنر بنگلہ دیش انتخابات
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔