ایران میں جاں بحق 3 پاکستانیوں کی لاشیں وطن پہنچ گئیں
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
ایران میں جاں بحق ہونے والے تین پاکستانیوں کی میتیں وطن پہنچا دی گئیں۔
شناخت کے بعد اصغر علی اور عبدالواسط کی تدفین ان کے آبائی علاقوں میں کردی گئی، تاہم حمزہ احسان کے نام سے گوجرانوالہ منتقل کی گئی میت کو اہلِ خانہ نے شناخت کرنے سے انکار کر دیا۔
حمزہ احسان کی والدہ کا کہنا ہے کہ جو لاش انہیں دی گئی وہ ان کے بیٹے کی نہیں ہے۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور ان کے بیٹے کی درست میت تلاش کرکے ان کے حوالے کی جائے۔
یہ تینوں نوجوان دسمبر میں پاکستان سے عراق جانے کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ ایرانی حکام کی جانب سے موصول سرکاری اطلاعات کے مطابق وہ برفانی طوفان میں پھنس گئے تھے، جس کے نتیجے میں تینوں جاں بحق ہوگئے۔
دوسری جانب وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا کہنا ہے کہ واقعے میں ملوث انسانی اسمگلروں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ایک مبینہ انسانی اسمگلر احسان شاہ کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید گرفتاریوں کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
ایران کی حکومت کے اعلیٰ عہدیدار محسن رضاعی نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا ردعمل شدید اور وسیع ہوگا۔
ایرانی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق محسن رضائی نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایران کے انفرا اسٹرکچر پر مزید حملے کیے تو ایران کا جوابی اقدام شدید اور بتدریج وسیع ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ شلمچہ میں زائرین پر حملہ اور انفرا اسٹرکچر پر حملوں کی امریکی دھمکیاں مایوسی اور بے بسی کے سوا کچھ نہیں ہیں۔