خان صاحب کی صحت پر سیاست نہ کریں: رانا ثناء اللّٰہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
رانا ثناء اللّٰہ — فائل فوٹو
وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ خان صاحب کی صحت پر سیاست نہ کریں، ایسا کوئی معاملہ نہیں کہ 4 ماہ غفلت کی گئی، یہ کہنا غلط ہے کہ 4 ماہ سے شکایت کی جا رہی تھی، بانیٔ پی ٹی آئی کا جیل کے ڈاکٹر ہر دوسرے دن چیک اپ کرتے ہیں۔
سینیٹ کے اجلاس میں انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کا 25 مرتبہ باہر سے ڈاکٹرز نے چیک اپ کیا، جب بھی شکایت کی ان کا چیک اپ ہوا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناء اللّٰہ نے اپوزیشن کو پیغام میں کہا کہ جب بانیٔ پی ٹی آئی نے جنوری میں بات کی تو فوری طور پر انہیں علاج کی سہولت دی گئی، انہوں نے سپریم کورٹ میں درخواست نہیں دی کہ نجی اسپتال داخل کیا جائے، حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ جس ڈاکٹر سے بانیٔ پی ٹی آئی کہیں ان کا چیک اپ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کو جیل کے ڈاکٹر نے ڈراپس دیے جن کا انہوں نے 3، 4 دن استعمال کیا، بانیٔ پی ٹی آئی کا 16 جنوری کو معائنہ ہوا، 19 جنوری کو ٹیم نے ان کا دوبارہ معائنہ کیا اور ان کے ٹیسٹ کیے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ 24 جنوری کو بانیٔ پی ٹی آئی کو انجیکشن لگایا گیا، یہ چیزیں ڈاکومنٹ پر موجود ہیں۔
سینیٹ کے اجلاس میں قائدِ حزبِ اختلاف راجہ ناصر عباس نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ صاف واضح ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی کے کیس میں لاپروائی ہوئی۔
اپوزیشن لیڈر کے اظہارِ خیال کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ اس غفلت کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا، ایسا ہوا ہے اور جنہوں نے ایسا کیا ہے تو وہ مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ تھا، اگر حقائق برعکس ہوں تو اس کو سیاست کے لیے آگے بڑھانا بھی مجرمانہ ہے۔
سینئر سیاست داں فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پوری قوم بانیٔ پی ٹی آئی کی آنکھ کی وجہ سے پریشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ میرا دعویٰ ہے کہ بانیٔ پی ٹی آئی نے اس کی شکایت جنوری کے پہلے ہفتے میں کی، انہیں جیل کے ڈاکٹر نے ڈراپس دیے جس کا انہوں نے تین چار دن استعمال کیا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ یہ چیزیں ڈاکومنٹ پر موجود ہیں، اگر قائدِ حزبِ اختلاف کہیں تو ان کے حوالے کر دیتا ہوں، یہ کہنا غلط ہے کہ 4 ماہ سے شکایت کی جا رہی تھی، بانیٔ پی ٹی آئی کا جیل کے ڈاکٹر ہر دوسرے دن چیک اپ کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب بھی بانیٔ پی ٹی آئی نے شکایت کی ان کا چیک اپ ہوا، ان کا 25 مرتبہ باہر سے ڈاکٹرز نے چیک اپ کیا، 2 دسمبر کو ان کی بہن نے ان سے ملاقات کی، بانیٔ پی ٹی آئی نے آنکھ کا ذکر بہن سے نہیں کیا، ان کی بہن نے کہا تھا کہ خان صاحب کی صحت باکل ٹھیک ہے۔
انہوں نے کہا کہ 9 دسمبر کو چیک اپ میں بانیٔ پی ٹی آئی نے آنکھ کی شکایت نہیں کی، جب انہوں نے جنوری میں بات کی تو فوری طور پر انہیں علاج کی سہولت دی گئی، تین چار ماہ کی بات کہنا تو سیاست ہے۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ بانیٔ پی ٹی آئی کی صحت، آنکھ کے مسئلے پر اپوزیشن بات کرنا چاہتی ہے، اس موضوع پر ضرور بات کریں، ایوان کا بزنس لے لیں، بلز منظور کر لیں پھر اس معاملے پر بات کر لیتے ہیں، میں صرف حقائق پر بات کروں گا، سپریم کورٹ میں حقائق سے معاملات کلیئر ہیں، بانیٔ پی ٹی آئی کی رہائش کی صورتِ حال پر اب کوئی ابہام نہیں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ رانا ثناء الل جیل کے ڈاکٹر پی ٹی آئی کا پی ٹی آئی نے پی ٹی آئی کی ہ نے کہا کہ شکایت کی کہ بانی چیک اپ کی صحت
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔