طالبان رجیم میں افغانستان ریاست نہیں، دہشتگردی اور شدت پسندی کا گڑھ بن گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
کابل(نیوز ڈیسک) طالبان رجیم کے تحت افغانستان ایک باقاعدہ ریاست کے بجائے دہشتگردی اور شدت پسندی کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں سے شدت پسند عناصر کی سرحد پار دراندازی اور ہمسایہ ممالک میں دہشتگردی کی کارروائیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
عالمی جریدے نے افغانستان سے پڑوسی ممالک میں ہونے والی دراندازی اور دہشتگردی کی کارروائیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ امریکی جریدے Eurasia Review کے مطابق افغانستان سے سرحد پار حملے اور غیر قانونی دراندازی معمول بن چکی ہے، جس سے پاکستان، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق افغانستان کی جانب سے بار بار دراندازی کے واقعات کے باعث کولیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن کو تاجکستان کی سرحد مزید مضبوط کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ افغانستان اب صرف داخلی عدم استحکام کا شکار ملک نہیں رہا بلکہ مسلح گروہوں اور سرحد پار جرائم کا مرکز بن چکا ہے۔
رپورٹ میں اقوام متحدہ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں اس وقت 20 سے زائد دہشتگرد گروہ سرگرم ہیں جبکہ تقریباً 13 ہزار غیر ملکی جنگجو بھی موجود ہیں۔ United Nations کے مطابق یہ عناصر نہ صرف افغانستان کے اندر عدم استحکام کا باعث ہیں بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
یوریشیا ریویو کے مطابق افغانستان کی غیر مستحکم صورتحال کے اثرات براہِ راست ہمسایہ ممالک پر مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان اور ایران کو سرحدی خطرات کے ساتھ ساتھ اسمگلنگ اور منشیات کے پھیلاؤ جیسے مسائل کا سامنا ہے، جبکہ وسطی ایشیائی ریاستیں بھی سلامتی کے خدشات میں مبتلا ہیں۔
ماہرین کے مطابق افغانستان نہ صرف دہشتگردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے بلکہ وہاں سے منشیات اور انسانی اسمگلنگ کا مکروہ دھندا بھی عروج پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ افغان طالبان رجیم کی انتہا پسندانہ اور جابرانہ پالیسیاں نہ صرف خطے کے لیے بلکہ خود افغانستان کے لیے بھی سنگین خطرات پیدا کر چکی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر افغانستان میں شدت پسندی اور دہشتگرد گروہوں کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس کے اثرات مزید ہمسایہ ممالک تک پھیل سکتے ہیں، جو علاقائی امن و استحکام کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوں گے۔
https://mnews.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق افغانستان کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔