پی ٹی ا ٓئی کے حمایت یافتہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی اور تحریک انصاف قیادت آمنے سامنے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) قومی اسمبلی کے فلور پر قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کے فوج سے متعلق حالیہ بیان پر ناخوش ہے۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، جب اچکزئی نے فوج کے حوالے سے اپنا بیان دہرایا تو اسی تناظر میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے فوج کے حوالے سے اپنی پارٹی کا موقف واضح کرنے کیلئے فوری اقدام کیا۔ اس صورتحال کی وجہ سے پارٹی حلقوں میں بے چینی پیدا ہوگئی ہے۔ یہ پیش رفت قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس کے دوران اس وقت سامنے آئی جب وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے اپنی تقریر میں اچکزئی کے ایک سابقہ بیان کا حوالہ دیا جس میں مبینہ طور پر انہوں نے فوج کو ’’پنجاب کے چار اضلاع کی فوج‘‘ قرار دیا تھا۔ وزیرِ دفاع نے اس بیان کو خطرناک اور نامناسب قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی قومی ادارے کے بارے میں اس نوعیت کے بیانات نہیں دیے جانے چاہئیں۔ ایوان کے فلور پر جواب دیتے ہوئے اچکزئی نے کہا کہ وہ 1990ء کی دہائی سے اپنے اختیار کردہ موقف پر قائم ہیں۔ انہوں نے وزیرِ دفاع کی جانب سے نشاندہی کردہ بیان کی تردید کی اور نہ ہی اسے واپس لیا، بلکہ اس بات پر زور دیا کہ وہ اپنے رائے پر ’’قائم‘‘ ہیں۔ پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق، اچکزئی کے ان ریمارکس نے پی ٹی آئی کے اندر بے چینی پیدا کر دی، کیونکہ پارٹی نے بطور قائدِ حزبِ اختلاف کے عہدے کیلئے ان کی حمایت کی تھی۔ اچکزئی کی تقریر کے فوراً بعد بیرسٹر گوہر نے بات کرنے پر اصرار کیا اور اسپیکر سے خطاب کی اجازت طلب کی، جو ان کی جانب سے ایک غیر معمولی اقدام تھا، کیونکہ وہ عموماً فلور لینے پر اصرار نہیں کرتے۔ اپنے خطاب میں بیرسٹر گوہر نے مبینہ طور پر دو اہم باتوں پر زور دیا۔ اول، انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے اور تمام سیاسی قوتوں کو متحد بیانیہ اختیار کرنا چاہئے تاکہ دہشت گردوں اور دشمن عناصر کو واضح پیغام دیا جا سکے۔ انہوں نے اس تناظر میں بھارت اور افغانستان سے سرگرم عناصر کا حوالہ دیا اور قومی ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا۔ دوم، انہوں نے مسلح افواج کے حوالے سے پی ٹی آئی کا موقف واضح کیا۔ اچکزئی کا براہِ راست نام لیے بغیر بیرسٹر گوہر نے کہا کہ فوج ہماری ہے اور ملک ہمارا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فوج کے شہداء کی قربانیاں قوم کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افواج کے حوالے سے پی ٹی آئی کا موقف واضح اور غیر مبہم ہے۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع نے اس نمائندے کو بتایا کہ بعد میں بیرسٹر گوہر نے اس معاملے پر بعض پارٹی قانون سازوں سے گفتگو کی اور یہ رائے ظاہر کی کہ اچکزئی کی جانب سے ایسے ریمارکس نہیں دینا چاہئے تھے۔ ایک سینئر پارٹی ذریعے نے کہا کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ اپوزیشن اتحاد میں اختلافِ رائے موجود ہو سکتا ہے، تاہم قومی اداروں، بالخصوص فوج، کے بارے میں پارٹی کا موقف واضح رہنا چاہئے اور قومی مفاد سے ہم آہنگ ہونا چاہئے۔ یہ واقعہ متنوع اپوزیشن اتحاد کے اندر پیغام رسانی میں نظم و ضبط برقرار رکھنے کے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے، خصوصاً حساس نوعیت کے معاملات پر۔ تاہم، پی ٹی آئی کی قیادت نے فوری قدم اٹھایا تاکہ اچکزئی کے ریمارکس کو پارٹی کا باضابطہ موقف نہ سمجھا جائے۔ جب دی نیوز نے بیرسٹر گوہر سے اچکزئی کے متنازع بیان پر موقف طلب کیا تو انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کا موقف واضح ہے، بارہا بیان کیا جا چکا ہے اور قومی اسمبلی کے ریکارڈ کا بھی حصہ ہے۔
انصارعباسی
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے کا موقف واضح کے حوالے سے پر زور دیا اچکزئی کے پی ٹی ا ئی نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔