نتین یاہو نے فلسطینیوں کی نسلی صفائی کا کام شروع کر دیا ہے، حماس
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
اپنے ایک جاری بیان میں حماس کا کہنا تھا کہ عالمی برادری، فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی، اراضی پر قبضے اور اس سرزمین کو یہودیانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کیلئے اقدامات کرے۔ اسلام ٹائمز۔ مغربی کنارے میں "نابلس" کے قریب واقع گاؤں "تلفیت" پر صیہونی آبادکاروں نے حملہ کر دیا۔ اس حملے میں کم از کم 54 فلسطینی زخمی اور املاک کو نقصان بھی پہنچا۔ واقعے کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے فلسطین کی مقاومتی تحریک "حماس" نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم "بنجمن نیتن یاہو" کی کابینہ، فلسطینی عوام کا نام و نشان مٹانے کے لئے کارروائیاں کر رہی ہے۔ حماس نے اس حملے کو مجرمانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ مقبوضہ مغربی کنارے میں جاری منظم دہشت گردانہ کارروائیوں کا تسلسل ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ نیتن یاہو کی کابینہ، مسلح آباد کاروں کو مکمل آزادی دے کر، ہماری عوام کے خلاف منظم طریقے سے نسلی تطہیر کی پالیسی پر عمل در آمد کر رہی ہے۔
حماس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں غاصب صیہونی آبادکاروں کے ان جرائم کی مذمت کرے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری، فلسطینیوں کی جبری نقل مکانی، اراضی پر قبضے اور اس سرزمین کو یہودیانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے اقدامات کرے۔ واضح رہے کہ آج صیہونی آباد کاروں اور قابض فوجیوں نے نابلس کے گاؤں تلفیت پر حملہ کر کے 54 فلسطینیوں کو زخمی کر دیا۔ اس کے علاوہ 10 گاڑیوں، 4 مکانات اور ایک بجلی پیدا کرنے والے جنریٹر کو نقصان بھی پہنچایا۔ اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دو سالوں کے دوران صیہونی آباد کاروں اور اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے مقبوضہ مغربی کنارے میں 1 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر دیا، جن میں 233 بچے بھی شامل ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کر دیا
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔