پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئر پرسن حنا پرویز بٹ نے خواتین کے تحفظ، تشدد اور حساس کیسز پر اپنے تجربات اور سرگرمیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح کچھ واقعات نے ان کی نیندیں اڑادیں اور انہیں بے اختیار رونے پر مجبور کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اگر پنجاب کی بیٹی ڈٹ جائے تو تقدیر بدل سکتی ہے، مریم نواز کا تقریب سے خطاب

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس موصول ہونے والے کیسز میں زیادہ تر عزت کے نام پر قتل، ریپ اور دیگر سنگین جرائم شامل ہوتے ہیں۔

ثانیہ زہرہ کیس

حنا پرویز بٹ نے کہا کہ ثانیہ زہرہ کیس ان کا پہلا بڑا کیس تھا جس میں لڑکی کو ملتان میں بری طرح قتل کیا گیا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ اس کیس کو ابتدا میں خودکشی کا معاملہ قرار دیا گیا لیکن انہوں نے جائے وقوعہ جا کر تصویریں دیکھ کر اندازہ لگایا کہ وہ قتل تھا۔

مزید پڑھیے: پنجاب میں قبضے ختم کرانے کے لیے خصوصی عدالتیں قائم ہوں گی، فیصلے 90 دن میں ہوں گے: وزیراعلیٰ

انہوں نے قبر کشائی کروائی اور باڈی کے سیمپلز فرانزک سائنس لیب کو بھیجے جس سے ثابت ہوا کہ قتل میں کوئی اور نہیں بلکہ اس کا اپنا شوہر ملوث تھا۔ عدالت نے شوہر کو سزائے موت سنائی۔

جھنگ کی ڈھائی سالہ بچی کا ریپ کیس

حنا پرویز بٹ نے بتایا کہ جھنگ میں ایک ڈھائی سالہ بچی کے ساتھ ریپ ہوا جس کا پتا فرانزک سائنس لیب نے سیمنز کے ذریعے لگایا۔

انہوں نے کہا کہ اکثر ایسے کیسز میں گلی، محلے کے لوگ اور رشتہ دار بھی ملوث ہوتے ہیں۔

ٹک ٹاکر علینہ عامر کا کیس

حنا پرویز بٹ نے بتایا کہ یہ کیس سائبر کرائم کو بھیجا گیا اور ڈیپ فیک ویڈیوز بنانے والے افراد کو گرفتار کیا گیا۔

جھنگ میں ہنی ٹریپ کیس

انہوں نے بتایا کہ ایک شخص لڑکیوں کی ویڈیوز بنا کر انہیں بلیک میل کر رہا تھا جس کی وجہ سے ایک لڑکی نے خودکشی کی کوشش کرلی تھی۔

مزید پڑھیں: جنوبی پنجاب کی خواتین کو مفت گائے اور بھینس ملے گی، مریم نواز کا تاریخی اقدام

حنا پرویز بٹ نے مزید بتایا کہ خاتون پولیس افسر نے اسے اپنے جال میں پھنسایا اور گرفتار کر لیا۔

خلیل الرحمان قمر کے تذکرے پر ان کا کہنا تھا کہ وہ ان پر کوئی تبصرہ نہیں کرنا چاہتیں۔

متاثرہ خواتین سے رابطہ

حنا پرویز بٹ نے کہا کہ وہ اکثر زیادتی کا شکار خواتین کے پاس جاتی ہیں، ان سے ان کی بپتا سنتی ہیں اور سوشل میڈیا پر جو ویڈیوز پوسٹ کرتی ہیں وہ دھندلی ہوتی ہیں تاکہ متاثرہ خواتین کی شناخت محفوظ رہے۔

یہ بھی پڑھیے: فری ڈیجیٹل ٹریننگ اور ماہانہ وظیفہ، مریم نواز نے خواتین کو خوشخبری سنا دی

ان کا کہنا تھا کہ ان کا مقصد یہ ہے کہ پورے علاقے میں پیغام جائے کہ پنجاب حکومت خواتین کے ساتھ کھڑی ہے اور زیادتی کرنے والے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں گے۔

بسنت کی خوشیوں میں شرکت

انہوں نے بتایا کہ بسنت کی دوبارہ بحالی خوش آئندہ ہے اور اس کا کریڈٹ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کو جاتا ہے۔

انہوں نے 2 دن بسنت منائی، خوب ہلا گلا کیا اور مزنگ میں اپنے کزن کے ساتھ بھی بسنت منائی۔

مزید پڑھیں: بیٹے کی شادی پر مریم نواز مرکز نگاہ، پیپلز پارٹی کی خواتین بھی معترف

حنا پرویز بٹ نے بچپن کی یادیں بھی شیئر کیں اور کہا کہ میں بچپن میں بہت گڈیاں اڑاتی تھی اب بھی اڑائیں، بہت مزا آیا ہے۔

جنید صفدر کی شادی میں شرکت

حنا پرویز بٹ نے بتایا کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی میں بھی گئی تھیں لیکن انہوں نے ولیمہ نہیں کھایا۔ جانیے مزید تفصیل اس ویڈیو رپورٹ میں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی ثانیہ زہرہ کیس ٹک ٹاکر علینہ عامر کیس چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ حنا پرویز بٹ ہنی ٹریپ کیس.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی ثانیہ زہرہ کیس ٹک ٹاکر علینہ عامر کیس چیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی حنا پرویز بٹ حنا پرویز بٹ ہنی ٹریپ کیس پنجاب ویمن پروٹیکشن اتھارٹی انہوں نے بتایا کہ حنا پرویز بٹ نے مریم نواز کہا کہ

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا