رمضان المبارک میں سیکیورٹی انتظامات، محکمۂ داخلہ پنجاب کی ہدایات جاری
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
---فائل فوٹو
محکمۂ داخلہ پنجاب نے رمضان المبارک کے دوران سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ اداروں کو اہم ہدایات جاری کر دیں۔
محکمۂ داخلہ پنجاب نے ہدایت کی ہے کہ مساجد، مذہبی مقامات اور رمضان بازاروں کی سیکیورٹی کو اولین ترجیح دی جائے۔
مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں کی حفاظت کے لیے اضافی نفری تعینات کرنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
ہدایت نامے میں کہا گیا ہے کہ سحری، افطار، تراویح اور جمعے کے اوقات میں سیکیورٹی مزید سخت کی جائے جبکہ عبادت گاہوں کے اطراف میں گشت، ناکہ بندی اور سرچ آپریشنز کو مؤثر بنایا جائے۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے رمضان المبارک کے آخری عشرے میں سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کی ہدایت کردی۔
رمضان المبارک سے قبل سی سی ٹی وی کیمروں، واک تھرو گیٹس اور سرچ لائٹس کی تنصیب یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی گئی ہے، افطار کے وقت فیلڈ میں تعینات اہلکاروں کی افطاری کا اہتمام کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
محکمۂ داخلہ پنجاب نے کالعدم تنظیموں اور فورتھ شیڈول میں شامل افراد کی سخت نگرانی کی بھی ہدایت کی ہے، انتظامیہ کو ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
مزید برآں کہا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکرز کے غلط استعمال پر ساؤنڈ سسٹمز ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی، پنجاب بھر میں اسلحے کی نمائش پر سخت پابندی عائد ہے اور خلاف ورزی پر بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی گئی ہے۔
سوشل میڈیا مانیٹرنگ کے ذریعے نفرت آمیز اور اشتعال انگیز مواد کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لانے کا حکم دیا گیا ہے۔
دیواروں پر نازیبا تحریروں اور پوسٹرز کے خاتمے کے لیے بھی متعلقہ اداروں کو ایکشن لینے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رمضان المبارک میں سیکیورٹی داخلہ پنجاب کی گئی ہے کی ہدایت گیا ہے
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔