اسلام آباد کی جیل مکمل ہوگی تو بانی پی ٹی آئی کو وہاں منتقل کیا جائے گا، محسن نقوی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
وفاقی وزیر داخلہ سینیٹر محسن نقوی نے بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اسلام آباد جیل مکمل ہونے پر منتقلی کا واضح اشارہ دے دیا۔
محسن نقوی نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ اسلام آباد کی جیل مکمل ہوگی تو بانی پی ٹی آئی کو وہاں منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد جیل 2 ماہ میں مکمل ہوجائے گی، جس کے اندر تمام طبی سہولیات موجود ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو سزا اسلام آباد کی عدالت سے ہوئی اسلام آباد جیل منتقل کیا جائے گا۔
اس سے قبل وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا تھا کہ خان صاحب کی صحت پر سیاست نہ کریں، ایسا کوئی معاملہ نہیں کہ 4 ماہ غفلت کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ 4 ماہ سے شکایت کی جا رہی تھی، بانیٔ پی ٹی آئی کا جیل کے ڈاکٹر ہر دوسرے دن چیک اپ کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام آباد پی ٹی آئی کہا کہ
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔