خیبر پختونخوا حکومت کے فنڈز سے 3 کروڑ 84 لاکھ 52 ہزار 800 روپے مبینہ طور پر فراڈ کے ذریعے نکلوانے کا انکشاف ہوا ہے۔

محکمہ خزانہ کے مطابق ایبٹ آباد بلڈنگ ڈویژن کے ایس ڈی او اور ایکسین کے مبینہ جعلی دستخطوں والا چیک بینک میں پیش کیا گیا، جسے لازمی پری آڈٹ اور ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس کی کلیئرنس کے بغیر پراسیس کر لیا گیا۔

محکمہ خزانہ خیبر پختونخوا کے مطابق مذکورہ رقم نیشنل بینک سے کلیئر ہوکر فیصل بینک ایبٹ آباد منتقل کی گئی جبکہ بینکوں کے تصدیقی عمل اور احتیاطی تقاضے مکمل نہ ہونے کے باعث یہ لین دین ممکن ہوا۔

بروقت کارروائی کرتے ہوئے تقریباً 4 کروڑ روپے منجمد کر دیے گئے، جس سے قومی خزانے کو بڑے نقصان سے بچا لیا گیا۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ سرکاری مالیاتی طریقہ کار سے ہٹ کر اور محکمہ خزانہ کی اجازت کے بغیر انجام دیا گیا۔

ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر ایبٹ آباد سردار آفتاب کو فوری طور پر رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ دفتر کا چارج ڈویژنل اکاؤنٹس آفیسر کے سپرد کر کے ریکارڈ محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔

محکمہ خزانہ نے ذمے داروں کے تعین کے لیے باقاعدہ فیکٹ فائنڈنگ انکوائری شروع کر دی ہے اور تمام اضلاع و محکموں کو ہدایت کی ہے کہ مالیاتی کنٹرول، پری آڈٹ اور ٹریژری تصدیق کے عمل کو سختی سے یقینی بنایا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

پڑھیں:

پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز

اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔

دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • اے جی پی آر کا کلیمز جمع کرانے کی آخری تاریخ کا اعلان
  • محسن نقوی سے فیصل کریم کنڈی کی ملاقات، سکیورٹی چیلنجز سے آگاہ کیا
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • راولپنڈی: سہیل آفریدی کے قافلے کو پولیس نے فیکٹری ناکے پر روک دیا
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا