Express News:
2026-07-24@01:22:12 GMT

دوستو! غفلت میں مت رہنا کبھی۔۔۔ !

اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT

 پروردگارِ عالم کی ذاتِ پاک کی عطا کردہ زندگی میں ساعتیں، لمحے، گھڑیاں، دن، ماہ و سال اور صدیاں وقت کے تابع ہیں کہ جوں جوں وقت گزرتا ہے … تو گزرنے کے اِس عمل سے دن، ہفتے، ماہ و سال اور صدیاں جنم لیتی ہیں۔ ماہ و سال اور صدیاں تو ختم ہو جاتی ہیں، مگر وقت گزرتا ہی چلا جاتا ہے۔ کیوں کہ وقت کبھی ختم نہ ہونے والے ایسے سفر کا نام ہے کہ جس کی کوئی منزل نہیں۔ مگر ہاں! انسان اگر چاہے تو اپنے نیک مقاصد کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اپنی منزل کا تعین کرسکتا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ انسان کلی اختیار نہیں رکھتا، مگر اتنا بھی بے اختیار نہیں کہ وہ اپنے وقت کو اپنی مرضی سے مصرف میں نہ لاسکے۔ لیکن یہ اُس وقت ممکن ہوتا ہے کہ جب انسان وقت کی قدر و اہمیت سے شناسائی رکھتا ہو۔

الحمدﷲ! ہم اﷲ تبارک و تعالیٰ کے خاص فضل و کرم اور رحمتِ عالم ﷺ کی نگاہِ رحمت سے مسلمان ہیں اور آپ ﷺ کی امت میں شامل ہونے پر خوش قسمتی کے عظیم منصب سے نوازے جا چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوش قسمتی کا یہ عظیم منصب ہم سے اِس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم بہ حیثیت مسلمان باقی مذاہب کے ماننے والوں سے بڑھ کر وقت کی قدر کریں۔ وقت کی قدر جاننے کے لیے ہمیں کسی غیر کے دروازے پر دستک نہیں دینی پڑے گی، کسی کے آگے جھکنا نہیں پڑے گا، نہ ہی اِس کے لیے ہیرے جواہرات اور مال و دولت کے انبار درکار ہیں۔ بس ذرا … دل کے کسی ایک گوشے میں وقت کی قدر جاننے کے لیے تھوڑی سی تڑپ ہونی چاہیے۔

الحمد اﷲ! دنیا کی سب سے عظیم کتاب میں اﷲ اور دنیا کے سب سے بڑے اور عظیم راہ بر، ہادیٔ عالم، محسنِ انسانیت ﷺ کے فرامینِ مقدس کی روشنی میں وقت کی قدر و اہمیت کا پتا اور اس کے گزارنے کے روشن اصول ملتے ہیں۔ بات مزید آگے بڑھانے سے قبل یہ بات اور نقطہ پیش کرنا بھی ضروری ہے کہ جو جتنی بڑی ذات ہوگی، اُس کے اُتنے ہی بڑے اہم اور روشن اصول ہوں گے۔ دنیا میں سب سے بڑی حقیقت اور سچائی یہی ہے کہ خالقِ کائنات اﷲ سے بڑھ کر کوئی ذات نہیں اور ہادیٔ عالم ﷺ سے بڑھ کر کوئی راہ بر و راہ نما نہیں۔ اب بھلا ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ اﷲ کسی کم تر چیز کی قسم، بار ہا کھائے۔ پروردگارِ عالم نے کئی مقامات پر مختلف اوقات کی قسم کھائی ہے۔

سورۃ الفجر میں وقتِ فجر اور عشر ذوالحجہ کی قسم کھائی ہے۔

مفہوم: ’’فجر کے وقت کی قسم (جس سے ظلمتِ شب چھٹ گئی) اور دس (مبارک) کی راتوں کی قسم۔‘‘

پھر ایک مقام پر ربِ قدوس نے رات اور دن کی قسم بھی کھائی، مفہوم:

’’رات کی قسم! جب وہ چھا جائے (اور ہر چیز کو اپنی تاریکی میں چھپا لے) اور دن کی قسم جب وہ چمک اُٹھے۔‘‘

اسی طرح سورۃ الضحیٰ میں ربِ کائنات نے وقت چاشت کی قسم کھاتے ہوئے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’قسم ہے وقتِ چاشت کی (جب آفتاب بلند ہوکر اپنا نور پھیلاتا ہے) اور قسم ہے رات کے وقت کی جب وہ چھا جائے۔‘‘

پھر ایک جگہ خدائے واحد نے سورۃ العصر میں زمانے کی قسم کھائی ہے۔ یہاں ایک بات کی وضاحت کر دینا چاہتے ہیں کہ اکثر ہمارے احباب نادانی اور کم علمی کی وجہ سے زمانے کو بُرا کہتے ہیں تو یہ سخت گناہ ہے کیوں کہ اﷲ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ زمانہ میں خود ہوں۔ العصر میں ارشاد ہوتا ہے کہ زمانہ کی قسم (جس کی گردش انسانی حالات پر شاہد ہے) بے شک! انسان خسارے میں ہے۔ (کیوں کہ وہ اپنی عمرِ عزیز گنوا رہا ہے)

حضور ِ اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا، مفہوم: ’’صحت اور فراغت اﷲ کی طرف یہ دو ایسی نعمتیں ہیں کہ جس کے بارے میں لوگ اکثر خسارے میں رہتے ہیں۔‘‘

ربِ غفور … انسان کو جسمانی صحت اور فراغتِ اوقات کی انمول نعمتوں سے نوازتا ہے، تو اُن میں سے اکثر نادان انسان یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ یہ نعمتیں ہمیشہ ساتھ رہیں گی اور انھیں کبھی زوال نہ ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے یہ صرف شیطانی چال اور وسوسہ ہوتا ہے، جس کی بِناء پر انسان اِدھر اُدھر کے فضول اور بے سود کاموں میں اپنے آپ کو مصروف کر بیٹھتا ہے۔ جس کا نہ کوئی دنیا میں فائدہ اور نہ آخرت کا سامان۔

حضور سیدِ عالم ﷺ کا فرمانِ مقدس کا مفہوم ہے کہ قیامت کے دن بندہ اُس وقت تک (بارگاہِ الہٰی میں) کھڑا رہے گا کہ جب تک اس سے چار چیزوں کے متعلق پوچھ نہ لیا جائے گا۔

اولاً: زندگی کیسے گزاری۔

ثانیاً: جو علم حاصل کیا اس پر کتنا عمل کیا۔

ثالثاً: مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا۔

اربعاً: جسم کس کام میں کھپائے رکھا۔‘‘

اسی طرح کا ایک اور فرمانِ رسول ﷺ جس کے راوی حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہ ہیں۔ آپ صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ارشاد فرماتے ہیں، مفہوم:

’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو۔

(1) بڑھاپے سے پہلے جوانی کو۔

(2) بیماری سے پہلے صحت کو۔

(3) محتاجی سے پہلے تونگری کو۔

(4) مصروفیت سے پہلے فراغت کو۔

(5) اور موت سے پہلے زندگی کو۔‘‘

اگر ہم اپنی زندگی کے گزرنے والے شب و روز، درج بالا سطور کے تناظر میں دیکھیں تو کیا ہم خود کو مطمین پائیں گے؟ یقیناً نہیں! ہم تو اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اور لمحات کھانے پینے … گھومنے پھرنے… سیر و سیاحت کرنے… ہوٹلنگ کا مزہ چکھنے… فضول گپ شپ کرنے… فلمیں ڈرامے دیکھنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی اور اپنے ہی مسلمان بھائیوں کے دل دکھانے میں صرف کر دیتے ہیں۔ یوں گزرنے والے دن، رات اور ماہ و سال ماضی کا ایک حصہ بن جاتے ہیں۔ جیسا کہ تلخ و شیریں یادوں سے بھرا گزرا ہوا سال حصہ بن گیا۔

یہ حقیقت ہے کہ گزرا وقت واپس نہیں آتا … مگر آنے والا ہر لمحہ اور ہر صبح کو طلوع ہونے والے سورج کی کرنوں سے پھوٹنے والی روشنی امید کا پیغام ضرور دیتی ہے۔ یہی ایک امید ہی تو ہے کہ جس پر دنیا قائم ہے۔ مایوسی کو گناہ قرار دیا گیا ہے۔ ربِ قدوس کے ہاں دیر تو ہے مگر اندھیر نہیں۔

اﷲ تعالی ہمیں ایسے حکم ران عطا فرمائے جو اُس معیار پر پورے اترتے ہوں کہ جس کا ذکر قرآن و حدیث میں ملتا ہے۔ اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے یہی نسخۂ کامل کارگر ثابت ہوگا۔

قارئین محترم! ہمیں وقت کی قدر کرتے ہوئے امیدوں کے اس شجر سے وابستہ رہ کر … نئی امنگوں اور جذبوں کے ستاروں کو اپنے آنگن میں اتارتے ہوئے… اسلام اور وطن عزیز پاکستان کے مکار دشمنوں کے ناپاک عزائم کو …اتفاق و اتحاد، خلوص و پیار، ایثار، ملی یک جہتی، جذبۂ حب الوطنی اور صبر و رضا سے ناکام بنا سکتے ہیں۔

اﷲ کریم ہم سب کو اپنے حبیب صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدقے عمل کی توفیق و ہمت عطا فرمائے۔ آمین

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف