سپریم کورٹ: عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی اور بیٹوں سے ٹیلی فون پر رابطے کی اجازت
اشاعت کی تاریخ: 12th, February 2026 GMT
اسلام آباد: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق وزیرِ اعظم اور پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے لیے طبی سہولیات اور بچوں سے رابطے کی سہولت کے معاملے میں اہم فیصلہ جاری کیا ہے۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد بلال حسن پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جس دوران عدالت میں متعلقہ رپورٹ بھی پیش کی گئی، عدالت نے حکم دیا ہے کہ عمران خان کو آنکھوں کے ماہر ڈاکٹرز تک رسائی کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں سے ٹیلی فون کے ذریعے رابطہ کی سہولت بھی فراہم کی جائے۔
دوران سماعت عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق عمران خان نے موجودہ طبی سہولیات کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ماہر آنکھوں کے ڈاکٹرز تک رسائی کی درخواست کی تھی۔
اٹارنی جنرل انور منصور نے عدالت کو آگاہ کیا کہ حکومت اس حوالے سے تیار ہے اور ماہر ڈاکٹرز تک رسائی فراہم کی جائے گی۔ چیف جسٹس نے اس موقع پر زور دیا کہ عمران خان کے ساتھ دیگر قیدیوں کی طرح یکساں سلوک ہونا چاہیے، تاہم انہیں اپنے بچوں سے رابطے کی سہولت بھی دی جائے۔
عدالت نے واضح کیا کہ تمام قیدیوں کو یکساں طبی سہولیات ملنی چاہئیں اور کسی کو نمایاں سہولت نہیں دی جائے گی۔
چیف جسٹس نے مزید کہا کہ فرینڈ آف دی کورٹ اور جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹس میں کوئی تضاد نہیں ہے، دونوں کی رائے ایک جیسی ہے۔
عدالت نے حکم دیا کہ عمران خان کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے لیے ڈاکٹرز کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے اور یہ معائنہ 16 فروری سے قبل مکمل ہونا چاہیے۔
عمران خان کے بچوں قاسم اور سلیمان سے ٹیلی فونک رابطے کی سہولت بھی عدالت نے یقینی بنانے کا حکم دیا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہ معاملہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور ہم حکومت پر اعتماد کرتے ہیں کہ وہ اس پر عمل درآمد کرے گی۔
عدالت نے اپنے فیصلہ میں کہا کہ اصل کیس کی سماعت کے دوران سماعت کا آرڈر ریزرو کر دیا گیا ہے تاکہ آئندہ فیصلے بھی صحت اور رابطے کے معاملات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل ڈاکٹرز تک رسائی عدالت نے کی سہولت رابطے کی چیف جسٹس
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔