وزیراعظم شہباز شریف سے ترک زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر کے وفد کی ملاقات، باہمی زرعی تعاون کی ضرورت پرزور
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
:وزیراعظم محمد شہباز شریف نے زراعت کے شعبے میں پاکستان کے بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے جامع حکمت عملی اور دوست ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت پرزور دیا ہے۔
وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے ترکیہ کی زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر (ٹی یو ایم ای) کے بورڈ چیئرمین عبدلقادر قاراگوز کی سربراہی میں 4 رکنی وفد نے جمعرات کو یہاں ملاقات کی۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ترکیہ بحری اسپیشل فورسز کی پہلی دوطرفہ مشق کامیابی سے مکمل
وزیر اعظم نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ اپنے مثالی برادرانہ تعلقات کی مزید مضبوطی کے ساتھ ساتھ معاشی شراکت داری کے فروغ کا بھی خواہاں ہے۔
وزیر اعظم نے ترکیہ سمیت دیگر ممالک میں جدید ٹیکنالوجی اور زرعی ماہرین کی بدولت زرعی شعبے میں جدت سے مستفید ہونے کے لیے باہمی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور زراعت کے شعبے میں پاکستان کے بے شمار وسائل اور صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے جامع حکمت عملی اور دوست ممالک کے درمیان باہمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ برادر ملک ترکیہ سے زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے کہ بے شمار مواقع موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کے زرعی اجناس اور لائیو سٹاک کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہونے والی ترقی کی طرح پاکستان کے زرعی شعبے کو جدت سے ہم آہنگ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مینار پاکستان ترکیہ کے پرچم سے روشن، ’یہ پاکستان کا برج خلیفہ ہے‘
وزیراعظم نے کہا کہ قدرت نے پاکستان کو زرعی شعبے میں بے شمار وسائل سے نوازا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لا کر ان وسائل سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے کیلئے کوششیں جاری ہیں۔
اس موقع پر گروپ کے چیئرمین عبدالقادر نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان مل کر گلوبل فوڈ ویلیو چین میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کی برادرانہ قیادت کاروباری حضرات کے مابین تعاون کو مزید بڑھانے کے لیے مشعل راہ ہے۔
ملاقات کے دوران ٹی یو ایم ای کے بورڈ چیئرمین عبدالقادر قاراگوز نے اپنی فرم میں پیداوار بڑھانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بریفنگ دی۔ انہوں نے پاکستان اور ترکیہ کے مابین زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزمائش کی گھڑی میں پاکستان ترکیہ کے ساتھ ہے‘ شہبازشریف کا طیب اردوان کو فون
ملاقات میں پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نذیراوغلو، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال، وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیران سید طارق فاطمی اور ہارون اختر اور متعلقہ اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاکستان ترکیہ زرعی تعاون زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر وزیراعظم شہباز شریف وفد.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان ترکیہ زرعی تعاون زرعی ٹیکنالوجیز کلسٹر وزیراعظم شہباز شریف وفد جدید ٹیکنالوجی پاکستان ترکیہ میں پاکستان کے شعبے میں شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے ترکیہ کے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ، مجموعی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے متجاوز
صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں گزشتہ ماہ 3161 نئی کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئیں، جس کے بعد مجموعی رجسٹرڈ کمپنیوں کی تعداد 2 لاکھ 97 ہزار سے زیادہ ہوگئی ہے۔سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کے مطابق مئی کے دوران ملک بھر میں 3 ہزار 161 نئی کمپنیاں رجسٹر کی گئیں، جس کے بعد رجسٹرڈ کمپنیوں کی مجموعی تعداد بڑھ کر 2 لاکھ 97 ہزار 239 ہو گئی ہے۔ ایس ای سی پی کے اعداد و شمار کے مطابق نئی رجسٹر ہونے والی کمپنیوں میں سے 99.9 فیصد کی رجسٹریشن آن لائن طریقہ کار کے ذریعے مکمل کی گئی، جو کاروباری سرگرمیوں میں ڈیجیٹل سہولتوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کی عکاسی کرتی ہے۔ صوبائی سطح پر پنجاب میں سب سے زیادہ ایک ہزار 643 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ اسلام آباد میں 596 اور سندھ میں 479 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن کی گئی۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں 260، گلگت بلتستان میں 112 اور بلوچستان میں 71 کمپنیاں رجسٹر ہوئیں۔
شعبہ وار جائزے کے مطابق سب سے زیادہ کمپنیاں انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ای کامرس کے شعبے میں رجسٹر کی گئیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں 598 نئی کمپنیاں رجسٹر ہوئیں، جبکہ ٹریڈنگ سیکٹر میں 503، سروسز کے شعبے میں 404 اور رئیل اسٹیٹ و کنسٹرکشن کے شعبے میں 303 نئی کمپنیاں قائم کی گئیں۔ایس ای سی پی کے مطابق سیاحت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بھی نمایاں سرگرمی دیکھنے میں آئی، جہاں 206 نئی کمپنیوں کی رجسٹریشن عمل میں لائی گئی۔ ادارے نے بتایا کہ مئی کے دوران 17 مختلف ممالک کے سرمایہ کاروں نے پاکستان میں کمپنیاں رجسٹر کروائیں۔ اعداد و شمار کے مطابق چین سے تعلق رکھنے والے 89 شیئر ہولڈرز نے مختلف کمپنیوں میں ڈائریکٹر شپ حاصل کی جبکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کی کمپنیوں کا ادا شدہ سرمایہ 139.4 ملین روپے ریکارڈ کیا گیا۔