کراچی حیدرآباد موٹروے پر گاڑیوں میں تصادم، 13 افراد جاں بحق، انسانی اعضا بکھر گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
عینی شاہدین کے مطابق مال بردار ٹرک الٹنے کی وجہ سے ڈیزل سڑک پر پھیل گیا تھا، جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔ اسلام ٹائمز۔ کراچی حیدرآباد موٹروے ایم 9 پر کاٹھور کے مقام پر پانچ گاڑیوں کے تصادم کے نتیجے میں بچوں سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق ایم نائن سپر ہائی وے انصاری پل کے قریب چار تیز رفتار گاڑیاں اور مسافر بس مال بردار ٹرک سے ٹکرا گئیں۔ حادثے میں ایک مسافر بس، ایک مال بردار ٹرک جبکہ کم از کم تین کاریں ٹکرائیں، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی، جبکہ 10 موقع پر جاں بحق ہوئے۔ حادثے کے بعد ریسکیو 1122، چھیپا اور ایدھی کے رضاکار جائے وقوعہ پہنچے جہاں انہوں نے امدادی کام سرانجام دیئے۔
امدادی حکام کے مطابق حادثے میں جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا، جبکہ مزید اموات کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ، گورنر سندھ، وزیراعلیٰ سندھ نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کر دی۔ عینی شاہدین کے مطابق مال بردار ٹرک الٹنے کی وجہ سے ڈیزل سڑک پر پھیل گیا تھا، جس کی وجہ سے حادثہ پیش آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مال بردار ٹرک کی وجہ سے کے مطابق
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔