امریکا؛ خالصتان رہنما کو قتل کرنے کی سازش پر بھارتی شہری نے جرم قبول کرلیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, February 2026 GMT
بھارتی شہری نکھل گپتا نے مین ہیٹن کی وفاقی عدالت میں سکھ علیحدگی پسند رہنما کو قتل کرنے کی سازش پر اپنے خلاف عائد تمام الزامات قبول کرلیے۔
امریکی استغاثہ کے مطابق نکھل گپتا پر الزام تھا کہ انھوں نے نیویارک میں مقیم سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو قتل کرنے کی سازش تیار کی تھے۔
پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ سکھ رہنما کے قتل کی ہدایات بھارتی حکومت کے ایک اہم اہلکار کی جانب سے دی گئی تھیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق نکھل گپتا پر کرائے کے قاتل کے ذریعے قتل کی کوشش اور سازش کے دو الزامات عائد تھے۔
جس وقت یہ الزام سامنے آیا تھا، مودی سرکار نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے بے بنیاد قرار دیا تھا۔
تاہم اب گرفتار بھارتی شہری نے وفاقی عدالت میں پیش ہو کر تینوں الزامات قتل کی سازش تیار کرنا، کرائے کے قاتل سے ساز باز اور منی لانڈرنگ کا اعتراف کرلیا۔
استغاثہ کا اندازہ ہے کہ سنگین جرائم کے اعتراف پر وفاقی قوانین کے تحت بھارتی شہری نکھل گپتا کو تقریباً 40 برس تک قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
یاد رہے کہ نکھل گپتا کو 2024 میں امریکا کے حوالے کیا گیا تھا تاکہ وہ اس مقدمے کا سامنا کریں۔
امریکی حکام کے مطابق یہ کیس عالمی سطح پر سکھ برادری کے خلاف مبینہ حملوں اور دھمکیوں کے ایک وسیع تر پس منظر سے جڑا ہوا ہے جس پر واشنگٹن میں تشویش پائی جاتی رہی ہے۔
یہ معاملہ امریکا اور بھارت کے درمیان سفارتی سطح پر بھی حساسیت اختیار کر چکا ہے۔ مزید تفصیلات اور عدالتی کارروائی سے متعلق پیش رفت آئندہ دنوں میں متوقع ہے۔
خیال رہے کہ قتل کی سازش بروقت پکڑے جانے کے باعث زندہ بچ جانے والے سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں نیویارک میں قائم تنظیم سکھس فار جسٹس کے رہنما ہیں۔
وہ امریکی شہری ہیں اور بھارتی ریاست پنجاب کی آزادی کے حامی سمجھے جاتے ہیں جب کہ طویل عرصے سے خالصتان تحریک سے متعلق سرگرمیوں میں نمایاں کردار بھی ادا کر رہے ہیں۔
سکھ رہنما قتل سازش کیس کی تفصیلات
بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق نکھل گپتا کو جون 2023 میں چیک جمہوریہ سے گرفتار کرکے امریکا کے حوالے کیا گیا تھا جہاں اس پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ نکھل گپتا ایک بزنس مین ہے جو کئی ممالک میں فضائی سفر کرتا رہتا ہے اور اسے بھارتی انٹیلیجنس آفیسر آکاش یادیو نے سکھ رہنما کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا تھا۔
تاجر نکھل گپتا پر بھارت میں دھوکہ دہی سمیت متعدد مقدمات تھے جن سے بری کرانے کی یقین دہانی بھارتی انٹیلی جنس ادارے را سے منسلک آفیسر آکاش یادیو نے کرائی تھی۔
آکاش یادیو نے نکھل یادیو سے کہا تھا وہ بس ایک سکھ رہنما کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل کرے۔ تاہم امریکی انٹیلی جنس کو خبر ہوگئی تھی اور سکھ رہنما محفوظ رہے۔
بلومبرگ کے بقول عدالت دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ نکھل گپتا اور یادو نے نیپال اور پاکستان میں ایک اور ہدف کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی تھی۔
نکھل گپتا اور یادو کا تعلق 2023 میں کینیڈا میں خالصتان کے سرگرم کارکن ہردیپ سنگھ نجر کے قتل سے بھی ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق گروپت ونت سنگھ اور ہردیپ سنگھ نجر کینیڈا اور امریکا میں خالصتان تحریک کے ساتھی اور نمائندہ چہرے تھے۔
امریکی استغاثہ نے جو شواہد عدالت میں جمع کرائے ہیں ان میں نکھل گپتا اور یادو کے درمیان سیکڑوں واٹس ایپ پیغامات اور ای میلز شامل ہیں۔
بلومبرگ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ملزمان کے ان موبائل پیغامات میں ہدف، ہتھیاروں کی فراہمی اور منصوبہ بندی پر بات چیت ہوئی۔
بلومبرگ کے مطابق بھارت نے بھی اعتراف کیا تھا کہ اس کے ایجنٹ ممکنہ طور پر امریکا میں قتل کی کوشش کی سازش میں ملوث ہو سکتے ہیں اور ایک فرد کو را سے برطرف کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مودی سرکار کی اس دراندازی اور دہشت گرد کارروائیوں سے پاکستان، نیپال، امریکا اور کینیڈا کے ساتھ بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھی سوالات اٹھا رہے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: رہنما کو قتل کرنے کو قتل کرنے کی بھارتی شہری نکھل گپتا سکھ رہنما کے مطابق کیا گیا کی سازش قتل کی
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔