اقوام متحدہ کا بڑا فیصلہ، طالبان پابندیوں کی نگرانی میں ایک سال کی توسیع کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی مدت میں ایک سال کی توسیع کر دی ہے۔
قرارداد کو تمام 15 ارکان نے متفقہ طور پر منظور کیا، جس کے تحت مانیٹرنگ ٹیم کا مینڈیٹ 17 فروری 2027 تک بڑھا دیا گیا ہے۔
یہ ٹیم 1988 افغانستان پابندیوں کی کمیٹی کی معاونت کرتی ہے، جو طالبان پر عائد پابندیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ قرارداد امریکا کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔
پاکستان نے بھی قرارداد کی حمایت کی۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا کہ کالعدم تنظیمیں جیسے تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے)، داعش خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے) اور القاعدہ پاکستان کے خلاف سنگین دہشت گرد حملوں میں ملوث رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینے میں دہشتگرد حملوں میں 80 افراد جاں بحق ہوئے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغان سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور طالبان کو اس کا سدباب کرنا ہوگا۔
انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کو عالمی برادری کا ذمہ دار رکن بننے کے لیے دہشت گرد گروہوں کے خلاف واضح اور مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔
اقوام متحدہ کی مانیٹرنگ ٹیم کی حالیہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں متعدد دہشت گرد گروہ سرگرم ہیں اور بعض کو وہاں سازگار ماحول میسر ہے، خاص طور پر ٹی ٹی پی کو۔ رپورٹ میں سرحد پار حملوں، انتہا پسندی کے پھیلاؤ اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
Through adoption of this resolution, the Security Council has sent a clear message to the Taliban authorities that Afghan territory should not be used to threaten or attack any country, and that no Afghan group or individual should support terrorists operating on the territory of… pic.
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) February 12, 2026
رپورٹ کے مطابق القاعدہ بدستور خطے اور اس سے باہر کارروائی کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ داعش خراسان شمالی افغانستان میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے بھی پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور سی پیک منصوبوں پر حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
سلامتی کونسل نے قرارداد کے ذریعے واضح پیغام دیا ہے کہ افغان سرزمین دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہ نہیں بننی چاہیے اور تمام رکن ممالک کو یرغمالیوں کے بدلے تاوان یا سیاسی رعایتوں سے گریز کرنا چاہیے۔
Explanation of Vote by Ambassador Asim Iftikhar Ahmad
Permanent Representative of Pakistan to the UN
At the1988 Mandate Renewal of the Monitoring Team for the 1988 Taliban Sanctions Regime*
(12 February 2026)
***
Thank you Mr. President,
Pakistan voted in favor of this… pic.twitter.com/rT665naqoK
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) February 12, 2026
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ افغانستان کی سیکیورٹی صورتحال اور موجودہ پابندیوں کی مؤثریت پر آئندہ بحث میں اہم کردار ادا کرے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اقوام متحدہ پابندیوں کی
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز