تختِ مظفرآباد کیلئے سیاسی بساط بچھ گئی، امیدواروں کے ناموں پر پراسرار خاموشی،اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے، آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ
30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے،نون لیگ اپنا صدر لائے گی(راجا فاروق حیدر) صدارتی منصب کے حصول کیلئے دونوں پارٹیوں میں سیاسی تناؤ شدت اختیار کر گیا

آزاد جموں و کشمیر میں نئے صدرِ کے انتخاب کے معاملے پر سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں تاہم دو بڑی جماعتوں، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے صدارتی امیدوار سامنے لانے بارے پراسرار خاموشی اختیار کر رکھی حالاں کہ دونوں جماعتیں اس سلسلے میں مشاورتی اجلاس منعقد کر چکی ہیں ۔ سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات کے بعد خالی ہونے والے اس اہم ترین عہدے کے لیے پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار لانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، اس سلسلے میںاسلام آباد میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی زیرِ صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں آزاد کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فیصل ممتاز راٹھور سمیت پارلیمانی وفد نے شرکت کی۔ وفد نے صدر زرداری سے پارٹی معاملات اور مستقبل کے سیاسی اقدامات پر تفصیلی مشاورت کی۔ ذرائع کے مطابق، اس اجلاس میں دو ٹوک فیصلہ کیا گیا کہ آزاد کشمیر کا اگلا صدر اور ڈپٹی اسپیکر پیپلز پارٹی سے ہی ہوں گے۔ ادھر پاکستان مسلم لیگ ن نے بھی مشاورت شروع کر دی ہے وزیر امور کشمیر امیر مقام کی سربراہی میں اجلاس بھی ہو چکا ہے، پاکستان مسلم لیگ ن ازاد کشمیر کے رہنما اور سابق وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر کہہ چکے ہیں کی مسلم لیگ ن اپنا صدر لائے گی سابق صدر بیرسٹر سلطان محمود کی وفات 31جنوری کو ہوئی تھی آئینی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے 30 روز کے اندر صدارتی انتخاب کا عمل مکمل کیا جانا ضروری ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی تعیناتی کے لیے نام پہلے ہی چیرمین کشمیر کونسل وزیر اعظم پاکستان کو ارسال کیے جا چکے ہیں اور اس پر جلد فیصلہ متوقع ہے۔پیپلز پارٹی کی قیادت نے صدارتی امیدوار کے نام کا ابھی تک باقاعدہ اعلان نہیں کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی مزید مشاورت کے بعد کسی’سرپرائز’نام کے ساتھ سامنے آئے گی۔ دوسری جانب، ن لیگ کے ساتھ اس عہدے پر ہونے والی کھینچا تانی نے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا دونوں جماعتیں کسی ایک نام پر متفق ہو پائیں گی یا آزاد کشمیر کے ایوان میں صدارتی معرکہ آمنے سامنے کا ہوگا۔ صدارتی منصب کے حصول کے لیے ، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان سیاسی تناؤ شدت اختیار کر گیا ہے۔ اس اہم ترین عہدے کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کی طرف سے اپنا اپنا امیدوار لانے کے فیصلے سے ریاست کے سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہو گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: اور پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کے لیے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی