پاکستان کی ہر بڑی سیاسی جماعت اپنے آپ کو مضبوط اور فعال رکھنے کے لیے اندرونی فنڈ ریزنگ پروگرام چلاتی ہے، جو پارٹی سیکرٹریٹ، جلسوں، جلوسوں، احتجاجی مظاہروں اور دیگر سرگرمیوں کے لیے ضروری فنڈز اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔

اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپنے منتخب اراکینِ اسمبلی سے ماہانہ فنڈنگ کی پالیسی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جو پارٹی کے مالی استحکام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ذرائع کے مطابق، مسلم لیگ (ن) اپنے ہر قومی اسمبلی کے رکن (ایم این اے) اور صوبائی اسمبلی کے رکن (ایم پی اے) سے ماہانہ 20 ہزار روپے کی شراکت وصول کرتی ہے۔ یہ رقم اراکین کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے اور پارٹی فنڈز میں شامل کی جاتی ہے۔

اگر کوئی ایم این اے، ایم پی اے یا حتیٰ کہ وزیر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا اور ادائیگی میں تاخیر کرتا ہے تو اسے ڈیفالٹر قرار دے کر بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ ایسے اراکین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اگلے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا جائے گا، جو ان کے سیاسی مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

پارٹی کے ایک سینئر ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ نظام پارٹی کی مالی شفافیت اور اراکین کی وابستگی کو یقینی بناتا ہے۔ کچھ اراکین جان بوجھ کر ادائیگی میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں، جنہیں نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ تاہم، جب انتخابات قریب آتے ہیں تو یہ اراکین اپنے بقایاجات فوری طور پر کلیئر کر دیتے ہیں۔

جو ادائیگی نہیں کرتے، ان کے لیے پارٹی ٹکٹ کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ کلیئرنس کے بعد ہی انہیں ٹکٹ الاٹ کیا جاتا ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ یہ پالیسی نہ صرف فنڈز اکٹھا کرتی ہے بلکہ پارٹی میں نظم و ضبط بھی برقرار رکھتی ہے۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس نوعیت کی فنڈ ریزنگ پالیسیاں نئی بات نہیں ہیں۔ دیگر جماعتیں جیسے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی اپنے اراکین اور سپورٹرز سے فنڈز حاصل کرتی ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) کا نظام نسبتاً زیادہ منظم اور سخت گیر سمجھا جاتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے پروگرام جماعتوں کو بیرونی فنڈنگ پر انحصار کم کرنے اور اندرونی مالی وسائل کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم، کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ پالیسیاں اراکین پر غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: مسلم لیگ کرتی ہے جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان

بھارتی ریاست آسام میں قدرت کے انوکھے مظاہر میں شمار ہونے والے ہولونگ درخت کے منفرد ’ہیلی کاپٹر پھل‘ ایک بار پھر لوگوں کی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: جرمنی کا صدیوں پرانا شاہ بلوط کا درخت پریمیوں کا پیغام رساں کیسے بنا؟

ڈیپٹیروکارپس ریٹوسس المعروف ہولونگ ایک مضبوط اور بلند قامت درخت ہے جو تقریباً 60 میٹر تک بلند ہو سکتا ہے۔ یہ درخت جنوب مشرقی ایشیا میں پایا جاتا ہے اور مقامی ثقافتوں میں اسے خاص اہمیت حاصل ہے جبکہ اس کی لکڑی تعمیرات، فرنیچر سازی اور کشتیوں کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہے۔

Hollong seeds are a stunning local example of nature's autorotating 'helicopters'! ????????

Globally, maple samaras inspired much of the research into this principle for real helicopters and drones.
The origin of helicopter autorotation (and modern drone/micro-flyer designs) is… https://t.co/jKXLuMq5nR

— Chinnu Senthilkumar (@chinnusenthil1) May 20, 2026

اس درخت کی سب سے دلچسپ خصوصیت اس کے 2 پروں والے پھل ہیں جو شاخوں سے گرنے کے دوران ننھے ہیلی کاپٹر کی طرح گھومتے ہوئے نیچے آتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ قدرتی نظام بیجوں کو درخت سے دور زرخیز زمین تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے جہاں ان کی افزائش کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔

مزید پڑھیے: کچھ درخت جان بوجھ کر آسمانی بجلی کو گرنے کی دعوت کیوں دیتے ہیں؟

خشک موسم میں جب درجنوں یہ پھل آسمان سے گھومتے ہوئے زمین کی طرف اترتے ہیں تو یہ منظر دیکھنے والوں کو مسحور کر دیتا ہے۔

حال ہی میں ایسے ہی ایک منظر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس نے اس قدرتی مظہر کو عالمی توجہ دلائی۔

مزید پڑھیں: فضائی کمپنی نے مسافر کو جہاز سے اترجانے کے لیے 3 ہزار ڈالر کی پیشکش کیوں کی؟

بھارتی ریاست آسام کو اس نظارے کے لیے بہترین مقامات میں شمار کیا جاتا ہے کیونکہ ہولونگ وہاں بڑی تعداد میں پایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہولونگ کو آسام کا سرکاری درخت بھی قرار دیا گیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

جنوب مشرقی ایشیا جنوب مشرقی ایشیا کا حیرت انگیز درخت ہولونگ درخت ہولونگ درخت کے ہیلی کاپٹر پھل‘ ہیلی کاپٹر پھل

متعلقہ مضامین

  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • گلگت بلتستان کو بھی آئینی وبنیادی حقوق ملنے چاہئیں ، سعد رفیق
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • نواز شریف گلگت بلتستان روانہ، انتخابی مہم میں حصہ لیں گے
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • پاکستان میں اس سال قربانی کے جانوروں کی کتنی کھالیں جمع ہوئیں؟ اعدادو شمار آگئے
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان