عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان فائلوں میں ای میل، رابطہ لسٹ، فلائی لاگ اور دیگر ریکارڈس شامل ہیں، ان ریکارڈس میں کچھ ہندوستانی ہستیوں کے نام مبینہ طور پر سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ "ایپسٹین فائلز" نے پوری دنیا میں ہلچل مچا رکھی ہے اور اب یہ معاملہ ہندوستانی سپریم کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔ ایک عرضی کے ذریعہ عدالت عظمیٰ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ "ایپسٹین فائلز" میں کئی ہندوستانی لیڈران کے نام آئے ہیں اور جو الزامات عائد کئے جا رہے ہیں، اس تعلق سے عدالتی نگرانی میں جانچ کرائی جائے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ امریکہ کے محکمہ انصاف سے جاری مبینہ دستاویزات پر مبنی ہے، جنھیں "جیفری ایپسٹین فائلز" کہا گیا ہے۔ یہ دستاویزات آنجہانی جیفری ایپسٹین سے منسلک بتائے جاتے ہیں۔

عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان فائلوں میں ای میل، رابطہ لسٹ، فلائی لاگ اور دیگر ریکارڈس شامل ہیں، ان ریکارڈس میں کچھ ہندوستانی ہستیوں کے نام مبینہ طور پر سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔ عرضی دہندہ نے ہندوستانی آئین کی دفعہ 32، 129 اور 142 کے تحت سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ عرضی میں گزارش کی گئی ہے کہ سپریم کورٹ کے کسی جج کی صدارت میں ایک اعلیٰ سطحی یا خصوصی کمیٹی تشکیل دی جائے، جو ان رپورٹس پر الزامات کی صداقت کی جانچ کر سکے۔ عرضی دہندہ نے "ایپسٹین فائلز" میں مبینہ طور پر ہندوستانی سیاسی و سماجی لیڈران کے نام سامنے آنے پر فکر ظاہر کیا ہے۔

عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مبینہ میٹنگوں اور رابطوں کے آفیشیل ریکارڈ منظرعام پر لائے جائیں۔ اس کے ساتھ ہی خاص طور سے ہردیپ سنگھ پوری کے ضمن میں ایڈمنسٹریٹو کارروائی کرتے ہوئے عہدہ سے ہٹانے جیسی ہدایت دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ دستاویزات میں مذکور باتیں الزامات اور دعووں کے طور پر پیش کی گئی ہیں۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد کسی کو قصوروار ٹھہرانا نہیں بلکہ ایک آزادانہ اور شفاف جانچ کرانا ہے۔ عرضی دہندہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس طرح کی جانچ آئین کے وقار، عوامی اخلاقیات اور قومی سیکورٹی یقینی بنانے کے لئے ضروری ہے۔ اب یہ دیکھنا ہوگا کہ سپریم کورٹ خط کی شکل میں داخل کی گئی اس عرضی پر کیا رخ اختیار کرتا ہے اور آگے کس طرح کی کارروائی ہوتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایپسٹین فائلز کیا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کی گئی گئی ہے کے نام

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے