مسلم لیگ (ن) اپنے ایم پی ایز اور ایم این ایز سے ہر ماہ کتنی رقم وصول کرتی ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
پاکستان کی ہر بڑی سیاسی جماعت اپنے آپ کو مضبوط اور فعال رکھنے کے لیے اندرونی فنڈ ریزنگ پروگرام چلاتی ہے، جو پارٹی سیکرٹریٹ، جلسوں، جلوسوں، احتجاجی مظاہروں اور دیگر سرگرمیوں کے لیے ضروری فنڈز اکٹھا کرنے کا ذریعہ بنتا ہے۔
اس سلسلے میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے اپنے منتخب اراکینِ اسمبلی سے ماہانہ فنڈنگ کی پالیسی خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جو پارٹی کے مالی استحکام کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ذرائع کے مطابق، مسلم لیگ (ن) اپنے ہر قومی اسمبلی کے رکن (ایم این اے) اور صوبائی اسمبلی کے رکن (ایم پی اے) سے ماہانہ 20 ہزار روپے کی شراکت وصول کرتی ہے۔ یہ رقم اراکین کی تنخواہ سے کاٹی جاتی ہے اور پارٹی فنڈز میں شامل کی جاتی ہے۔
اگر کوئی ایم این اے، ایم پی اے یا حتیٰ کہ وزیر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتا اور ادائیگی میں تاخیر کرتا ہے تو اسے ڈیفالٹر قرار دے کر بلیک لسٹ میں شامل کر دیا جاتا ہے۔ ایسے اراکین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ اگلے انتخابات میں انہیں پارٹی ٹکٹ نہیں دیا جائے گا، جو ان کے سیاسی مستقبل کے لیے سنگین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔
پارٹی کے ایک سینئر ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ نظام پارٹی کی مالی شفافیت اور اراکین کی وابستگی کو یقینی بناتا ہے۔ کچھ اراکین جان بوجھ کر ادائیگی میں تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں، جنہیں نوٹس جاری کیے جاتے ہیں۔ تاہم، جب انتخابات قریب آتے ہیں تو یہ اراکین اپنے بقایاجات فوری طور پر کلیئر کر دیتے ہیں۔
جو ادائیگی نہیں کرتے، ان کے لیے پارٹی ٹکٹ کا حصول مشکل ہو جاتا ہے۔ کلیئرنس کے بعد ہی انہیں ٹکٹ الاٹ کیا جاتا ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ یہ پالیسی نہ صرف فنڈز اکٹھا کرتی ہے بلکہ پارٹی میں نظم و ضبط بھی برقرار رکھتی ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اس نوعیت کی فنڈ ریزنگ پالیسیاں نئی بات نہیں ہیں۔ دیگر جماعتیں جیسے پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان پیپلز پارٹی بھی اپنے اراکین اور سپورٹرز سے فنڈز حاصل کرتی ہیں، تاہم مسلم لیگ (ن) کا نظام نسبتاً زیادہ منظم اور سخت گیر سمجھا جاتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ایسے پروگرام جماعتوں کو بیرونی فنڈنگ پر انحصار کم کرنے اور اندرونی مالی وسائل کو مضبوط بنانے میں مدد دیتے ہیں۔ تاہم، کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ پالیسیاں اراکین پر غیر ضروری دباؤ ڈالتی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: مسلم لیگ کرتی ہے جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ تحریک انصاف کے بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے۔
جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں بات کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے تحریک انصاف کے فارم 47 والے بیانیے کو مانا ہے اس کے بعد پیپلز پارٹی کو چاہیے کہ وہ تمام عہدوں سے استعفے دے اور ہمارے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھے۔
پروگرام میں شریک پیپلز پارٹی کے رہنما سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم مسلم لیگ ن کے ساتھ پاکستان کی خاطر حکومت میں بیٹھے ہیں۔
ن لیگ کے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ساتھ ہی رہے گی اور اسی تنخواہ پر دونوں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہيں گے۔