اسلام آباد(نیوزڈیک )سپریم کورٹ نے حکومت کو بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ اور بچوں سے بات کرانے کا حکم دیدیا۔ جیل میں مناسب جگہ اور سہولتوں پر عدالت نے اطیمنان کا اظہار کیا۔

سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی کی جیل میں حالت اور سہولیات کے معاملے کی سماعت میں فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر نے رپورٹ کی سفارشات پڑھ کر سنا دیں۔ سلمان صفدر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق فوری مداخلت کی ضرورت ہے۔

فرینڈ آف کورٹ سلمان صفدر نے استدعا کی کہ طبی معائنہ کسی فیملی ممبر کی موجودگی میں کرایا جائے ۔ عدالت نے فیملی ممبر کی موجودگی کو کورٹ آرڈر کا حصہ بنانے کی استدعا مسترد کردی ۔ چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ریمارکس دیے اب یہ ہم سے نہ کرائیں ۔ فیملی ممبران کی ملاقات کا کیس الگ عدالت کے سامنے ہے ۔

جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہمیں سپرنٹنڈنٹ جیل اور سلمان صفدر دونوں کی رپورٹس میں ایک بات مشترک ہے کہ بانی کو مناسب جگہ اور سہولیات میسر ہیں ۔ صحت کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے ۔ اٹارنی جنرل بتائیں حکومت کیا کرسکتی ہے۔

اٹارنی جنرل نے کہا ہم سولہ فروری سے پہلے طبی ماہرین کے ذریعے بانی کا دوبارہ معائنہ کروادیں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا حکومت اچھے موڈ میں لگ رہی ہے تو بچوں سے بات کا معاملہ بھی دیکھ لیں جس پر اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے کہا جی ہم فون پر بچوں سے بات بھی کروا دیں گے ۔

سلمان صفدر نے بانی پی ٹی آئی کو کتابیں مہیا نہ کرنے کی شکایت کی تو چیف جسٹس نے ریمارکس دیے میرا مشورہ ہے ان کی آنکھ خراب ہے تو کتابیں نہ ہی پڑھیں۔ اگر ڈاکٹر صاحبان اجازت دے دیں تو کتابیں بھی فراہم کردیں ۔

توشہ خانہ فوجداری ٹرائل کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ

توشہ خانہ فوجداری ٹرائل کیخلاف بانی پی ٹی آئی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا گیا، چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ توشہ خانہ میں ٹرائل کورٹ نے فیصلہ دے دیا تھا، اب اس فیصلے کیخلاف اپیل بھی ہائیکورٹ میں زیرسماعت ہے، کیا یہ کیس یہاں غیر موثر نہیں ہوجاتا؟ جس پر لطیف کھوسہ نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کے فیصلہ کے بعد سپریم کورٹ کے 3رکنی بنچ نے حکمنامہ جاری کیا، عدالت اس معاملے کو یہاں دیکھ سکتی ہے۔

وکیل نے کہا کہ عدالت چاہے تو گھڑی واپس کرکے ٹرائل غیرقانونی قرار دے سکتی ہے، یہ نوٹ کرلیں کہ آج 2 رکنی بینچ ہے،پہلے آرڈر 3رکنی بینچ نے کیا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم عدالت کا سابقہ آرڈر دیکھ کر مناسب حکمنامہ جاری کریں گے، ہم اس کیس کا فیصلہ محفوظ کر رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی بچوں سے بات سپریم کورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس

پڑھیں:

کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں زیادتی کا شکار غیر ملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا۔ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی ملزم کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔

کراچی میں درخشاں تھانے کی حدود میں امریکی خاتون سے زیادتی کے مقدمے کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں ہوئی پولیس نے گرفتار ملزم جیسپر عرف آدی محمود کو عدالت میں پیش کیا۔

متاثرہ خاتون نے عدالت میں زیر دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کروایا، متاثرہ خاتون نے ملزم کو معاف کرنے کا بیان دیا۔

کراچی: ڈیفنس میں غیرملکی خاتون سے زیادتی کی کوشش، ملزم گرفتار

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمہ میں ملوث ملزم آدی محمود کو گرفتار کرلیا ہے، ملزم تھانا درخشاں میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے صفائی کا کام کر رہا تھا۔

خاتون نے بیان میں کہا کہ پولیس افسر نے اس کا دستخط شدہ بیان جلادیا، پولیس افسر نے کہا کہ مقدمہ درج کروائیں ورنہ ہمارے لیے مشکل ہوجائے گی۔

متاثرہ خاتون نے کہا کہ ملزم کی زندگی خراب نہیں کرنا چاہتی۔

عدالت نے متاثرہ خاتون کا بیان کیس کا حصہ بنادیا جبکہ عدالت نے ملزم جیسپر کے جسمانی ریمانڈ میں چار روز کی توسیع کردی۔

عدالت نے تفتیشی افسر کو ملزم کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • کراچی: زیادتی کی شکار غیرملکی خاتون نے ملزم کو معاف کردیا
  • ڈیرہ اسماعیل خان، بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • ٹیسلا نے بچوں کے لیے نئی بیلنس بائیک متعارف کرا دی، قیمت کتنی ہے؟
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ