بے ضابطگیوں کے باوجود عوام نے انتخابات میں بھرپور حصہ لیا، جماعتِ اسلامی بنگلہ دیش
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلہ دیش جماعتِ اسلامی کے ایک سینئر رہنما نے کہا ہے کہ ملک کے 13ویں قومی پارلیمانی انتخابات اور ریفرنڈم کو عوام نے مجموعی طور پر سراہا اور اس عمل میں بھرپور دلچسپی لی، اگرچہ بعض مقامات پر ’کمزوریاں اور بے ضابطگیاں‘ بھی دیکھنے میں آئیں۔
بدھ کی سہ پہر میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے جماعت کے اسسٹنٹ سیکریٹری جنرل اور شعبہ میڈیا و تشہیر کے سربراہ ایڈووکیٹ احسان المحبوب زبیر نے بتایا کہ ووٹنگ کا عمل شام تقریباً ساڑھے 4 بجے باضابطہ طور پر ختم ہوا، تاہم جو ووٹر مقررہ وقت سے پہلے پولنگ اسٹیشنز میں داخل ہو چکے تھے انہیں ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔ ان کے مطابق بعض مقامات پر ووٹوں کی گنتی کا عمل بھی شروع ہو چکا ہے۔
’طویل انتظار کے بعد جمہوری عمل مکمل ہوا‘زبیر نے انتخابات کو سیاسی بے چینی کے برسوں بعد ایک طویل انتظار کے جمہوری عمل سے تعبیر کیا۔ انہوں نے سابقہ انتخابات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عوامی توقعات پوری نہیں ہو سکیں، تاہم عبوری حکومت کی اصلاحات نے حالیہ انتخاب کے انعقاد کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور الیکشن کمیشن آف بنگلہ دیش نے انتخابات کے انعقاد کے لیے عزم کا مظاہرہ کیا، تاہم اس عزم کی تکمیل کا فیصلہ عوام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ صبح سویرے سے ہی طویل قطاریں دیکھنے میں آئیں اور ووٹر ٹرن آؤٹ مضبوط دکھائی دیا، جبکہ کئی شہری ووٹرز اپنے آبائی علاقوں میں ووٹ ڈالنے کے لیے سفر کر کے پہنچے۔
زبیر کے مطابق ملک بھر میں 52 ہزار 500 سے زائد پولنگ اسٹیشنز سے نتائج مرتب کیے جائیں گے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ ایک حلقے میں ووٹنگ معطل کی گئی۔ بیلٹ پیپرز میں پارلیمانی ووٹ، پوسٹل بیلٹ اور ’جولائی چارٹر‘ پر ریفرنڈم شامل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 299 نشستوں کے عبوری نتائج رات تک متوقع ہیں جبکہ حتمی نتائج جمعرات کی صبح تک سامنے آ سکتے ہیں۔
بعض حلقوں میں بے ضابطگیوں کا الزامجماعتِ اسلامی کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ مجموعی طور پر عمل پُرامن رہا، تاہم بعض پولنگ اسٹیشنز پر مسائل کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ انہوں نے شریعت پور 2، کومیلا 8 اور پتوآکھالی 1 کے حلقوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بعض پارٹی ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشنز میں داخلے سے روکا گیا، انہیں دھمکیاں دی گئیں اور چند واقعات میں تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
ان کا کہنا تھا کہ ان شکایات کو فوری طور پر الیکشن کمیشن اور مقامی حکام کے نوٹس میں لایا گیا۔
زبیر نے کہا کہ خدشات کے باوجود انتخابات میں کسی بڑے جانی نقصان یا وسیع پیمانے پر تشدد کی اطلاع نہیں ملی۔ انہوں نے اہم سیاسی فریقین کی جانب سے نتائج قبول کرنے کے بیانات کا خیرمقدم کیا اور ووٹوں کی گنتی اور نتائج کے عمل کو پُرامن طریقے سے مکمل کرنے پر زور دیا۔
انہوں نے بتایا کہ 11 جماعتی اتحاد کے نمائندے الیکشن کمیشن اور اپنے مرکزی دفاتر سے نتائج کے عمل کی نگرانی کریں گے۔
عوام کو مبارکباد، بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہاپنی بریفنگ کے اختتام پر احسان المحبوب زبیر نے ووٹرز کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ عوامی شرکت نے ثابت کیا ہے کہ بنگلہ دیش میں شفاف انتخابات ممکن ہیں۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کر کے ذمہ داروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔
میڈیا بریفنگ میں اتحادی جماعتوں کے کئی رہنما بھی موجود تھے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پولنگ اسٹیشنز بے ضابطگیوں بنگلہ دیش انہوں نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔