ٹیرر فنانسنگ کیخلاف اداروں کی استعداد میں اضافہ ناگزیر ہے، بیرسٹر عقیل
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک)وزیر مملکت برائے قانون بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پارلیمانی نگرانی کو مؤثر بنانا اوردہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اداروں کی استعداد کار میں اضافہ ناگزیر ہے۔
پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف ادارہ جاتی صلاحیتوں کو بڑھانے” کے موضوع پراسلام آباد میں منعقدہ دو روزہ قومی مکالمے کی اختتامی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور ملک سے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی فنڈنگ روکنے کے حوالے سے متعدد مؤثر اقدامات اور قانونی اصلاحات کی گئی ہیں جنہیں عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ دہشت گردوں کے مالی نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے سخت ترین عالمی معیارات اپنائے گئے ہیں اور ٹیرر فنانسنگ کے خلاف کامیابیاں ریاست کے مضبوط عزم اور اداروں کی انتھک محنت کا نتیجہ ہیں۔
بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی جماعتیں متحد ہیں اور پارلیمنٹ اس قومی مقصد کے لیے ایک پیج پر ہے۔ انسدادِ دہشت گردی اور مالی معاونت کی روک تھام میں پاکستان کا کردار خطے میں نمایاں ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: دہشت گردی کے کے خلاف نے کہا کے لیے
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔