ایکسپائرڈ اینٹی سیپٹک استعمال نہ کریں، زخم میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے: ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اکثر گھر میں موجود میڈیسن کیبنٹ میں رکھی اینٹی سیپٹک بوتلیں سالوں تک غیر استعمال شدہ پڑی رہتی ہیں اور لوگ عام طور پر سمجھتے ہیں کہ یہ بیرونی استعمال کی دوائیں میعاد ختم ہونے کے بعد بھی محفوظ رہتی ہیں۔
تاہم ماہرین صحت خبردار کرتے ہیں کہ ایکسپائر اینٹی سیپٹک اپنی جراثیم کش صلاحیت کھو دیتی ہیں، جس سے چھوٹے زخم، کٹ یا خراش میں انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور زخم بھرنے کا عمل سست ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اینٹی سیپٹک میں شامل جراثیم کش اجزاء جیسے آیوڈین، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ یا کلورہیکسیڈین وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو جاتے ہیں اور الکحل پر مبنی محلول بخارات بننے کے باعث اپنی طاقت کھو دیتے ہیں۔
اس کے نتیجے میں اگر ایسی دوائیں زخم پر لگائیں جائیں تو بیکٹیریا اور جراثیم بڑھ سکتے ہیں، اور بعض اوقات کیمیائی ساخت میں تبدیلی کے سبب جلد میں جلن، سوزش یا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹرز کا مشورہ ہے کہ اگر کسی نے غلطی سے ایکسپائر اینٹی سیپٹک استعمال کر لیا ہو تو سب سے پہلے زخم کو دھیرے دھیرے صاف پانی اور ہلکے صابن سے دھو کر تازہ اور میعاد کے اندر موجود اینٹی سیپٹک لگائیں۔ ساتھ ہی زخم کی علامات جیسے سرخی، سوجن، گرمی، درد، پیپ یا بخار پر مسلسل نظر رکھنا ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خاص طور پر گہرے زخم، جلنے یا سرجری کے زخم میں ایکسپائر اینٹی سیپٹک مؤثر ثابت نہیں ہوتے، اور اگر علامات ظاہر ہوں یا زخم بھرنے میں دیر ہو رہی ہو تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔ انفیکشن سے بچاؤ اور جلدی شفا کے لیے ہمیشہ نئی، معیاری اور مؤثر اینٹی سیپٹک کا استعمال سب سے محفوظ اور مؤثر طریقہ قرار دیا گیا ہے۔
یہ انتباہ خاص طور پر گھر میں موجود غیر استعمال شدہ اینٹی سیپٹک بوتلوں کے حوالے سے اہم ہے تاکہ چھوٹے زخم بھی درست اور محفوظ طریقے سے بھر سکیں اور غیر ضروری پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سکتا ہے
پڑھیں:
پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
لاہور: پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع کردی گئی۔محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق صوبہ بھر میں کھلی فضا میں ڈرون اُڑانے پر مکمل پابندی برقرار ہے، دفعہ 144 کے تحت آؤٹ ڈور ڈرون اڑانے پر عائد پابندی میں 30 روز کی توسیع کر دی گئی ہے۔حکومت پنجاب نے یہ فیصلہ سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کیا ہے۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہالز اور مارکیز کے اندر تقریبات کے دوران چھوٹے ڈرون کے محدود استعمال کی اجازت ہے، جبکہ اندرونی تقریبات میں ڈرون کے محفوظ استعمال کی ذمہ داری منتظمین پر عائد ہوگی۔حکومتی ہدایت کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی اور وہ اپنے فرائض کے مطابق ڈرون سمیت دیگر ٹیکنالوجی استعمال کر سکیں گی۔