پی ٹی آئی کے احتجاج کے پیشِ نظر پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
— فائل فوٹو
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عمران خان کی صحت کے معاملے پر دھرنے کے پیشِ نظر اسلام آباد میں پارلیمنٹ اور ڈی چوک جانے والے تمام راستے بند کردیے گئے۔
مین شاہراہ دستور کو بھی بلاک کر کے پولیس کی نفری تعینات کردی گئی ہے جبکہ ڈی چوک سے ریڈ زون جانے والے راستے بھی بند کردیے گئے ہیں۔
سرینا چوک سے پارلیمنٹ ہاؤس کی طرف آنے والی ٹریفک کو بھی روک لیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق پیدل جانے والوں کو بھی آگے جانے کی اجازت نہیں ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے مین گیٹ کو بھی بند کر کے پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ہے۔
وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ خان صاحب کی صحت پر سیاست نہ کریں، ایسا کوئی معاملہ نہیں کہ 4 ماہ غفلت کی گئی، یہ کہنا غلط ہے کہ 4 ماہ سے شکایت کی جا رہی تھی، بانیٔ پی ٹی آئی کا جیل کے ڈاکٹر ہر دوسرے دن چیک اپ کرتے ہیں۔
پی ٹی آئی کے اراکینِ اسمبلی اقبال آفریدی اور عمیر نیازی کو بھی ریڈیو پاکستان چوک پر روک دیا گیا۔
پارلیمنٹ جانے سے روکنے پر پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی فتح اللہ خان کی پولیس سے تکرار بھی ہوئی۔
واضح رہے کہ آج سینیٹ اجلاس میں بھی بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق حکومت اور اپوزیشن اراکین نے بات کی تھی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: پارلیمنٹ ہاؤس نفری تعینات پولیس کی کی صحت کو بھی
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔