لکی مروت میں فتنہ الخوارج کا ڈرون حملہ، 2 پولیس اہلکار زخمی
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت میں فتنہ الخوارج کی جانب سے کواڈ کاپٹر (ڈرون) کے ذریعے پولیس پر حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2 اہلکار زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طبی امداد دیتے ہوئے اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے دونوں کی حالت خطرے سے باہر قرار دی۔
واقعے کے بعد بنوں ریجن کے ڈی آئی جی سجاد خان کی ہدایات پر لکی مروت پولیس، امن کمیٹی اور بنوں پولیس کی بھاری نفری نے بکتر بند گاڑیوں کے ہمراہ جائے وقوع پر پہنچ کر علاقے میں سرچ اینڈ کلیئرنس آپریشن شروع کر دیا۔
پولیس حکام کے مطابق کارروائی کے دوران مؤثر حکمت عملی اپناتے ہوئے حملہ آوروں کا ایک کواڈ کاپٹر مار گرایا گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کا جدید ڈرون فضا میں بلند ہوتے ہی دہشت گردوں کے ڈرون پسپا ہوگئے۔ جوابی کارروائی میں متعدد حملہ آوروں کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔