بھارتی شہری نکھل گپتا کا گرپتونت سنگھ کے قتل کی سازش کا اعتراف
اشاعت کی تاریخ: 13th, February 2026 GMT
سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں۔فوٹو: فائل
بھارتی شہری نکھل گپتا نے سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قتل کی سازش کا اعتراف کرلیا۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق نکھل گپتا نے نیو یارک میں فیڈرل کورٹ میں سماعت کے دوران جرم قبول کیا۔
نکھل گپتا کو جون 2023 میں چیک ریپبلک سے گرفتار کیا گیا تھا، جسے بعد میں امریکا ڈی پورٹ کیا گیا۔ امریکی شہری گرپتونت سنگھ پنوں کو امریکا میں قتل کرنے کی سازش بے نقاب ہونے سے امریکا اور بھارت کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے بھارت دہشت گردوں کے ذریعے پاکستان میں امریکی سرمایہ کاری کو روکنا چاہتا ہے، گرپتونت سنگھ ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور گرپتونت سنگھ پنوں کے نیویارک میں قتل کی سازش سے متعلق نئے حقائقمیڈیا رپورٹ کے مطابق سکھ رہنما گرپتونت سنگھ پنوں خالصتان کے قیام کے لئے سرگرم ہیں۔
پراسیکیوٹر کا کہنا ہے کہ نکھل گپتا بھارتی حکومت کے تحت کام کرنے والے اس گروپ کا حصہ تھا جو اوورسیز علیحدگی پسند سکھوں کا نشانہ بناتا۔
رپورٹ کے مطابق جون 2023 میں کینیڈا کے ایک گوردوارہ کے باہر خالصتان تحریک کے رہنما ہردیپ سنگھ نجر کو قتل کردیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: گرپتونت سنگھ پنوں کی سازش
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان