بی این پی کی سب سے بڑی حریف جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنی شکست کو تسلیم کرتی ہے اور وہ "مخالفت کی سیاست" کے بجائے "مثبت سیاست کے تحت" آگے بڑھے گی۔ اسلام ٹائمز۔ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے 15 فروری کو حکومت بنانے کا اعلان کر دیا اور کہا کہ بی این پی تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائے گی، جماعت اسلامی نے اچھی حریف پارٹی ہونے کا ثبوت دیا۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بنگالی نیوز چینل جامونا ٹی وی کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کو انتخابات میں بڑی اکثریت مل گئی ہے، اب تک غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد کو 300 نشستوں میں سے 212 نشستوں پر کامیابی مل چکی ہے جبکہ جماعت اسلامی اتحاد کو 70 نشستوں پر فتح نصیب ہوئی ہے۔ اسی طرح نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ سیٹیں جیت پائی ہے، ووٹوں کی گنتی اب تک جاری ہے، ٹرن آؤٹ 60 فیصد رہا۔ بنگلہ دیش کے لوگوں کی صبح کا آغاز اس خبر سے ہوا ہے کہ بی این پی برتری حاصل کر رہی ہے اور اگلی حکومت بنانے کے قریب ہے، بنگلہ دیشی اخبارات نے پہلے ہی بی این پی کی فتح کے امکانات ظاہر کر دیئے ہیں، اب بہت سے لوگ سوچ رہے ہیں کہ بی این پی کے رہنماء طارق رحمان ملک کے اگلے وزیراعظم بن سکتے ہیں۔

چیئرمین بی این پی طارق رحمان دونوں نشستوں پر کامیاب ہوئے، امیر جماعت اسلامی شفیق الرحمان بھی اپنی نشست جیت گئے، اتحادی طالبعلم رہنما ناہید اسلام نے ریکارڈ ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی۔ انتخابات میں 7 خواتین بھی منتخب ہوگئیں، افروزاں خان، عشرت سلطانہ، تاشینہ رشدیر، شمع عبیدی، نایاب وسف کمال اور فرزانہ شرمینہ بی این پی کی ٹکٹ پر کامیاب ہوئیں جبکہ بیرسٹر رحمینہ فرحان نے آزاد حیثیت سے کامیابی حاصل کی۔ بھارت میں پناہ گیر شیخ حسینہ نے انتخابات کو ڈھونگ قرار دے دیا۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستانی عوام اور حکومت پاکستان کی جانب سے طارق رحمان کو بنگلہ دیش کے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد دے دی۔ صدر اور وزیراعظم نے کہا کہ بنگلہ دیش کے عوام کو انتخابات کے کامیاب انعقاد پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش کی نئی قیادت کے ساتھ قریبی تعاون کا خواہاں ہوں، تاکہ اپنے تاریخی، برادرانہ اور ہمہ جہتی دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور جنوبی ایشیا اور اس سے باہر امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھایا جا سکے۔ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بنگلہ دیش کے انتخابات میں قیادت حاصل کرنے پر مرحومہ خالدہ ضیاء کے صاحبزادے طارق رحمان کو دلی مبارکباد دی ہے۔ انہوں نے ایکس پر لکھا کہ مجھے یقین ہے کہ طارق رحمان کی قابل قیادت میں بنگلہ دیش امن، ترقی اور خوشحالی کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ پاکستان خود مختار برابری اور باہمی احترام کی بنیاد پر دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے، بنگلہ دیش کے عوام کو کامیاب جمہوری انتقالِ اقتدار پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔

سرکاری نتائج
سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی نے اب تک 100 نشستیں حاصل کر لی ہیں، یعنی حکومت بنانے کے لیے مطلوبہ اکثریت سے صرف 51 نشستیں کم ہیں۔ حتمی نتائج ابھی آنے ہیں، لیکن پارٹی نے فتح کا دعویٰ کر دیا ہے اور مبارکبادوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ دوسری جانب اسلام پسند جماعت جماعتِ اسلامی 40 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ بنگلہ دیش الیکشن کمیشن نے 3 حلقوں کے انتخابی نائیج روک دیئے، شیر پور، چٹا گانگ2 اور چٹا گانگ 4 کے حلقوں کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے کہا کہ امن عامہ پہلی ترجیح ہے، تاکہ عوام خود کو محفوظ سمجھ سکیں، ملک کی آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے، ہم ان پر توجہ دیں گے۔ طارق رحمان نے پارٹی کے حامیوں اور کارکنوں سے نماز جمعہ میں خصوصی دعاؤں میں شریک ہونے اور کسی بھی قسم کی ریلیوں یا جشن سے گریز کی اپیل کی ہے، بیان میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ مساجد، مندروں، گرجا گھروں اور دوسری عبادت گاہوں میں جا کر خدا کا شکر ادا کریں۔ ادھر چیف ایڈوائزر محمد یونس نے کہا کہ آئینی حق ادا کرنے میں عوام نے بھرپور حصہ لیا۔

بی این پی کی سب سے بڑی حریف جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان نے کہا ہے کہ ان کی جماعت اپنی شکست کو تسلیم کرتی ہے اور وہ "مخالفت کی سیاست" کے بجائے "مثبت سیاست کے تحت" آگے بڑھے گی۔ بنگلہ دیش کے چیف الیکشن کمیشنر ای ایم ایم ناصرالدین نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن نے شفاف اور قابل اعتماد انتخابات کرانے میں کامیابی حاصل کی ہے، ٹی وی یا دیگر نجی ذرائع پر جاری کیے جانے والے اعداد و شمار سرکاری یا حتمی نتائج نہیں ہیں اور صرف وہ نتائج قانونی حیثیت رکھتے ہیں، جو ریٹرننگ آفیسرز کی دستخط شدہ گزٹ میں شائع ہوں۔

انہوں نے عوام اور میڈیا کو یقین دلایا کہ کوئی پوشیدہ ایجنڈا یا ہیر پھیر نہیں ہے اور تمام مراحل شفاف طور پر مکمل کیے گئے ہیں۔ ڈھاکہ میں ای سی آفس آگراگون میں 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کے غیر سرکاری نتائج کے اعلان کی تقریب کے دوران ناصرالدین نے کہا کہ عوام دیکھیں، میڈیا دیکھے، ہم چاہتے ہیں کہ ہر کوئی جان لے کہ یہاں کچھ چھپانے کو نہیں ہے، ہم نے مکمل شفاف انتخابات کرانے کی کوشش کی ہے۔

بنگلہ دیش میں تعینات امریکی سفیر نے بی این پی اور اس کے رہنما طارق رحمان کو کامیاب انتخابات اور تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ سفیر برینٹ ٹی کرسٹینسن نے اپنے پیغام میں لکھا کہ امریکہ دونوں ممالک کی خوشحالی اور سلامتی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے آپ کے ساتھ کام کرنے کا خواہاں ہے۔ یاد رہے کہ سرکاری نتائج ابھی جاری نہیں ہوئے، تاہم مقامی میڈیا نے بی این پی کی بھاری اکثریت سے کامیابی کی پیش گوئی کی ہے۔ عالمی مبصرین کا خیال اس الیکشن کے بعد ملک کی صورت حال میں استحکام آنے کی توقع ہے۔

ساڑھے 17 کروڑ کی آبادی رکھنے والے اسلامی ملک پر قریباً 15 برس تک شیخ حسینہ واجد کی جماعت کی حکومت رہی، جس سے عوام کو کافی شکایات بھی رہیں اور اس کے نتیجے میں اگست 2024ء میں شدید احتجاجی لہر اٹھی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سرکاری نتائج انتخابات میں جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے حکومت بنانے بی این پی کی نے کہا کہ انہوں نے کے ساتھ ہے اور

پڑھیں:

طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم

ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ  کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پارٹی‘ مرکزی مسلم لیگ‘ جموں کشمیر یونائیٹڈ موومنٹ کا اتحاد 
  • خیبر پی کے میں بلدیاتی انتخابات 2 مراحل میں ہونے کا امکان 
  • حکومت نے یومیہ بنیادوں پر آج پھر عوام پر پیٹرول بم گرا دیا
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • فیلڈ مارشل کا بلوچستان میں دہشت گردی کو پوری طاقت سے کچلنے کے عزم کا اظہار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن