بنگلادیش کے ممکنہ وزیراعظم؛ 18ماہ قید اور 17 سال جلاوطنی کاٹنے والے طارق رحمان کون ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
بنگلا دیش نیشنلسٹ پارٹی (BNP) کی انتخابی دنگل میں نمایاں کامیابی کے بعد اس کے چیئرمین طارق رحمان ملک کے ممکنہ وزیراعظم کے مضبوط امیدوار بن گئے ہیں۔
مقامی میڈیا کے مطابق بنگلادیش نیشلسٹ پارٹی کے رہنما امیر خسرو محمود چوہدری نے بتایا کہ حکومت بننے کی صورت میں وزارت عظمیٰ کے لیے طارق رحمان ہی ہمارے واحد امیدوار ہوں گے۔
طارق رحمان کی والدہ سابق وزیرِاعظم خالدہ ضیا تھیں جو طویل قید کاٹنے کے بعد حسینہ واجد کے فرار ہونے کے بعد رہا ہوئین لیکن بیماری کے باعث حال ہی انتقال کرگئی تھیں۔
طارق رحمان کے والد ضیا الرحمان فوجی افسر ہونے کے علاوہ ملک کے سابق صدر بھی تھے اور بنگلادیش کے بانیوں میں شمار ہوتے تھے۔
60 سالہ طارق رحمان نے اس سیاسی خانوادے سے تعلق کی بنیاد پر جیل کی صوبتیں بھی برداشت کیں اور حکومتی عہدے بھی حاصل کیے۔
وہ 2007 میں حسینہ واجد کے دور میں کرپشن الزامات پر گرفتار ہوئے اور تقریباً 18 ماہ جیل میں گزارے۔
بعد ازاں 2008 میں رہائی کے بعد وہ لندن منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے تقریباً 17 سال جلاوطنی میں گزارے۔
اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سیاسی حالات تبدیل ہوئے اور طارق رحمان دسمبر 2025 میں ڈھاکا واپس آئے۔
تاہم ان کی والدہ خالدہ ضیا وفات پاگئیں اور جنوری 2026 میں انہیں باضابطہ طور پر بی این پی کا چیئرمین مقرر کر دیا گیا۔
جماعت میں کردار اور قیادت
اگرچہ وہ ملک سے باہر تھے، تاہم 2018 میں خالدہ ضیا کی قید کے بعد وہ قائم مقام چیئرمین کے طور پر پارٹی کی قیادت کرتے رہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق انہوں نے بیرونِ ملک رہتے ہوئے بھی پارٹی کو متحد رکھا اور تنظیمی ڈھانچہ برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
تنازعات اور الزامات
طارق رحمان پر ماضی میں کرپشن اور 2004 میں شیخ حسینہ کے جلسے پر دستی بم حملے سے متعلق مقدمات قائم ہوئے، جن میں انہیں سزائیں بھی سنائی گئیں۔
تاہم بعد ازاں سیاسی تبدیلیوں کے بعد وہ ان مقدمات سے بری ہو گئے۔ بی این پی کا مؤقف ہے کہ یہ مقدمات سیاسی انتقام کا نتیجہ تھے۔
ان کی تعلیمی قابلیت بھی موضوعِ بحث رہی ہے۔ الیکشن کمیشن میں جمع کرائے گئے حلف نامے کے مطابق ان کی تعلیم ’اعلیٰ ثانوی‘ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے بعد
پڑھیں:
مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔
پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔
آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟
ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔
الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔
الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔
ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔
گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔