عینی شاہدین کے مطابق مال بردار ٹرک الٹنے کی وجہ سے ڈیزل سڑک پر پھیل گیا تھا، جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی حیدرآباد موٹروے ایم 9 پر کاٹھور کے مقام پر پانچ گاڑیوں کے تصادم کے نتیجے میں بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق ایم نائن سپر ہائی وے انصاری پل کے قریب چار تیز رفتار گاڑیاں اور مسافر بس مال بردار ٹرک سے ٹکرا گئیں۔ حادثے میں ایک مسافر بس، ایک مال بردار ٹرک جبکہ کم از کم تین کاریں ٹکرائیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی، جبکہ 10 موقع پر جاں بحق ہوئے۔ حادثے کے بعد ریسکیو 1122، چھیپا اور ایدھی کے رضاکار جائے وقوعہ پہنچے جہاں انہوں نے امدادی کام سرانجام دیئے۔

امدادی حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ مزید اموات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق مال بردار ٹرک الٹنے کی وجہ سے ڈیزل سڑک پر پھیل گیا تھا، جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: مال بردار ٹرک کی وجہ سے کے مطابق

پڑھیں:

کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت

نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔

7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔

نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاری

ترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔

شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔

متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔

ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں شوہر کے ساتھ موٹرسائیکل چوری کی درجنوں وارداتوں میں ملوث ملزمہ گرفتار
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ