20سے زاید لاپتاافرادکی بازیابی سے متعلق پیش رفت رپورٹس طلب
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ آئینی بینچ میں کراچی کے مختلف علاقوں سے 20 سے زاید لاپتا افرادکی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت، عدالت نے پیش رفت رپورٹس طلب کرلیں۔ پولیس رپورٹ میں لاپتا شہری شاہ میر کا پولیس مقابلے میں مارے جانے کا انکشاف ہوا، عدالت نے ایس ایس پی ایسٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے 19 فروری کو مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ تفتیشی افسر کاکہنا تھا کہ شاہ میر پولیس مقابلے میں مارا جاچکا ہے،درخواست گزار کاکہنا تھا کہ شاہ میر کو مقابلے کے 2 روز قبل حراست میں لیا گیا، حراست میں لیے گئے شہری کی پولیس مقابلے میں ہلاکت کے معاملے پر عدالت نے اظہار حیرت کیا، عدالت نے ارسلان، لیاقت علی، ذیشان، عبدالمعز، فہیم، رضوان اور دیگر لاپتا سے متعلق رپورٹس طلب کرلیں ،عدالت نے ہاشم، شبیر ، تاج محمد ، صبغت اللہ ، امجد ، محمد یوسف سمیت دیگر لاپتا افراد سے متعلق بھی رپورٹس طلب کرلیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: رپورٹس طلب عدالت نے
پڑھیں:
خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔
فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔
فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔
احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔
فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔