سینیٹ کمیٹی میں CAMELL پروجیکٹ کو اونٹ سمجھ کر بحث ہوتی رہی، 15 منٹ بعد پتا چلا یہ تھر کا کمیونٹی ایکشن پلان ہے
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے فوڈ سکیورٹی کے اجلاس میں تھرپارکر کے کمیونٹی ایکشن پلان پر گفتگو کے دوران ایک دلچسپ صورت حال سامنے آگئی۔
اجلاس میں ’’کمیونٹی ایکشن پلان فار منیجمنٹ آف سسٹین ایبل ایکوسسٹم لائیوز اینڈ لائیولی ہڈ (CAMELL)‘‘ منصوبے پر بحث ہونی تھی، تاہم اسے لفظ camel (اونٹ) سمجھ لیا گیا اور تقریباً 15 منٹ تک اونٹوں سے متعلق امور پر گفتگو جاری رہی۔ بعد ازاں واضح ہوا کہ یہ دراصل تھرپارکر کے کمیونٹی ایکشن پلان کا مخفف ہے۔
چیئرمین قائمہ کمیٹی مسرور احسن نے CAMELL کو اونٹ سمجھتے ہوئے سوال اٹھایا کہ تھرپارکر میں اونٹوں کے تحفظ اور افزائش کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وزارت سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی اور مکمل تفصیلات فراہم نہیں کی جاتیں۔
اس دوران سینیٹر دنیش کمار نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی کیا وضاحت کریں گے، یہاں تو کیمل کے اسپیلنگ تک درست نہیں معلوم۔ وزیر مملکت ملک رشید نے بھی گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ اونٹوں کی افزائش پر کام جاری ہے اور آئندہ اجلاس میں تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔ سینیٹر ایمل ولی خان نے رائے دی کہ 18ویں ترمیم کے بعد اختیارات کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
بعد میں پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) کے رکن نے وضاحت کی کہ یہ ’’CAMELL‘‘ پراجیکٹ ہے، جس کا تعلق کمیونٹی ایکشن پلان سے ہے، نہ کہ اونٹوں سے۔ اس پر چیئرمین نے کہا کہ کیمل تو ایک ہی ہوتا ہے، آپ کس کی بات کر رہے ہیں؟ جس پر رکن پی اے آر سی نے وضاحت کی کہ یہ دراصل منصوبے کا مخفف ہے۔
جب 15 منٹ بعد حقیقت سامنے آئی تو کمیٹی ارکان اپنی ہنسی نہ روک سکے اور اجلاس میں قہقہے گونج اٹھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کمیونٹی ایکشن پلان اجلاس میں کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
سٹی42: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت آئی ٹی شعبے کے اسٹرٹیجک روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
اجلاس میں وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور متعلقہ ٹیم کو مبارکباد دی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کے لیے اختیار کی گئی پالیسیوں کا نتیجہ ہے اور آئی ٹی شعبے کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آئی ٹی سے متعلق تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے اور تربیت کے معیار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ انہوں نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کی بھی ہدایت کی۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم جون 2025 کے 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026 میں 880 میگا ہرٹز ہو چکا ہے، جس سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ اس کے علاوہ "کنیکٹ پاکستان وژن 2030" کے اجراء کی تیاریوں سے بھی آگاہ کیا گیا۔بریفنگ کے مطابق باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، جبکہ پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024 کے 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026 میں 72 فیصد ہو گیا ہے۔ جون 2026 تک 5.1 ملین گھروں کو فکسڈ براڈ بینڈ یا فائبر کنکشن فراہم کیے جا چکے ہیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ گزشتہ مالی سال آئی ٹی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1.164 ارب ڈالر رہا، جبکہ "ڈیجیٹل نیشن پاکستان" کے تحت 130 سرکاری خدمات کو ڈیجیٹلائز کیا جا چکا ہے۔ اسی عرصے میں آئی ٹی شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، 5,053 ہائی اینڈ تربیتی پروگرام اور لیڈرشپ و سافٹ اسکلز سے متعلق 2,700 تربیتی سیشنز منعقد کیے گئے۔
بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کا افتتاح جلد کیا جائے گا، جبکہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت متعدد وفاقی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کے منصوبوں اور تربیتی پروگراموں پر کام جاری ہے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، شزا فاطمہ خواجہ، خالد مقبول صدیقی، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری حکام نے شرکت کی۔
شہر میں بارش سے بجلی کا ترسیلی نظام متاثر، 130 سے زائد فیڈرز بند