ویمنز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز: پاکستان کا نیپال کو شکست دے کر فاتحانہ آغاز
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
ویمنز ایشیا کپ رائزنگ اسٹارز میں پاکستان نے نیپال کو شکست دے کر ایونٹ کا فاتحانہ آغاز کردیا۔
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں کھیلے جارہے میچ میں نیپال نے ٹاس جیت کر پاکستان کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی۔
پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 137 رنز بنائے۔ کپتان حفصہ خالد ناقابل شکست 40 اور وحیدہ اختر 23 رنز بناکر نمایاں رہیں۔
Leading from the front ????
Pakistan Women's A captain Hafsa Khalid is the player of the match against Nepal ✨#PAKWvNEPW | #BackOurGirls | #AsiaCupRisingStars pic.
نیپال کی جانب سے کبیتا کنوار نے 2 جبکہ منیشا اوپادھائے، ریا شرما، سیتا رانا مگر اور روبینہ چھیتری نے ایک ایک وکٹ حاصل کی۔
ہدف کے تعاقب میں نیپال کی ٹیم مقررہ 20 اوورز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 107 رنز بناسکی۔ بندو راول 39 اور کبیتا کنور ناٹ آؤٹ 18 رنز بناکر نمایاں رہیں۔
???? Clinical bowling by Anosha Nasir & Momina Riasat! Crucial wickets seal the deal ????
✨ Pakistan Women’s A begin their Asia Cup Rising Stars campaign with a 30-run win over Nepal ????????????#PAKWvNEPW | #BackOurGirls | #AsiaCupRisingStars pic.twitter.com/xgwsbDUbkS
پاکستان کی جانب سے انوشہ ناصر نے 3، مومنہ ریاست نے 2 اور وحیدہ اختر نے ایک وکٹ حاصل کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔