تحقیقاتی ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ جواد احمد صدیقی اور ٹرسٹ نے یونیورسٹی اور اس سے منسلک اداروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر دولت اکٹھی کی۔ اسلام ٹائمز۔ دہلی لال قلعہ دھماکہ کیس میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے ڈاکٹر شاہین سعید سمیت چھ ملزمان کو 13 مارچ تک عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔ پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انجو بجاج چندنا نے یہ حکم جاری کیا۔ عدالت نے این آئی اے کو کیس کی تحقیقات کے لئے مزید 45 دن کی مہلت دی ہے۔ این آئی اے نے تحقیقات کی مدت میں 90 دن کی توسیع کی درخواست کی تھی۔ ڈاکٹر شاہین سعید کے علاوہ جن ملزمان کی عدالتی تحویل میں آج عدالت نے توسیع کی ہے ان میں مفتی عرفان احمد، ظہیر بلال وانی عرف دانش، ڈاکٹر عادل احمد، یاسر احمد ڈار اور ڈاکٹر مزمل شکیل شامل ہیں۔ این آئی اے نے دانش کو سرینگر سے گرفتار کیا تھا۔

این آئی اے کے مطابق دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے قبل ایک راکٹ کو اسمبل کرنے کی کوشش کی۔ این آئی اے کا دعویٰ ہے کہ دانش نے عمر کے ساتھ مل کر پوری سازش کو انجام دینے میں کلیدی رول ادا کیا تھا۔ این آئی اے کے مطابق دانش جو کہ پولیٹیکل سائنس کے گریجویٹ ہیں، کو عمر نے خودکش بمبار بننے کے لئے برین واش کیا تھا۔ اکتوبر 2024ء میں، وہ کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے پر راضی ہوا، جہاں سے اسے ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی میں رہنے کے لئے لے جایا گیا۔ 10 نومبر 2025ء کو لال قلعہ کے قریب ایک کار بم دھماکہ ہوا۔ یہ گاڑی عامر رشید علی کے نام پر تھی۔ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے۔

دہلی کی ساکیت عدالت نے الفلاح یونیورسٹی کے چیئرمین جواد احمد صدیقی کی عدالتی تحویل میں مزید 14 دن کی توسیع کر دی ہے۔ منی لانڈرنگ کیس میں صدیقی جیل میں ہی رہیں گے۔ عدالت نے صدیقی کی درخواست پر انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس سے متعلق دستاویزات کی فہرست طلب کی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج (اے ایس جے) شیتل چودھری پردھان نے ای ڈی کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کیا۔ کیس کی سماعت 27 مارچ کو ہوگی۔ الفلاح گروپ کو منی لانڈرنگ کے سنگین الزامات کا سامنا ہے، جس کی ای ڈی تحقیقات کر رہی ہے۔ جواد احمد صدیقی طویل عرصے سے جانچ کی زد میں ہیں۔ اس عدالتی فیصلے نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

16 جنوری کو ای ڈی نے جواد احمد صدیقی اور الفلاح چیریٹیبل ٹرسٹ کے خلاف مبینہ منی لانڈرنگ کیس میں چارج شیٹ داخل کی۔ تحقیقاتی ایجنسی نے دعویٰ کیا کہ جواد احمد صدیقی اور ٹرسٹ نے یونیورسٹی اور اس سے منسلک اداروں کے ذریعے غیر قانونی طور پر دولت اکٹھی کی۔ ای ڈی نے جعلی نیشنل اسسمنٹ اینڈ ایکریڈیٹیشن کونسل (NAAC) کی منظوری کا استعمال کرتے ہوئے طلباء سے فیس وصول کرنے، سرکاری ایجنسیوں کو گمراہ کرنے، فرضی ڈاکٹروں کی تقرری اور دیگر مالی بے ضابطگیوں کے ثبوت ملنے کا دعویٰ کیا۔

یہ کیس نومبر 2025ء میں دہلی کے لال قلعے کے قریب کار بم دھماکے کی تحقیقات سے شروع ہوا، جس میں مبینہ طور پر یونیورسٹی کے کئی اہلکار ملوث تھے۔ یونیورسٹی میں کام کرنے والے ڈاکٹروں میں سے ایک مبینہ طور پر 10 نومبر 2025ء کو لال قلعہ کے قریب کار بم دھماکے میں ملوث تھا۔ اس کے بعد، ای ڈی نے یونیورسٹی کے تقریباً 140 کروڑ روپے کے اثاثوں کو ضبط کر لیا، جس میں 54 ایکڑ اراضی اور عمارتیں بھی شامل ہیں۔ ای ڈی کا دعویٰ ہے کہ جواد احمد صدیقی نے ٹرسٹ اور یونیورسٹی پر مکمل کنٹرول کا استعمال کیا اور غیر قانونی آمدنی کا بنیادی فائدہ اٹھانے والا تھا۔ تحقیقات میں طلباء کے ساتھ کروڑوں روپے کی فراڈ اور دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: آئی اے جواد احمد لال قلعہ عدالت نے کیس میں کار بم

پڑھیں:

پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

سٹی 42 : فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں ۔ 

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے جی ایچ کیو میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکاء کی ملاقات ہوئی ۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کہا کہ  سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عوام کی مشترکہ کوششوں سے بلوچستان میں پائیدار امن قائم ہوگا۔ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف ہدفی کارروائیاں مکمل عزم کے ساتھ جاری رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ  دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔ 

پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان اور عوام کے لیے خطرہ بننے والے دہشت گرد نیٹ ورک کا ہر صورت خاتمہ کیا جائے گا، بیرونی سرپرستی میں چلنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی اور عدم استحکام پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ دشمن کے مذموم عزائم کو مسلح افواج اور پاکستانی عوام کے اتحاد و استقامت سے ناکام بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا فخر اور قدرتی وسائل سے مالا مال صوبہ ہے۔ 

جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ بلوچستان کے محب وطن، باصلاحیت اور ثابت قدم عوام صوبے کی سب سے بڑی طاقت ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے ترقیاتی منصوبے بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوامی اور جامع حکمت عملی کے تحت جاری ہیں۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے قومی یکجہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ 

بارشی پانی کی نکاسی نہ ہونے سے گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں بند، شہری شدید مشکلات کا شکار

اجلاس کے اختتام پر شرکاء نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • 24 جولائی کیلئے بھی ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا گیا
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • پاکستان کے روشن مستقبل کیلئے قومی اتحاد، استقامت اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار