جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اجلاس میں ابتدائی خطاب کرتے ہوئے علامہ نثار احمد قلندری نے صوبہ سندھ میں جعفریہ الائنس کی کارکردگی کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی۔ صدر جعفریہ الائنس مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے اجلاس سے خطاب میں تینوں ڈویژنز کے ذمہ داران کی کارکردگی کو سراہا۔ چھوٹی تصاویر تصاویر کی فہرست سلائیڈ شو
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
جعفریہ الائنس کے تحت سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم اجلاس، علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب
اسلام ٹائمز۔ جعفریہ الائنس پاکستان کے زیر اہتمام سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے ذمہ داران کا اہم مشترکہ اجلاس خیرپور کے مقامی لان میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں تینوں ڈویژنز کے تمام اضلاع کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس میں جعفریہ الائنس کی مرکزی قیادت کے اراکین، بشمول صدر مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، سینئر نائب صدر علامہ نثار احمد قلندری، جنرل سیکریٹری شبر رضا رضوی اور سیکرٹری جعفریہ والینٹیئرز سید رخ فیروز سمیت دیگر اراکین بھی اجلاس میں موجود تھے۔ اجلاس میں ابتدائی خطاب کرتے ہوئے علامہ نثار احمد قلندری نے صوبہ سندھ میں جعفریہ الائنس کی کارکردگی کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی۔صدر جعفریہ الائنس مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے اجلاس سے خطاب میں تینوں ڈویژنز کے ذمہ داران کی کارکردگی کو سراہا۔ انہوں نے الائنس کے نئے دستور کے مطابق ضلعی سیٹ اپ کی تشکیل کے حوالے سے شرکاء کو بریفنگ دی اور آئندہ ذمہ داروں کے انتخاب کے حوالے سے استصواب رائے کے طریقہ کار کی تفصیلات سے ذمہ داراں کو آگاہ کیا۔ انہوں نے اس موقع پر سکھر، نواب شاہ اور لاڑکانہ ڈویژنز کے لیے ایک آرگنائزنگ کمیٹی کے قیام کا اعلان کیا۔ علامہ شہنشاہ حسین نقوی نے آرگنائزنگ کمیٹی سے 15 شوال تک تینوں ڈویژنز میں استصواب رائے کے مراحکل کو مکمل کرنے کی گذارش کی۔ اجلاس کے اختتام پر تینوں ڈویژنز کے ذمہ داران کی حوصلہ افزائی کے لیے یادگاری شیلڈز بھی تقسیم کی گئیں۔.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ شہنشاہ نقوی کا خطاب شہنشاہ حسین نقوی تینوں ڈویژنز کے کی کارکردگی کے حوالے سے اجلاس میں
پڑھیں:
کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
مزید :