چین کے شہر گوانگژو میں واقع گوانگژو سی ٹی ایف فنانشل سینٹر جدید تعمیراتی مہارت کا ایک شاندار نمونہ سمجھا جاتا ہے، مگر اس فلک بوس عمارت کو عالمی شہرت اس کی غیرمعمولی رفتار سے چلنے والی لفٹس نے دلائی ہے۔ یہ لفٹس دنیا کی تیز ترین لفٹس میں شمار کی جاتی ہیں اور دیکھنے والوں کو حیران کر دیتی ہیں۔

2016 میں مکمل ہونے والی یہ عمارت 530 میٹر کی بلندی رکھتی ہے۔ اس میں زمین سے اوپر 111 منزلیں اور زیرِ زمین پانچ منزلیں تعمیر کی گئی ہیں۔ اگرچہ عمارت کی بلندی اور ڈیزائن خود متاثر کن ہیں، لیکن عوامی توجہ کا اصل مرکز وہ ایکسپریس لفٹس ہیں جو گراؤنڈ فلور سے 95ویں منزل تک کا فاصلہ صرف 43 سیکنڈ میں طے کرلیتی ہیں۔

ان لفٹس کی تنصیب جاپانی کمپنی ہٹاچی نے کی ہے۔ عمارت میں مجموعی طور پر 95 لفٹس نصب ہیں، جن میں ڈبل ڈیکر، تیز رفتار اور درمیانی رفتار کی لفٹس شامل ہیں۔ تاہم سب سے زیادہ شہرت دو خصوصی لفٹس کو حاصل ہوئی جنہوں نے رفتار کا عالمی ریکارڈ قائم کیا۔

ان لفٹس کی زیادہ سے زیادہ رفتار 1200 میٹر فی منٹ ہے، جو تقریباً 72 کلومیٹر فی گھنٹہ کے برابر بنتی ہے۔ اس سے قبل تیز ترین لفٹ کا اعزاز تائی پے 101 کی عمارت کو حاصل تھا، مگر گوانگژو کی اس عمارت نے یہ اعزاز اپنے نام کر لیا۔

اتنی حیرت انگیز رفتار حاصل کرنا انجینئرنگ کے میدان میں ایک بڑا چیلنج تھا کیونکہ رفتار کے ساتھ مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانا بھی ناگزیر تھا۔ اسی مقصد کے لیے مستقل مقناطیسی موٹرز، ہلکے وزن کی ٹریکشن مشینیں اور ہوا کی مزاحمت کم کرنے کے لیے ایروڈائنامک کیبن ڈیزائن استعمال کیا گیا۔

ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جدید بریکنگ نظام نصب کیا گیا ہے۔ خصوصی بریک پیڈز اس قدر مضبوط ہیں کہ تیز رفتاری سے اچانک رکنے کے دوران پیدا ہونے والی تقریباً 300 ڈگری سینٹی گریڈ حرارت کو بھی برداشت کرسکتے ہیں۔ مزید برآں ایکٹیو گائیڈ رولرز ریل میں پیدا ہونے والی معمولی لرزش کو فوراً محسوس کرتے ہیں اور نظام خودکار طور پر جھٹکوں کو کم کر دیتا ہے، جس سے سفر نہایت ہموار رہتا ہے۔

اتنی بلندی پر تیزی سے پہنچنے کے دوران کانوں پر دباؤ پڑنا عام بات ہے، مگر ان لفٹس میں پریشرائزڈ کیبن نصب کیے گئے ہیں جو اندرونی ہوا کے دباؤ کو بتدریج تبدیل کرتے ہیں۔ یوں مسافر مختصر مگر سنسنی خیز سفر کے دوران بھی آرام دہ محسوس کرتے ہیں۔

یہ عمارت اور اس کی برق رفتار لفٹس جدید انجینئرنگ کی اس صلاحیت کی مثال ہیں جہاں رفتار، تحفظ اور آرام کو ایک ساتھ ممکن بنایا گیا ہے۔
 

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں

سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔

سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔

9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔

نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔

متعلقہ مضامین

  • گلشن اقبال میں تیز رفتار ڈمپر الٹ گیا، شہری معجزانہ طور پر محفوظ، مشتعل افراد کا کلینر پر تشدد
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا