عدالت عظمیٰ:عمران خان کے6مقدمات سماعت کے لیےمقرر
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-e-type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد:عدالت عظمیٰ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے 6 کیسز، بشریٰ بی بی اور شاہ محمود قریشی کے ایک ایک کیس کو سماعت کے لیے مقرر کرلیا۔
رجسٹرارعدالت عظمیٰ کی جانب سے جاری روسٹر کے مطابق مقدمات کی سماعت کی لیے جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔
جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم بھی بنچ کا حصہ ہیں۔رجسٹرار کے مطابق بانی پی ٹی آئی کے 6، بشریٰ بی بی اور شاہ محمود قریشی کے 1،1 کیس پر 18 فروری کو سماعت ہوگی۔
جن کیسز کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ان میں توشہ خانہ فوج داری کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزا معطل کرنے کی درخواست بھی ہے۔
علاوہ ازیں بانی تحریک انصاف کی ضمانت کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل کو سماعت کے لیے مقرر کرلیا گیا جبکہ بشریٰ بی بی کی ضمانت کے خلاف پنجاب حکومت کی اپیل سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
سائفر کیس میں بانی اورشاہ محمود قریشی کی بریت کے خلاف اپیل، 9 مئی لاہور مقدمات میں بانی کی ضمانت کے خلاف سرکاری درخواست اور ہتک عزت کیس میں شہباز شریف کے خلاف بانی کی اپیلوں کو سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کو سماعت کے لیے مقرر کے خلاف
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔