لال قلعہ دھماکہ کیس میں "این آئی اے" کو تفتیش کیلئے 45 دن کا اضافی وقت
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
تحقیقاتی ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ جواد احمد صدیقی اور ٹرسٹ نے یونیورسٹی اور اس سے منسلک اداروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر دولت اکٹھی کی۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی لال قلعہ دھماکہ کیس میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے ڈاکٹر شاہین سعید سمیت چھ ملزمان کو 13 مارچ تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انجو بجاج چندنا نے یہ حکم جاری کیا۔ عدالت نے این آئی اے کو کیس کی تحقیقات کے لئے مزید 45 دن کی مہلت دی ہے۔ این آئی اے نے تحقیقات کی مدت میں 90 دن کی توسیع کی درخواست کی تھی۔ ڈاکٹر شاہین سعید کے علاوہ جن ملزمان کی عدالتی تحویل میں آج عدالت نے توسیع کی ہے ان میں مفتی عرفان احمد، ظہیر بلال وانی عرف دانش، ڈاکٹر عادل احمد، یاسر احمد ڈار اور ڈاکٹر مزمل شکیل شامل ہیں۔ این آئی اے نے دانش کو سرینگر سے گرفتار کیا تھا۔
این آئی اے کے مطابق دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل ایک راکٹ کو اسمبل کرنے کی کوشش کی۔ این آئی اے کا دعویٰ ہے کہ دانش نے عمر کے ساتھ مل کر پوری سازش کو انجام دینے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق دانش جو کہ پولیٹیکل سائنس کے گریجویٹ ہیں، کو عمر نے خودکش بمبار بننے کے لئے برین واش کیا تھا۔ اکتوبر 2024ء میں، وہ کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے پر راضی ہوا، جہاں سے اسے ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی میں رہنے کے لئے لے جایا گیا۔ 10 نومبر 2025ء کو لال قلعہ کے قریب ایک کار بم دھماکہ ہوا۔ یہ گاڑی عامر رشید علی کے نام پر تھی۔ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔
دہلی کی ساکیت عدالت نے الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کی عدالتی تحویل میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں صدیقی جیل میں ہی رہیں گے۔ عدالت نے صدیقی کی درخواست پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس سے متعلق دستاویزات کی فہرست طلب کی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج (اے ایس جے) شیتل چودھری پردھان نے ای ڈی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا۔ کیس کی سماعت 27 مارچ کو ہوگی۔ الفلاح گروپ کو منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کا سامنا ہے، جس کی ای ڈی تحقیقات کر رہی ہے۔ جواد احمد صدیقی طویل عرصے سے جانچ کی زد میں ہیں۔ اس عدالتی فیصلے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
16 جنوری کو ای ڈی نے جواد احمد صدیقی اور الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں چارج شیٹ داخل کی۔ تحقیقاتی ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ جواد احمد صدیقی اور ٹرسٹ نے یونیورسٹی اور اس سے منسلک اداروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر دولت اکٹھی کی۔ ای ڈی نے جعلی نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) کی منظوری کا استعمال کرتے ہوئے طلباء سے فیس وصول کرنے، سرکاری ایجنسیوں کو گمراہ کرنے، فرضی ڈاکٹروں کی تقرری اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے ثبوت ملنے کا دعویٰ کیا۔
یہ کیس نومبر 2025ء میں دہلی کے لال قلعے کے قریب کار بم دھماکے کی تحقیقات سے شروع ہوا، جس میں مبینہ طور پر یونیورسٹی کے کئی اہلکار ملوث تھے۔ یونیورسٹی میں کام کرنے والے ڈاکٹروں میں سے ایک مبینہ طور پر 10 نومبر 2025ء کو لال قلعہ کے قریب کار بم دھماکے میں ملوث تھا۔ اس کے بعد، ای ڈی نے یونیورسٹی کے تقریباً 140 کروڑ روپے کے اثاثوں کو ضبط کر لیا، جس میں 54 ایکڑ اراضی اور عمارتیں بھی شامل ہیں۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ جواد احمد صدیقی نے ٹرسٹ اور یونیورسٹی پر مکمل کنٹرول کا استعمال کیا اور غیر قانونی آمدنی کا بنیادی فائدہ اٹھانے والا تھا۔ تحقیقات میں طلباء کے ساتھ کروڑوں روپے کی فراڈ اور دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: آئی اے جواد احمد لال قلعہ عدالت نے کیس میں کار بم
پڑھیں:
بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
مقامی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ اور گرد و نواح میں دو طرفہ سڑک کی بحالی اور صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ سڑک کی مکمل بحالی اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر روڈ کو 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بابوسر ٹاپ روڈ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گی۔ مقامی انتظامیہ کے مطابق بابوسر ٹاپ اور گرد و نواح میں دو طرفہ سڑک کی بحالی اور صفائی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ سڑک کی مکمل بحالی اور محفوظ آمدورفت کو یقینی بنانے کے پیشِ نظر روڈ کو 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق عوام غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور پولیس و ضلعی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔ مزید معلومات اور تازہ ترین صورتحال سے آگاہی کے لیے ڈپٹی کمشنر دیامر آفس 05812920055 دیامر پولیس کنٹرول روم 05812930037 پولیس ہیلپ لائن 15 پر رابطہ کریں۔