صدر ٹرمپ کا ایران کو جوہری معاہدے میں ناکامی پر شدید نتائج کا انتباہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا کہ اگر وہ جوہری معاہدہ کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اسے ’انتہائی شدید‘ نتائج بھگتنا پڑیں گے۔
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے کسی بھی ممکنہ معاہدے کے معیار پر شکوک کا اظہار کیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم سے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے ایک دن بعد صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات اگلے ماہ تک نتیجہ خیز ہوں گے۔
’ہمیں معاہدہ کرنا ہوگا، ورنہ اس کے شدید نتائج بھگتنا ہوں گے، میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو، لیکن ہمیں معاہدہ کرنا ہوگا۔۔۔یہ ایران کے لیے بہت شدید ہوگا اگر وہ معاہدہ نہ کریں۔‘
امریکا ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے مشرق وسطیٰ میں دوسرا ایئرکرافٹ کیریئر بھی بھیجنے پر غور کر رہاہے، صدر ٹرمپ نے اسرائیل کی ایران کے ساتھ 12 روزہ جنگ کے دوران تہران کی جوہری تنصیبات پر امریکی فوجی حملوں کا بھی حوالہ دیا۔
’ہم دیکھیں گے کہ کیا ہم ان کے ساتھ معاہدہ کر سکتے ہیں، اور اگر نہیں، تو ہمیں دوسرا مرحلہ اپنانا ہوگا، دوسرا مرحلہ ان کے لیے بہت سخت ہوگا۔‘
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہوصدر ٹرمپ پر ایران کے ساتھ جوہری مذاکرات میں خاص طور پر ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو شامل کرنے کے لیے سخت رویہ اپنانے کا دباؤ ڈالنے کی غرض سے واشنگٹن آئے تھے۔
تاہم دونوں رہنما واضح طور پر متفق نہیں ہوئے، اور وائٹ ہاؤس میں ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر زور دی ہےا۔
عام شکوک و شبہات
جمعرات کو اسرائیل روانگی سے پہلے نیتن یاہو نے کہا کہ ٹرمپ کا خیال ہے کہ وہ معاہدے کے لیے راستہ ہموار کر رہے ہیں۔
’وہ سمجھتے ہیں کہ جو شرائط وہ قائم کر رہے ہیں، اور یہ کہ ایران کو پچھلی بار غلطی کا ادراک ہے، ممکنہ طور پر ایک اچھے معاہدے کے لیے حالات پیدا کر سکتی ہیں۔‘
تاہم اسرائیلی وزیر اعظم نے مزید کہا کہ وہ چھپائیں گے نہیں کہ انہوں نے ایران کے ساتھ کسی بھی معاہدے کے معیار پر عمومی شکوک کا اظہار کیا ہے۔
نیتن یاہو نے کہا کہ کسی بھی معاہدے میں وہ عناصر شامل ہونا ضروری ہیں جو اسرائیل کے لیے اہم ہیں، جیسے ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور فلسطینی تحریک حماس، یمن کے حوثی باغیوں اور لبنان میں حزب اللہ کی حمایت۔
ان کے مطابق، یہ صرف جوہری مسئلہ نہیں ہے۔
ایران پر اختلافات کے باوجود ٹرمپ نے نیتن یاہو کی ذاتی حمایت کا اظہار کیا اور اسرائیلی صدر آئزک ہیرزوگ پر تنقید کی کہ انہوں نے بدعنوانی کے الزامات میں نیتن یاہو کی معافی کی درخواست مسترد کر دی۔
’آپ کے پاس ایک صدر ہے جو معافی دینے سے انکار کرتا ہے۔ میرا خیال ہے کہ اس شخص کو اپنی شرمندگی محسوس ہونی چاہیے۔‘
ٹرمپ نے حالیہ مہینے میں ایران پر ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کے اشارے دیے ہیں، حالانکہ واشنگٹن اور تہران نے حال ہی میں عمان میں مذاکرات دوبارہ شروع کیے ہیں۔
اس سے قبل دونوں ممالک کے درمیان آخری مذاکرات اسرائیل کی جنگ اور امریکی حملوں کی وجہ سے مختصر ہو گئے تھے۔
ایران نے نئے مذاکرات کو اپنے جوہری پروگرام سے آگے بڑھانے کی پیشکش مسترد کر دی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر رہا اور ’زیادہ مطالبات‘ تسلیم نہیں کرے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا ایران صدر ٹرمپ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل امریکا ایران اسرائیلی وزیر اعظم معاہدے کے نیتن یاہو معاہدہ کر نے کہا کہ ایران کے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
روم: پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم کر دی گئی۔پاکستان کے سفیر علی جاوید اور اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے سیکرٹری جنرل، عزت مآب سفیر ریکارڈو گوارِیلیا نے حال ہی میں ایک ایسے معاہدے پر دستخط کئے ہیں. جس کے تحت سفارتی پاسپورٹ رکھنے والے افراد کیلئے ویزا کی شرط ختم کر دی گئی ہے. معاہدے پر دستخط کی پُروقار تقریب اٹلی کی وزارتِ خارجہ میں روم میں منعقد ہوئی۔تقریب سے قبل دونوں اعلیٰ حکام کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی. دونوں فریقوں نے پاکستان اور اٹلی کے درمیان تزویراتی تعاون کی مضبوطی، وسعت اور مسلسل ترقی پر اطمینان کا اظہار کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان روایتی طور پر دوستانہ اور تعمیری دوطرفہ تعلقات کا جامع جائزہ لیا گیا، جبکہ اقوامِ متحدہ اور یورپی یونین سمیت مختلف بین الاقوامی فورمز پر جاری تعاون پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔دونوں جانب سے اس معاہدے کو باہمی اعتماد اور دوستی کی عکاسی قرار دیا گیا اور اسے موجودہ دوطرفہ تعاون کے نظام میں ایک اہم اضافہ قرار دیا گیا. معاہدے سے سفارتی وفود کے تبادلوں میں آسانی پیدا ہوگی اور دونوں ممالک کے درمیان روابط مزید مستحکم ہوں گے۔پاکستان اور اٹلی کے درمیان اس وقت متعدد نئے معاہدوں پر غور جاری ہے. اس کے علاوہ دونوں ممالک کی جامعات اور تحقیقی اداروں کے درمیان 21 مفاہمتی یادداشتیں (MoUs) موجود ہیں، جبکہ سیاحت، ثقافت، سائنس و ٹیکنالوجی، کھیل، اعلیٰ دفاعی مطالعات اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف تعاون سمیت مختلف شعبوں میں دونوں حکومتوں کے درمیان 15 معاہدے طے پا چکے ہیں۔دفاعی تعاون کا معاہدہ 2009 میں طے پایا، جبکہ 2013 میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان سٹریٹجک انگیجمنٹ پلان قائم کیا گیا، اسی طرح مشترکہ اقتصادی کمیشن 2005 میں تشکیل دیا گیا، سرمایہ کاری کے تحفظ کا معاہدہ 1997 میں طے پایا، دوہری شہریت کا معاہدہ 1983 میں جبکہ حوالگیِ ملزمان (Extradition) کا معاہدہ 1972 میں دستخط کیا گیا تھا۔اس سے قبل 7 مئی 2025 کو اسلام آباد میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان ’’لیبر موبیلٹی اینڈ مائیگریشن‘‘ کے موضوع پر ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے تھے، جو کسی یورپی ملک کے ساتھ پاکستان کا پہلا باقاعدہ لیبر معاہدہ ہے، اس معاہدے کے تحت پاکستانی افرادی قوت کو اٹلی میں پاکستانی شہریوں کیلئے مختص 10,500 ملازمتوں کے کوٹے سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہوگا۔پاکستانی سفیر نے سیکرٹری خارجہ کی جانب سے سیکرٹری جنرل کو ساتویں دورِ دوطرفہ سیاسی مشاورت میں شرکت کیلئے پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی، انہوں نے 2026 کی آخری سہ ماہی میں اس اجلاس کے انعقاد کیلئے پاکستان کی آمادگی سے آگاہ کیا اور اسلام آباد میں اٹلی کے نئے سفارت خانے کے افتتاح کی خواہش کا اظہار کیا، جو اٹلی کا بیرونِ ملک سب سے بڑا سفارتی مشن ہوگا. اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا گیا۔