چھانگا مانگا پولیس کی بڑی کارروائی، لاہور سے اغوا ہونے والی 2 کمسن بہنیں بازیاب
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
قصور(نیوز ڈیسک) چھانگا مانگا پولیس نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے لاہور سے اغوا ہونے والی 2 کمسن بہنوں کو بازیاب کروا لیا۔
تھانہ چھانگا مانگا پولیس نے دوران گشت مشتبہ افراد کو حراست میں لیا تو ملزمان نے 2 کمسن بچیوں کے اغوا کا اعتراف کرلیا، ملزمان کی نشاندھی پر پولیس نے دونوں مغوی بچیاں برآمد کر لیں جن کی شناخت عروج فاطمہ عمر 16 سال اور منیسہ فاطمعہ عمر 12 سال سے ہوئی۔
ملزمان نے بچیوں کو لاہور سے اغواء کیا تھا، ملزمان کی شناخت شان علی اور غلام فرید کے نام سے ہوئی ہے جو کہ لاہور کے رہائشی ہیں، دونوں بہنوں کے اغوا کا مقدمہ لاہور میں تھانہ نواں کوٹ میں والد کی مدعیت میں درج ہے۔
ترجمان پولیس کا کہنا ہے ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے، مختلف تھانوں سے ملزمان کے سابقہ ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے بعد مناسب ضابطہ کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔