تقریباً 19 سال قبل پرتگال کے سیاحتی علاقے پرایا دا لوز سے لاپتا ہونے والی برطانوی بچی میڈلین میکین کا نام ایک بار پھر عالمی سطح پر زیرِ بحث آ گیا ہے، جب امریکی عدالت کی جانب سے جاری کردہ دستاویزات میں اس کا تذکرہ سامنے آیا ہے جو بدنام زمانہ مالیاتی مجرم جیفری ایپسٹین اور اس کی ساتھی گھیسلین میکسویل سے متعلق مقدمات کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی صحافی کی لاش سیپٹک ٹینک سے برآمد، معاملہ کیا ہے؟

امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے منظرِ عام پر لائی گئی ان دستاویزات میں لاکھوں صفحات پر مشتمل عدالتی ریکارڈ، گواہوں کے بیانات اور شواہد شامل ہیں۔ ان میں ایک 2009 کی تاریخ کا بیان بھی موجود ہے جس میں ایک نامعلوم گواہ نے ایک بچی کا ذکر کیا ہے جس کی مشابہت میڈلین میکین سے بتائی گئی ہے۔

حکام کے مطابق اس بیان کی بنیاد پر میڈلین کی گمشدگی کو ایپسٹین یا میکسویل کے نیٹ ورک سے جوڑنے کا کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں، اور نہ ہی اس انکشاف کے بعد کسی نئی تفتیش کا آغاز کیا گیا ہے۔ امریکی اور برطانوی حکام دونوں نے واضح کیا ہے کہ یہ محض ایک غیر تصدیق شدہ حوالہ ہے۔

دستاویز میں بتایا گیا ہے کہ ستمبر 2009 میں ایک شخص نے ایک سڑک پر چلتے ہوئے ایک عورت، ایک کم عمر لڑکی اور کچھ فاصلے پر ایک درمیانی عمر کے مرد کو دیکھا۔ گواہ کے مطابق لڑکی کی شکل میڈلین میکین سے ملتی جلتی تھی اور وہ مسلسل اپنے دائیں آنکھ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھی۔ یہ بات اس لیے قابلِ ذکر سمجھی جارہی ہے کہ میڈلین کی دائیں آنکھ میں پیدائشی طور پر ایک نمایاں نشان موجود تھا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں 11 سالہ بچے نےسمندری مخلوق کی 202 ملین سالہ پرانی باقیات دریافت کر لیں

گواہ نے بعد ازاں یہ مشاہدہ ایک ویب سائٹ پر رپورٹ کیا، جبکہ برسوں بعد اسے دوبارہ اس وقت یاد آیا جب گھیسلین میکسویل سے متعلق خبریں سامنے آئیں۔

یاد رہے کہ میڈلین میکین 3 مئی 2007 کو پرتگال میں اپنے اہلخانہ کے ہمراہ چھٹیاں گزارنے کے دوران لاپتا ہوئی تھیں۔ اس وقت ان کی عمر 3 سال تھی۔ والدین قریبی ریسٹورنٹ میں موجود تھے جبکہ میڈلین اور اس کے جڑواں بہن بھائی اپارٹمنٹ میں سورہے تھے۔

واقعے کے بعد عالمی سطح پر تلاش کی مہم شروع کی گئی، سرحدی اداروں کو الرٹ کیا گیا اور متعدد ممکنہ علاقوں میں چھان بین ہوئی، تاہم اب تک میڈلین کا کوئی حتمی پتا نہیں چل سکا۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ میں چاقو سے حملے میں 2 بچے ہلاک، 9 افراد زخمی

تازہ دستاویزات میں سامنے آنے والا ذکر اگرچہ سنسنی خیز ہے، مگر حکام کے مطابق اس سے کیس کی سمت میں کوئی باضابطہ تبدیلی نہیں آئی۔ میڈلین میکین کا معاملہ آج بھی جدید تاریخ کے سب سے پیچیدہ اور پراسرار لاپتا بچوں کے کیسز میں شمار ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکی عدالت برطانیہ جیفری ایپسٹین گھیسلین میکسویل لاپتا بچی میڈلین میکین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکی عدالت برطانیہ جیفری ایپسٹین لاپتا بچی

پڑھیں:

سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی

---فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے سارا انعام قتل کیس میں سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی سزا کے خلاف اپیل اور دیگر متعلقہ اپیلوں کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔ 

کیس کی سماعت جسٹس خادم حسین سومرو اور جسٹس محمد آصف نے کی، مجرم کی والدہ ثمینہ شاہ کی بریت کے خلاف درخواست بھی زیرِ سماعت آئی۔

سماعت کے دوران شاہنواز امیر کی جانب سے وکیل چوہدری عبدالعزیز جبکہ مقتولہ سارا انعام کے والد کی جانب سے رضوان عباسی عدالت میں پیش ہوئے۔

سارا انعام قتل کیس: سزا یافتہ مجرم شاہنواز امیر کی والدہ کی بریت کیخلاف اپیل میں نوٹس جاری

جسٹس ارباب محمد طاہر اور جسٹس انعام امین منہاس نے کیس کی سماعت کی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے استفسار کیا کہ کیا فریقین دلائل کے لیے تیار ہیں جس پر دونوں جانب کے وکلا نے آمادگی ظاہر کی، بعد ازاں وکیل چوہدری عبدالعزیز نے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ایف آئی آر کا متن پڑھا۔

وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ اس مقدمے میں ایاز امیر ابتدا ہی میں کیس سے ڈسچارج ہو گئے تھے اور اس حکم کو کسی فورم پر چیلنج نہیں کیا گیا۔ 

انہوں نے بتایا کہ ثمینہ شاہ کو بھی ٹرائل کورٹ نے عدم شواہد کی بنیاد پر بری کیا تھا تاہم اس وقت ان کے وکیل عدالت میں موجود نہیں تھے۔

عدالت نے آئندہ تاریخ کے حوالے سے فریقین سے رائے طلب کی جس پر رضوان عباسی نے سماعت آئندہ ہفتے یا موسم گرما کی تعطیلات کے بعد مقرر کرنے کی استدعا کی۔ 

سارہ انعام قتل کیس، مرکزی ملزم شاہنواز امیر اور والدہ پر فرد جرم عائد

اسلام آباداسلام آباد کی مقامی عدالت نے سارہ...

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی کر دی۔

واضح رہے کہ ستمبر 2022ء میں سارا انعام کو ان کے شوہر شاہنواز امیر نے قتل کر دیا تھا جبکہ ٹرائل کورٹ شاہنواز امیر کو سزائے موت سنا چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • سارا انعام قتل کیس: شاہنواز امیر کی اپیلوں پر سماعت موسم گرما کی تعطیلات کے بعد تک ملتوی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد