بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمیشنر (CEC) ای ایم ایم ناصرالدین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ناصرالدین نے واضح کیا کہ ٹی وی یا دیگر نجی ذرائع پر جاری کیے جانے والے اعداد و شمار سرکاری یا حتمی نتائج نہیں ہیں اور صرف وہ نتائج قانونی حیثیت رکھتے ہیں جو ریٹرننگ آفیسرز کی دستخط شدہ گزٹ میں شائع ہوں۔ انہوں نے عوام اور میڈیا کو یقین دلایا کہ کوئی پوشیدہ ایجنڈا یا ہیر پھیر نہیں ہے اور تمام مراحل شفاف طور پر مکمل کیے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:بنگلہ دیش عام انتخابات 2026: بھرپور ٹرن آؤٹ، ’اسٹیجڈ الیکشن‘ کا دور ختم، چیف الیکشن کمشنر

ڈھاکہ میں ای سی آفس آگراگون میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے غیر سرکاری نتائج کے اعلان کی تقریب کے دوران ناصرالدین نے کہا کہ عوام دیکھیں، میڈیا دیکھے، ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی جان لے کہ یہاں کچھ چھپانے کو نہیں ہے۔ ہم نے مکمل شفاف انتخابات کرانے کی کوشش کی ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ ابتدائی نتائج کے اعلان کی رفتار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ کچھ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ پہلے 2 گھنٹوں میں 8 فیصد نتائج اور اگلے 2 گھنٹوں میں 25 فیصد نتائج کیسے اعلان کیے گئے۔ یاد رکھیں، ہمارے پاس 42,500 پولنگ مراکز ہیں اور ہم صرف انہی مراکز سے موصول شدہ ڈیٹا کی بنیاد پر نتائج اعلان کر رہے ہیں۔

سی ای سی نے کہا کہ جیسے جیسے مزید ڈیٹا موصول ہوگا، نتائج میں اتار چڑھاؤ آنا فطری ہے۔ یہ کوئی ہیر پھیر یا پوشیدہ منصوبہ بندی نہیں، صرف حساب کا معاملہ ہے۔ ہم صرف موصولہ اعداد و شمار جمع کر کے اعلان کر رہے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ کمیشن کا مقصد قوم کے سامنے قابل اعتماد انتخابات پیش کرنا تھا اور انہیں یقین ہے کہ یہ کامیاب ہوا ہے، جس کی تصدیق صحافیوں سمیت سب نے کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ووٹ ڈالیں اور جمہوری نتائج کا احترام کریں، بنگلہ دیشی چیف الیکشن کمشنر کی عوام سے اپیل

ناصرالدین نے انتخابات کے حجم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک 180 ملین افراد کا ہے، جس میں 127 ملین ووٹرز ہیں۔ ریفرنڈم سمیت 200 ملین بیلٹ پرنٹ اور تقسیم کیے گئے، لہذا کچھ محدودیتیں فطری ہیں۔

انہوں نے میڈیا، سیاسی رہنماؤں، جماعتوں، ووٹرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ تقریباً 1.

7 ملین افراد نے انتخابات کے انعقاد میں حصہ لیا، جن میں سے 900,000 قانون نافذ کرنے والے اداروں سے تھے۔ بہت سے ممالک میں اتنے عملے کی دستیابی بھی نہیں ہے۔ سب کے تعاون سے ہم نے ایک منصفانہ انتخابات ممکن بنایا۔

انہوں نے اعتراف کیا کہ کوئی بھی انتخابات مکمل طور پر بے عیب نہیں ہوتا۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ یہ بے عیب تھا، دنیا کے کسی بھی ملک میں انتخابات مکمل بے عیب نہیں ہوتے۔ حتیٰ کہ امریکہ میں بھی مسائل پیش آتے ہیں۔ لیکن کسی بھی معیار سے دیکھا جائے تو یہ اچھا اور قابل قبول انتخابات تھا۔

آخر میں سی ای سی نے یاد دلایا کہ سرکاری نتائج صرف وہ ہوں گے جو ریٹرننگ آفیسرز کی دستخط شدہ گزٹ میں شائع ہوں۔ نجی ذرائع ٹی وی پر اعداد و شمار شئیر کر سکتے ہیں، لیکن وہ سرکاری نہیں ہیں۔ صرف وہ نتائج اعلان کیے جائیں گے جو ہمیں باضابطہ طور پر موصول ہوں۔ گزٹ حتمی اور سرکاری دستاویز ہوگی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بنگلہ دیش الیکشن بنگلہ دیش الیکشن کمشنر بنگلہ دیش انتخابات

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بنگلہ دیش الیکشن بنگلہ دیش الیکشن کمشنر بنگلہ دیش انتخابات

پڑھیں:

فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان

12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد میں اضافی پانی کا منصوبہ ’کے فور‘ کی تکمیل میں مزید تین سال لگ سکتے ہے، جبکہ منصوبے کا اصل کام تو ابھی شروع ہی نہیں ہوا، جب وہ ہوگا تو شہر کی مرکزی سڑکیں متاثر ہوگی، حکام نے بتایا کہ 12 سال پہلے یہ منصوہہ 25 ارب روپے مکمل ہو جانا تھا، تاہم اب اس کی لاگت 200 ارب روپے سے زائد ہو چکی ہے اور آنے والے وقت تخمینی لاگت میں مزید اضافہ کا بھی امکان ہے۔ تفصیلات کے مطابق کراچی میں پانی کی طلب 1 ارب 20 کروڑ گیلن ہے، جبکہ رسد 65 کروڑ گیلن ہے شہر کو مزید پانی فراہم کرنے کیلئے کے فور منصوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا، لیکن حکومتین تبدیل ہوتی رہی لیکن یہ منصوبہ 20 سال سے زیر التواء ہے۔ 2014ء میں اس منصوبے کو وفاق اور سندھ حکومت نے مل کر بنانا تھا، جس کی لاگت 25 ارب روپے بتائی گئی تھی لیکن پھر کھٹائی میں پڑ گیا، تاہم پھر اس کو واپڈا کو دیا گیا اور اس کی مکمل ہونے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی لیکن اس میں مکمل نہیں ہو سکا۔ کئی ڈیڈ لائن گزر گئیں لیکن منصوبہ مکمل نہیں ہوسکا، تاہم اب وفاقی وزیر احسن اقبال نے دسمبر 2026ء کی ڈیڈ لائن دی ہے۔

کے فور منصوبہ 2026ء میں بھی مکمل نہیں ہو سکے گا، اس کی مکمل ہونے کا امکان 2029ء کی جنوری تک ہے۔ کے فور منصوبے پر وفاق کی جانب سے تین کام کئے جانے ہیں، جن میں ٹراسمیشن لائن، پمپنگ اسٹیشن اور فلٹر پلانٹ بنانے کے کام کی ذمہ داری ہے، جبکہ سندھ حکومت کے پاس چار کام کرنے تھے، اس میں اراضی مہیا کرنا، آگمینٹیشن، الیکٹرک سپلائی اور اری گیشن کی ذمہ داری تھی، جو کینچھر جیل سے پانی فراہم کرنے میں مدد کریگا۔ اس منصوبے کا ابھی بہت کام کرنا باقی ہے، آگمیٹیشن کا نیپا سے حسن اسکوائر کا نومبر 2025ء سے اب تک کام مکمل نہیں ہوسکا، بلکہ بین الاقومی مالیاتی ادارے نے اس کو غیر معیاری قرار دے دیا ہے اور ابھی تو بہت کام باقی ہے، جب یہ لائنیں شہر کی مرکزی راستوں میں ڈالی جائیں گی اس وقت شہریوں کو آمدورفت میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔

متعلقہ مضامین

  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بانی جس دن محمود اچکزئی سے مطمئن نہیں ہوں گے ہٹادیے جائیں گے، جنید اکبر
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • کے فور منصوبہ مزید تاخیر کا شکار، 2029 تک مکمل ہونے کا امکان
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے